aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mashkiize"
وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہےمشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے
رات بھرے مشکیزے سےہم نے لو چھلکانی ہے
ارے حیرت سے کیا دیکھے ہیں آنکھوں کو ہمارییہ مشکیزے تو اک مدت سے خالی ہو چکے ہیں
میں نے کہا تھا پیاس کے مارے کالی ریت پہ مر جائیں گےاس نے کہا تھا ٹھیک ہے لیکن دو مشکیزے بھرے ہوئے ہیں
چھلنی تھے سب مشکیزےخیمہ خیمہ جلتا تھا
سود و زیاں کے مشکیزے پر لڑتے تھےدل کا دریا سوکھ گیا تھا لوگوں کا
آنکھوں کے مشکیزے کھولودریا پر تو پہرا ہوگا
مشکیزے میں ہستی کے بھرتا ہوں عذابنام بہشتی ہے کار بد کرتا ہوں
تجھے ہے مشق ستم کا ملال ویسے ہیہماری جان تھی جاں پر وبال ویسے ہی
کون ہماری پیاس پہ ڈاکا ڈال گیاکس نے مشکیزوں کے تسمے کھولے ہیں
اپنی مشق ستم سے ہاتھ نہ کھینچمیں نہیں یا وفا نہیں باقی
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھیاک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی
گلوئے خشک ان کو بھیجتا ہے دے کے مشکیزہکچھ آنسو تشنہ کاموں کے علمبردار ہوتے ہیں
میرے ہی بزرگوں نے سر بلندیاں بخشیںمیرے ہی قبلے پر مشق سنگ باری ہے
فغاں تو عشق کی اک مشق ابتدائی ہےابھی تو اور بڑھے گی یہ لے ابھی کیا ہے
میں لرزتا رہا ہدف بن کرمشق تیر و کمان چلتی رہی
زمانے کو تو بس مشق ستم سے لطف لینا ہےنشانے پر نہ ہم ہوتے تو کوئی دوسرا ہوتا
خشک مشکیزہ لیے خالی پلٹنا ہے اسےاور دریاؤں کا شیرازہ بکھر جانا ہے
یاد ہے لذت آزار محبت اب تکدل کو ملتا تھا سکوں مشق ستم سے آگے
سوداگران شعلگیٔ شر کے دوش پرمشکیز گاں سے جھانکتا پانی فریب ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books