Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Anjum Irfani's Photo'

انجم عرفانی

1937 | بلرامپور, انڈیا

انجم عرفانی کے اشعار

4K
Favorite

باعتبار

چراغ چاند شفق شام پھول جھیل صبا

چرائیں سب نے ہی کچھ کچھ شباہتیں تیری

چراغ چاند شفق شام پھول جھیل صبا

چرائیں سب نے ہی کچھ کچھ شباہتیں تیری

کوئی پرانا خط کچھ بھولی بسری یاد

زخموں پر وہ لمحے مرہم ہوتے ہیں

کوئی پرانا خط کچھ بھولی بسری یاد

زخموں پر وہ لمحے مرہم ہوتے ہیں

ہم فنا نصیبوں کو اور کچھ نہیں آتا

خوں شراب کر لینا جسم جام کر لینا

ہم فنا نصیبوں کو اور کچھ نہیں آتا

خوں شراب کر لینا جسم جام کر لینا

لوٹ کر یقیناً میں ایک روز آؤں گا

پلکوں پہ چراغوں کا اہتمام کر لینا

لوٹ کر یقیناً میں ایک روز آؤں گا

پلکوں پہ چراغوں کا اہتمام کر لینا

سفر میں ہر قدم رہ رہ کے یہ تکلیف ہی دیتے

بہر صورت ہمیں ان آبلوں کو پھوڑ دینا تھا

سفر میں ہر قدم رہ رہ کے یہ تکلیف ہی دیتے

بہر صورت ہمیں ان آبلوں کو پھوڑ دینا تھا

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

جو عیب تھا اسے بھی ہنر کہہ دیا گیا

تیشہ بکف کو آئینہ گر کہہ دیا گیا

جو عیب تھا اسے بھی ہنر کہہ دیا گیا

ادا ہوا نہ کبھی مجھ سے ایک سجدۂ شکر

میں کس زباں سے کروں گا شکایتیں تیری

ادا ہوا نہ کبھی مجھ سے ایک سجدۂ شکر

میں کس زباں سے کروں گا شکایتیں تیری

لہجے کا رس ہنسی کی دھنک چھوڑ کر گیا

وہ جاتے جاتے دل میں کسک چھوڑ کر گیا

لہجے کا رس ہنسی کی دھنک چھوڑ کر گیا

وہ جاتے جاتے دل میں کسک چھوڑ کر گیا

آبادیوں میں کیسے درندے گھس آئے ہیں

مقتل گلی گلی ہے ہر اک گھر لہو لہو

آبادیوں میں کیسے درندے گھس آئے ہیں

مقتل گلی گلی ہے ہر اک گھر لہو لہو

سر راہ مل کے بچھڑ گئے تھا بس ایک پل کا وہ حادثہ

مرے صحن دل میں مقیم ہے وہی ایک لمحہ عذاب کا

سر راہ مل کے بچھڑ گئے تھا بس ایک پل کا وہ حادثہ

مرے صحن دل میں مقیم ہے وہی ایک لمحہ عذاب کا

ادھر سچ بولنے گھر سے کوئی دیوانہ نکلے گا

ادھر مقتل میں استقبال کی تیاریاں ہوں گی

ادھر سچ بولنے گھر سے کوئی دیوانہ نکلے گا

ادھر مقتل میں استقبال کی تیاریاں ہوں گی

اس نے دیکھا ہے سر بزم ستم گر کی طرح

پھول پھینکا بھی مری سمت تو پتھر کی طرح

اس نے دیکھا ہے سر بزم ستم گر کی طرح

پھول پھینکا بھی مری سمت تو پتھر کی طرح

لمحہ لمحہ میں ہوا جاتا ہوں ریزہ ریزہ

وجہ کچھ مجھ سے نہ پوچھو مرے رب سے پوچھو

لمحہ لمحہ میں ہوا جاتا ہوں ریزہ ریزہ

وجہ کچھ مجھ سے نہ پوچھو مرے رب سے پوچھو

آیا تھا پچھلی رات دبے پاؤں میرے گھر

پازیب کی رگوں میں جھنک چھوڑ کر گیا

آیا تھا پچھلی رات دبے پاؤں میرے گھر

پازیب کی رگوں میں جھنک چھوڑ کر گیا

مری نظر میں آ گیا ہے جب سے اک صحیفہ رخ

کشش رہی نہ دل میں اب کسی کتاب کے لیے

مری نظر میں آ گیا ہے جب سے اک صحیفہ رخ

کشش رہی نہ دل میں اب کسی کتاب کے لیے

یاد ہے قصۂ غم کا مجھے ہر لفظ ابھی

حال جس درد کا جس رنج کا جب سے پوچھو

یاد ہے قصۂ غم کا مجھے ہر لفظ ابھی

حال جس درد کا جس رنج کا جب سے پوچھو

یک بیک جاں سے گزرنا تو ہے آساں انجمؔ

قطرہ قطرہ کئی قسطوں میں پگھل کر دیکھیں

یک بیک جاں سے گزرنا تو ہے آساں انجمؔ

قطرہ قطرہ کئی قسطوں میں پگھل کر دیکھیں

بات کچھ ہوگی یقیناً جو یہ ہوتے ہیں نثار

ہم بھی اک روز کسی شمع پہ جل کر دیکھیں

بات کچھ ہوگی یقیناً جو یہ ہوتے ہیں نثار

ہم بھی اک روز کسی شمع پہ جل کر دیکھیں

مٹھی سے پھسلے ہی جاتے ہیں ہر پھل

وصل کے لمحے تار ریشم ہوتے ہیں

مٹھی سے پھسلے ہی جاتے ہیں ہر پھل

وصل کے لمحے تار ریشم ہوتے ہیں

کیا عجب ہے کہ یہ مٹھی میں ہماری آ جائے

آسماں کی طرف اک بار اچھل کر دیکھیں

کیا عجب ہے کہ یہ مٹھی میں ہماری آ جائے

آسماں کی طرف اک بار اچھل کر دیکھیں

پلکوں پہ جگنوؤں کا بسیرا ہے وقت شام

انجمؔ میں پانیوں میں چمک چھوڑ کر گیا

پلکوں پہ جگنوؤں کا بسیرا ہے وقت شام

انجمؔ میں پانیوں میں چمک چھوڑ کر گیا

درد دل بانٹتا آیا ہے زمانے کو جو اب تک انجمؔ

کچھ ہوا یوں کہ وہی درد سے دو چار ہوا چاہتا ہے

درد دل بانٹتا آیا ہے زمانے کو جو اب تک انجمؔ

کچھ ہوا یوں کہ وہی درد سے دو چار ہوا چاہتا ہے

ہر چہرہ ہر رنگ میں آنے لگتا ہے

پیش نظر یادوں کے البم ہوتے ہیں

ہر چہرہ ہر رنگ میں آنے لگتا ہے

پیش نظر یادوں کے البم ہوتے ہیں

Recitation

بولیے