aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "'bilqiis'"
چھوٹی سی بلوچھوٹا سا بستہٹھونسا ہے جس میںکاغذ کا دستہلکڑی کا گھوڑاروئی کا بھالوچورن کی شیشیآلو کچالوبلو کا بستہجن کی پٹاریجب اس کو دیکھوپہلے سے بھاریلٹو بھی اس میںرسی بھی اس میںڈنڈا بھی اس میںگلی بھی اس میںاے پیاری بلویہ تو بتاؤکیا کام کرنےاسکول جاؤاردو نہ جانوانگلش نہ جانوکہتی ہو خود کوبلقیس بانوعمر کی اتنیکچی نہیں ہوچھ سال کی ہوبچی نہیں ہوباہر نکالولکڑی کا گھوڑایہ لٹو رسییہ گلی ڈنڈاگڑیا کے جوتےجمپر جرابیںبستے میں رکھواپنی کتابیںمنہ نہ بناؤاسکول جاؤاے پیاری بلواے پیاری بلو
گھر کا ایک اکیلا بچہننھا منا تاسی راجہ
ننھی سی ایک گڑیا رپو دمن ہماریجیسا ہے نام ان کا ویسی ادائیں ساری
ہاں دروازے پر چڑھی کنڈی اتار لی گئی ہےمگر دروازوں کو کھولنے کے لئےخود ہی چل کر جانا ہوگاآنکھوں کی پٹی کھول دئے جانے پر بھیبینائی کو نگاہ کی عادت دھیرے دھیرے ہی پڑتی ہےہونٹوں پر لگی مہریں ہٹ جانے پر بھیبولنے کے لئے زبان کو الفاظ کی مشق کرانی ہوتی ہےآزاد تو دماغ کو ہونا ہےصرف جسم کی آزادی کوئی معنی نہیں رکھتیسر کی چادر سے اپنی برہنگی اپنے ہاتھوں ڈھکنی ہوگیسر پر تاج ہے اور پیروں میں بیڑیاںکیا عجیب نہیں لگتازنا سے لے کر آدھی گواہی تکبے شک یہ چارج شیٹ بہت لمبی ہےلیکن مجھے اس کے بارے میں سوچنے کینہ فرصت ہے نہ ضرورتویسے بھی یہ چارج شیٹ میری عدم موجودگی میں تیار کی گئی تھیدشنام ملے یا انعام مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتامجھے تو اپنے آزاد ہاتھوں سے اپنے پیروں کی بیڑیاں ہٹا کراس ملگجے اندھیرے کو اپنی پلکوں سے بٹور کرکنارے لگانا ہےدروازے تک جانا ہےکہ ان بند پٹوں سے باہر ایک کھلی فضامیرا انتظار کر رہی ہےجہاں میں کم از کم آزادی سے سانس تو لے سکوں گیہاں میں شہر میں داخل ہونے والی پہلی عورت ہوںکہیں بھی پہنچنے کے لئے اٹھایا ہواپہلا قدم
بولتی ہے کیا ٹر ٹر باتونی بٹوچپ نہیں رہتی لحظہ بھر باتونی بٹورک نہیں سکتی ایک ہی سانس میں بولتی جائےالٹا سیدھا بے مطلب جو منہ میں آئےبھائی کہیں میں پڑھتا ہوں مت دھیان بٹاؤباجی بولیں بھاگو میرے کان نہ کھاؤبولے کوئی کسی سے تو یہ بیچ میں ٹپکےبات کرے تو اچکے مٹکے آنکھیں جھپکےجب دیکھو تب لارا لارا ری ری ری ریجب دیکھو تب ہاہا ہاہا ہی ہی ہی ہیامی امی وہ جو ہیں ناں آنٹی سرورآج پہن کر آئیں تھی اک نیلا جمپرہاں نیلا سا کچھ اودا کچھ نیلا نیلالگتا تھا کچھ ان کے اوپر ڈھیلا ڈھیلالڑنے لگی پھر مجھ سے وہ بلقیس کی بچیاس ڈبیا کا ڈھکنا تو ہے بالکل پچیمہر نے لی بلقیس کی چٹکی ہو ہو ہو ہوعینی کی گل سے نہیں بنتی ہو ہو ہو ہوعفت اور میں جھولا جھولتے باری باریخالہ بی کی چوٹی ہے کیا لمبی سیبانو کے گھر آئی ہے بولتی مینا باجیہوتا ہے اک ٹانگ کا مرغا ہے نا باجیکرتی ہیں کیوں شام کو چڑیاں چیں چیں چیں چیںابو آپ ذرا فضلو کے کان تو کھینچیںوہ دیکھو پھر آن کے بیٹھا چھت پر کواباوا آدم کی تھیں بیوی ماما حوادور سے آتا دیکھیں تو گھبرائیں پڑوسنلوگ کہیں لو وہ آ دھمکیں بی بکواسنبٹو بی بی سن تو لو سب ہنستے ہیں تم پردیکھو تھوڑی دیر ذرا خاموش بھی رہ کر
