Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ahmad Mahfuz's Photo'

احمد محفوظ

1966 | دلی, انڈیا

معروف ناقد اور شاعر، میر تقی میر پر اپنی تنقیدی تحریروں کے لیے معروف، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبۂ اردو سے وابستہ

معروف ناقد اور شاعر، میر تقی میر پر اپنی تنقیدی تحریروں کے لیے معروف، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبۂ اردو سے وابستہ

احمد محفوظ کے اشعار

1.9K
Favorite

باعتبار

سنا ہے شہر کا نقشہ بدل گیا محفوظؔ

تو چل کے ہم بھی ذرا اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

اس سے ملنا اور بچھڑنا دیر تک پھر سوچنا

کتنی دشواری کے ساتھ آئے تھے آسانی میں ہم

گم شدہ میں ہوں تو ہر سمت بھی گم ہے مجھ میں

دیکھتا ہوں وہ کدھر ڈھونڈنے جاتا ہے مجھے

جو نہ کرنا ہو وہی کام تمہارے لیے ہے

میرے حصے کا بھی آرام تمہارے لیے ہے

کہاں کسی کو تھی فرصت فضول باتوں کی

تمام رات وہاں ذکر بس تمہارا تھا

بچھڑ کے خاک ہوئے ہم تو کیا ذرا دیکھو

غبار جا کے اسی کارواں سے ملتا ہے

اسے یہ ضد تھی کہ پھر اس کا تذکرہ ہوتا

میں چپ رہا کہ وہ قصہ پرانا ہو گیا تھا

کیا تماشا ہے کہ آوارہ پھراتی ہے مجھے

اک تمنا کہ مرے زیر اثر کوئی ہو

یوں تو بہت ہے مشکل بند قبا کا کھلنا

جو کھل گیا تو پھر یہ عقدہ کھلا رہے گا

تشریح

شعر جب لفظی یا معنوی پیچیدگی کے سبب قاری کے ذہن میں کوئی سوال یا کئی سولات پیدا کرے تو سمجھنا چاہیے کہ کوئی چیز اس میں ایسی ہے جس کے بارے میں سنجیدہ غوروفکر کا تقاضا ہورہا ہے۔ زیر بحث شعر کی پہلی قرآت میں بظاہر کوئی پیچیدگی نظر نہیں آتی کیونکہ شعر کا بیانیہ بالکل صاف ہے کہ یوں تو بندِ قبا کا کھلنا بہت مشکل ہے لیکن اگر یہ کھلا تو یہ عقدہ کھلا ہی رہے گا۔ لیکن چونکہ اس میں ابہام کی کئی صورتیں نظر آتی ہیں اس لیے شعر کے کئی اجزا پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ’’یوں تو‘‘، ’’یہ‘‘، ’’ عقدہ کھلا رہے گا‘‘ وغیرہ۔ شعر پر مزید گفتگو کرنے سے پہلے اس کی لغات پر روشنی ڈالتے ہیں۔

(۱) مشکل: پوشیدہ و پنہاں و مشتبہ۔ کارِ پوشیدہ و مشتبہ۔(آنند راج)(۲) کھلنا: ظاہر ہونا۔(۳) بند: تنگ، پوشیدہ۔(۴) کھلا: اعلانیہ۔(۵) عقدہ: گرہ، گانٹھ، مشکل بات، فشار، بکھیڑا۔

اب شعر کی مناسبتوں پر غور کیجیے۔ پہلی مناسبت مشکل بمعنی پوشیدہ، پنہاںو مشتبہ اور کھلنا بمعنی ظاہر ہونے میں۔ دوسری مناسبت بند بمعنی پوشیدہ اور عقدہ کھلا( کھلا بمعنی اعلانیہ) میں۔ تیسری مناسبت مشکل بمعنی پوشیدہ اور عقدہ بمعنی مشکل بات میں ہے۔ ان حیران کن مناسبتوں میں شعر کے کئی مفاہیم پوشیدہ ہیں۔ اس طور سے شعر معنی آفرینی سے ترقی کرکے خیال بندی کا درجہ حاصل کرتا ہے۔ اگرچہ خیال پیچیدہ ہے مگر تلازمات سے لطف پیدا کیا گیا ہے۔

