aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "numaa.ish-e-poshaak"
جہان فکر و عمل میں یہ میرا زعم وجودفقط نمائش پوشاک کے سوا کیا ہے
نمائش تو بجا ہے جلوۂ حسن مجسم کییہ لازم ہے نظر شائستۂ دیدار ہو جائے
پوشاک نہ تو پہنیو اے سرو رواں سرخہو جائے نہ پرتو سے ترے کون و مکاں سرخ
نمائش رخ رنگین یار رہنے دےمجھے نہ چھیڑ گل نو بہار رہنے دے
ہر بزم کیوں نمائش زخم ہنر بنےہر بھید اپنے دوستوں کے درمیاں نہ کھول
ہمارا بختؔ ہے ضبط دوام کی تفسیریہاں نمائش سوز دروں نہیں ہوتی
کتبہ وہاں لگائیو ماہرؔ کے نام کادلی میں جب نمائش اہل ہنر لگے
دنیا کو ضد نمائش زخم جگر سے تھیفریاد میں نے کی نہ زمانہ خفا ہوا
ابھی تو ہوش میں آئے نہ تھے یہ دیوانےوہ پھر نمائش روئے جمال کر بیٹھے
وہ اب نمائش سیر و سفر سے باہر ہےیہ میرے ساتھ مگر رہ گزر سے باہر ہے
پھر ہے نمائش قد و گیسو کا اہتمامشاید جنون و شوق کا پھر امتحاں ہے آج
جو اذن عام نہ تھا والیان مے خانہیہ سب نمائش پیمانہ و سبو کیا تھی
جلوۂ فطرت نمایاں ہے لباس رنگ میںحسن ہر تہذیب میں منت کش پوشاک تھا
دنیا نہیں نمائش میکانیات ہےہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے
یہ گل بوٹے بہت دل کش ہیں لیکنسر پوشاک ہی سب کچھ نہیں ہے
تم آؤ گے نمائش سامان دیکھ کرکیوں کاروبار چھوڑ دوں نقصان دیکھ کر
راس آنے لگا پیرہن خاک بھی ہم کوقدرت کے کرشمے پس پوشاک بہت تھے
اب بھی رواج و رسم وہی ہیں مگر کہاںعریانیت کے پردۂ پوشاک کم ہوئے
پوچھا جو اس نے عہد جراحت کا ماجرادریا لہو کا ہر رگ پوشاک سے اٹھا
نیند سولی پہ چلی آئی سو زخم عریاںاپنی اک خواہش پوشاک سے لگ کر سویا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books