ریاضؔ خیرآبادی کے اشعار
غم مجھے دیتے ہو اوروں کی خوشی کے واسطے
کیوں برے بنتے ہو تم ناحق کسی کے واسطے
مہندی لگائے بیٹھے ہیں کچھ اس ادا سے وہ
مٹھی میں ان کی دے دے کوئی دل نکال کے
بچ جائے جوانی میں جو دنیا کی ہوا سے
ہوتا ہے فرشتہ کوئی انساں نہیں ہوتا
دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں
رونے والوں سے ہنسی اچھی نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
سنا ہے ریاضؔ اپنی داڑھی بڑھا کر
بڑھاپے میں اللہ والے ہوئے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دیکھئے گا سنبھل کر آئینہ
سامنا آج ہے مقابل کا
مے خانے میں کیوں یاد خدا ہوتی ہے اکثر
مسجد میں تو ذکر مے و مینا نہیں ہوتا
اچھی پی لی خراب پی لی
جیسی پائی شراب پی لی
-
موضوع : شراب
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جام ہے توبہ شکن توبہ مری جام شکن
سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے
-
موضوع : توبہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
گھر میں دس ہوں تو یہ رونق نہیں ہوگی گھر میں
ایک دیوانے سے آباد ہے صحرا کیسا
اللہ رے نازکی کہ جواب سلام میں
ہاتھ اس کا اٹھ کے رہ گیا مہندی کے بوجھ سے
مے خانے میں مزار ہمارا اگر بنا
دنیا یہی کہے گی کہ جنت میں گھر بنا
ایسی ہی انتظار میں لذت اگر نہ ہو
تو دو گھڑی فراق میں اپنی بسر نہ ہو
مفلسوں کی زندگی کا ذکر کیا
مفلسی کی موت بھی اچھی نہیں
-
موضوع : مفلسی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بھر بھر کے جام بزم میں چھلکائے جاتے ہیں
ہم ان میں ہیں جو دور سے ترسائے جاتے ہیں
اتنی پی ہے کہ بعد توبہ بھی
بے پیے بے خودی سی رہتی ہے
ہم بند کیے آنکھ تصور میں پڑے ہیں
ایسے میں کوئی چھم سے جو آ جائے تو کیا ہو
روتے جو آئے تھے رلا کے گئے
ابتدا انتہا کو روتے ہیں
آپ آئے تو خیال دل ناشاد آیا
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
غرور بھی جو کروں میں تو عاجزی ہو جائے
خودی میں لطف وہ آئے کہ بے خودی ہو جائے
-
موضوع : عاجزی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دھوکے سے پلا دی تھی اسے بھی کوئی دو گھونٹ
پہلے سے بہت نرم ہے واعظ کی زباں اب
ہماری آنکھوں میں آؤ تو ہم دکھائیں تمہیں
ادا تمہاری جو تم بھی کہو کہ ہاں کچھ ہے
میرے آغوش میں یوں ہی کبھی آ جا تو بھی
جس ادا سے تری آنکھوں میں حیا آئی ہے
ڈر ہے نہ دوپٹہ کہیں سینے سے سرک جائے
پنکھا بھی ہمیں پاس سے جھلنے نہیں دیتے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آباد کریں بادہ کش اللہ کا گھر آج
دن جمعہ کا ہے بند ہے مے خانہ کا در آج
مر گئے پھر بھی تعلق ہے یہ مے خانے سے
میرے حصے کی چھلک جاتی ہے پیمانے سے
وہ پوچھتے ہیں شوق تجھے ہے وصال کا
منہ چوم لوں جواب یہ ہے اس سوال کا
کیا شکل ہے وصل میں کسی کی
تصویر ہیں اپنی بے بسی کی
-
موضوع : بےبسی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خواب میں بھی تو نظر بھر کے نہ دیکھا ان کو
یہ بھی آداب محبت کو گوارا نہ ہوا
شیخ جی گر گئے تھے حوض میں میخانے کے
ڈوب کر چشمۂ کوثر کے کنارے نکلے
پاؤں تو ان حسینوں کا منہ چوم لوں ریاضؔ
آج ان کی گالیوں نے بڑا ہی مزا دیا
آگے کچھ بڑھ کر ملے گی مسجد جامع ریاضؔ
اک ذرا مڑ جائیے گا میکدے کے در سے آپ
کیا مزا دیتی ہے بجلی کی چمک مجھ کو ریاضؔ
مجھ سے لپٹے ہیں مرے نام سے ڈرنے والے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ڈراتا ہے ہمیں محشر سے تو واعظ ارے جا بھی
یہ ہنگامے تو ہم نے روز کوئے یار میں دیکھے
کچھ بھی ہو ریاضؔ آنکھ میں آنسو نہیں آتے
مجھ کو تو کسی بات کا اب غم نہیں ہوتا
کسی کا ہنس کے کہنا موت کیوں آنے لگی تم کو
یہ جتنے چاہنے والے ہیں سب بے موت مرتے ہیں
نجد میں کیا قیس کا ہے عرس آج
ننگے ننگے جمع ہیں حمام میں
وصل کی رات کے سوا کوئی شام
ساتھ لے کر سحر نہیں آتی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آفت ہماری جان کو ہے بے قرار دل
یہ حال ہے کہ سینے میں جیسے ہزار دل
کوئی منہ چوم لے گا اس نہیں پر
شکن رہ جائے گی یوں ہی جبیں پر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
چھپتا نہیں چھپانے سے عالم ابھار کا
آنچل کی تہہ سے دیکھ نمودار کیا ہوا
اہل حرم سے کہہ دو کہ بگڑی نہیں ہے بات
سب رند جانتے ہیں ابھی پارسا مجھے
خدا کے ہاتھ ہے بکنا نہ بکنا مے کا اے ساقی
برابر مسجد جامع کے ہم نے اب دکاں رکھ دی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نہ آیا ہمیں عشق کرنا نہ آیا
مرے عمر بھر اور مرنا نہ آیا
کیا شراب ناب نے پستی سے پایا ہے عروج
سر چڑھی ہے حلق سے نیچے اتر جانے کے بعد
قدر مجھ رند کی تجھ کو نہیں اے پیر مغاں
توبہ کر لوں تو کبھی مے کدہ آباد نہ ہو
ہم جانتے ہیں لطف تقاضائے مے فروش
وہ نقد میں کہاں جو مزا ہے ادھار میں
بڑے پاک طینت بڑے صاف باطن
ریاضؔ آپ کو کچھ ہمیں جانتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