پھر یہ بھی ہے کہ بندِ قبا اور عقدہ کھلنے کے تضاد نے معنوی امکانات کو اور وسیع بنا دیا ہے۔ ’’یوں تو‘‘ کنایہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔ گویا شاعر براہِ راست نہیں کہتا کہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے مگر مطلب کہنے کا وہی ہے۔ ’’ یوں تو‘‘ کی رعایت سےدوسرے مصرعے میں ’’لیکن‘‘ برتا ہے جس سے انتباہ اور مایوسی دونوں کی رمزیہ صورت نکل آتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بندِ قبا کا کھلنا کیوں دشوار ہے؟ اور اگر یہ کھلا تو کیسے کھلے گا؟ یہ سوال تو خیر ہے ہی کہ کس کے بندِ قبا کے کھلنے کی بات ہورہی ہے؟ یہ ضروری نہیں کہ کسی شعر کی پیچیدگیوں کے حل کےواسطے اس کے متن کے داخلی عناصر پر ہی اکتفا کیا جائے بلکہ کبھی کبھی بیرونی حوالے بھی مشکل کشائی کا سبب بنتے ہیں کہ متون کے مابین ضرور رشتہ ہوتا ہے۔ میرؔ کا یہ شعر لیجیے:؎

تھے چاک گریبان گلستاں میں گلوں کے

نکلا ہے مگر کھولے ہوئے بندِ قبا تُو

یعنی تیرے بندِ قبا کے کھلنے سے گلوں کے گریبان چاک ہوئے۔ گریبان چاک ہونے کو دو چیزوں پر محمول کیا جاسکتا ہے ۔ ایک یہ کہ محبوب کے بندِ قبا کے کھلنے سے پھولوں نے کھلنے کی ترغیب پائی۔ دوسرا یہ کہ محبوب کے بندِ قبا کو کھلا دیکھ کر پھولوں پر جنون طاری ہوا اور انہوں نے اپنے گریبان چاک کیے۔ کچھ ایسی ہی صورت زیرِ بحث شعر کی ہے ۔ اگر چہ شعر میں واضح نہیں کہ قبا پوش کون ہے تاہم قبا پوش کو محبوب فرض کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ایسا نہیں کہ محبوب کو شعر سے خارج کرنے سے شعر کے مفہوم میں کوئی کمی واقع ہوجائے گی بلکہ اس صورت میں وہ ابہام برقرار رہے گا جس کا التزام شاعر نے کیا ہے اور جس سے معنی وسیع ہوجاتے ہیں۔ بندِ قبا کا کھلنا کیوں مشکل ہے؟ اس سوال پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ بندِ قبا کا کھلنا ایک کارِ پوشیدہ و مشتبہ ہے لہٰذا اس کے نہ کھلنے کا ایک اہم جواز نکلتا ہے۔ اگر یہ کارِ پوشیدہ ہے تو اس کو انجام دینے کی کیا سبیل فرض کی جاسکتی ہے۔ کون سا عقدہ کھلےگا؟ بندِ قبا جو خود ایک عقدہ ہے۔ یا پھر عقدہ بمعنی فشار یا بکھیڑا؟

اب ان سوالات کے تناطر میں شعر کے امکانی مفہوم ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلی صورت یہ کہ بندِ قبا کا کھلنا چونکہ خود ایک مشتبہ عمل ہے یا کارِ پوشیدہ ہے لہٰذا جو مشتبہ ہونے کے ساتھ ساتھ پوشیدہ(جو نظر نہ آئے) ہو، اس کو کھولنا کارِ دارد والا معاملہ ہے۔ اور اگر بالفرض محال یہ کھل بھی گیا تو اس کے کھلنے سے ایسا فشار یا بکھیڑا پیدا ہوگا جس کے ختم ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ یعنی بقولِ میرؔ: ؎

یار ہمارا آساں کیا کچھ سینہ کشادہ ہم سے ملا

خون کریں ہیں جب دل کو وے بند قبا کے کھولیں ہیں

’’یہ عقدہ‘‘ سے مطلب وہ فشار جو بندِ قبا کے کھلنے سے وجود میں آئے گا۔ اب میر ؔ کے شعر ’’تھے چاک گریبان‘‘ کی طرف رجوع کریں۔ یعنی محبوب کی قبا کا بند کھلتے ہی عشاق دائمی جنون میں مبتلا ہوجائیں گے اور محبوب کی قبا کا بندکھلا دیکھ کر اپنے گریبان چاک کریں گے۔ جنون کے اثر میں گریبان چاک کرنا ہی بکھیڑا اور فشار ہے۔ عارفانہ نقطۂ نظر سے غور کرنے پر یہ مفہوم برآمد ہوتا ہے کہ دنیا اور موجودات اور حیات کے اسرارِ سربستہ سے پردہ اٹھنا محال ہے لیکن کسی طرح سے اگر یہ پردہ اٹھ گیا تو دنیا میں ایک ایسا بکھیڑا کھڑا ہوگا جس کے ختم ہونے کی کوئی صورت نہیں۔

شفق سوپوری

نہیں آسماں تری چال میں نہیں آؤں گا

میں پلٹ کے اب کسی حال میں نہیں آؤں گا

ہم کو آوارگی کس دشت میں لائی ہے کہ اب

کوئی امکاں ہی نہیں لوٹ کے گھر جانے کا

اسے بھلایا تو اپنا خیال بھی نہ رہا

کہ میرا سارا اثاثہ اسی مکان میں تھا

یہیں گم ہوا تھا کئی بار میں

یہ رستہ ہے سب میرا دیکھا ہوا

اب اس مکاں میں نیا کوئی در نہیں کرنا

یہ کام سہل بہت ہے مگر نہیں کرنا

شاید کہ رہائی ہو گل ہی کی ضمانت پر

ہم موج تبسم کی زنجیر کے قیدی ہیں

دیکھنا ہی جو شرط ٹھہری ہے

پھر تو آنکھوں میں کوئی منظر ہو

کسی سے کیا کہیں سنیں اگر غبار ہو گئے

ہمیں ہوا کی زد میں تھے ہمیں شکار ہو گئے

ملنے دیا نہ اس سے ہمیں جس خیال نے

سوچا تو اس خیال سے صدمہ بہت ہوا

تم ابھی ترک رفاقت کا ارادہ نہ کرو

اس کے آگے بھی تو ممکن ہے خبر کوئی ہو

آتے آتے آئے گا ان کا خیال

جاتے جاتے بے خیالی جائے گی

تاریکی کے رات عذاب ہی کیا کم تھے

دن نکلا تو سورج بھی سفاک ہوا

رات ہوا طوفانی ہوگی

ساتھ رہو آسانی ہوگی

مری ابتدا مری انتہا کہیں اور ہے

میں شمارۂ مہ و سال میں نہیں آؤں گا

دامن کو ذرا جھٹک تو دیکھو

دنیا ہے کچھ اور شے نہیں ہے

یہ شغل زبانی بھی بے صرفہ نہیں آخر

سو بات بناتا ہوں اک بات بنانے کو

یہ جو دھواں دھواں سا ہے دشت گماں کے آس پاس

کیا کوئی آگ بجھ گئی سرحد جاں کے آس پاس

دل نے لگا دیا ہے جو اک کام سے مجھے

ہر دم لڑائی رہتی ہے آرام سے مجھے

جانتا ہوں ان دنوں کیسا ہے دریا کا مزاج

اس لیے ساحل سے تھوڑا فاصلہ رکھتا ہوں میں

زخموں کو اشک خوں سے سیراب کر رہا ہوں

اب اور بھی تمہارا چہرہ کھلا رہے گا

ذہن پر زور بھی ڈالو تو نہ یاد آؤں میں

اس طرح پردۂ نسیاں میں چھپا لو مجھ کو

رات سرگوشیاں بھی کرتی ہے

کان کھولو کبھی اندھیرے میں

چڑھا ہوا تھا وہ دریا اگر ہمارے لیے

تو دیکھتے ہی رہے کیوں اتر نہیں گئے ہم

دل میں مرے کچھ اور تھا لیکن کہا کچھ اور

اچھا ہوا کچھ اور سے سمجھا گیا کچھ اور

دیکھیے اب کے الجھتا ہے تو کیا کرتا ہے وہ

اس کے آگے پھر نیا اک مسئلہ رکھتا ہوں میں

یہ کیسا خوں ہے کہ بہہ رہا ہے نہ جم رہا ہے

یہ رنگ دیکھوں کہ دل جگر کا فشار دیکھوں

شور حریم ذات میں آخر اٹھا کیوں

اندر دیکھا جائے کہ باہر دیکھا جائے

جانے کیا بات تھی اندھیرے میں

روشنی سی رہی اندھیرے میں

اپنے ہی عکس کا چکر تو نہیں چاروں طرف

کہ نظر آتے ہیں اب خود کو ہمیں چاروں طرف

تیری اک بات نکالی تھی کہ رات

کتنے ہی باتوں کے پہلو نکلے

کیا مصیبت ہاتھ خالی جائے گی

جان لے کر ہی یہ سالی جائے گی

خوش ہوئے اتنے کہ ہم سے پہلے

مقدم یار کو آنسو نکلے

Recitation

بولیے