ممی خفا ہیں ان کی سنتا نہیں ہے مونٹوپاپا کو ہے شکایت پڑھتا نہیں ہے مونٹو
بھوتوں کی اک حویلی میں کاشف میاں گئےایسا لڑے کہ بھوتوں کے چھکے چھڑا دیے
تمہیں یاد ہےمیری آنکھوں پر کس کر باندھا گیاوہ اپنا رومالپھولوں میں درختوں کے جھنڈ کے درمیاںاسٹور روم میں کھمبوں کے پیچھےکبھی پلنگ کے نیچےچھپتے پھرتے تھے تممیں کہاں ہوں مجھے ڈھونڈومیرے آگے پیچھے دوڑتی بھاگتی تمہاری آوازیںمجھے چھو چھو کر دور ہو جاتی تھیںمیں اپنا ہاتھ پھیلائے ڈھونڈ ڈھونڈ کرتمہیں پا ہی لیتی تھییہ ہمارا من پسند کھیل تھانہ جانے کب کیسے اور کہاں کھیل ہی کھیل میںیا تمہارے دوڑتے بھاگتے قدموں کے غبار میںتم کہیں کھو گئےاور میرے گلے میں اٹکی رہ گئیبس ایک دھولکھانس کھانس کر صاف کرتی ہوںنکلتی ہی نہیںاٹا پڑا ہے میرا چہرہ گرد سےآئنہ دیکھوں تو سمجھ میں نہیں آتا کسے دیکھ رہی ہوںاپنی آنکھوں پر بندھا رومالمیں نے اپنے ہی ہاتھوں کھولا تھااور احتیاط سے باکس میں رکھ دیا تھامیں کہاں ہوں مجھے ڈھونڈ لو والا کھیلکھیلنے والا کوئی تھا ہی نہیںمگر آج میری گود میں تمہارا بچہمجھ سے مانگ رہا ہے وہی رومالآج نکالوں گی اسے دھو صاف کر کےاپنے سینے کی خوشبو سے بساؤں گیکہ پھر شروع کرنا ہے مجھے وہی من پسند کھیلاور اس بار میں کھو جاؤں گی
نظر نظر کا فریب ہر سواٹھے تو صحرا پہ پھیل جائےجھکے تو اک گہری جھیلبادل صفت یہ برکھا کی ایک رم جھمجو پیار ہو تو یہ چاندنی ہےنظر نظر کا فریبلیکن نظر حقیقتنظر جھپکنے میں تخت بلقیس سامنے ہونظر کے جادو سے جسم پتھرنظر کے پر تاب نور سے کوہ طور سینا بھی ریزہ ریزہنظر نظر کا فریبلیکن نظر حقیقتمرے ہی تار نظر سےدھرتی پہ سرمئی چھت تنی ہوئی ہے
پارک کی پہلی دھوپ سے ملنےانگلی سے انگلی کو تھامےسب کو ہیلو ہیلو کرتیواکی ٹاکی دادی پوتیسہج سہج چلتی ہیں دادیآگے پیچھے پھرتی پوتیرکتی چلتی چلتی رکتیواکی ٹاکی دادی پوتیگھس آیا شاید کوئی کنکرپوتی کی چپل کے اندردادی جھک کے جھاڑ رہی ہیںپوتی کو پھٹکار رہی ہیںکتنا کہا تھا جوتا پہنولیکن تم کس کی سنتی ہوسوری دادی دادی سوریکل سے جوتا ہی پہنوں گیپوتی آنکھیں مٹکاتی ہےدادی کو یوں بہلاتی ہےپارک میں جا کر بیٹھ گئی ہیںدھوپ سے خود کو سینک رہی ہیںلیکن پوتی کیوں بیٹھے گیپارک میں آئی ہے دوڑے گیجھولا سی سو اور سلائڈلیکن دادی بنی ہیں گائیڈیہ نہ کرو یہ کیا کرتی ہوہے ہے جو تم گر جاتی توتتلی کے پر توڑ رہی ہوتوبہ توبہ کتنی بری ہودامن میں پھر بھر لیے پتھرپھینکو ورنہ دوں گی تھپڑدادی نے جو دی اک جھڑکیلال بھبھوکا ہو گئی پوتیاب دونوں چپ دونوں روٹھیان کی تولو ہو گئی کٹیآیا تبھی غبارے والاٹن ٹن گھنٹی خوب بجاتانیلے پیلے کتنے سارےبادل چھونے والے غبارےلیکن کیسے پائے گی پوتیدادی سے تو ہوئی ہے کٹیسوچ سوچ کے دھیرے دھیرےبولی غبارے والے سےمجھ کو ایک غبارہ دے دوپیسے دادی جان سے لے لوان سے میری ہوئی ہے کٹیلیکن ہیں تو میری دادیسن کے ہنس دیں بولیں دادیلے جیتی تو میں ہی ہاریبھیا ایک غبارہ دے دواس آفت کی پرکالہ کوفتنہ ہے شیطان کی نانیپھر بھی جان سے دل سے پیاریلے کے غبارہ ہنستی ہنستیگھر کو چلیں وہ پکڑے انگلیرکتی چلتی چلتی رکتیواکی ٹاکی دادی پوتی
سحر کی کلیاں لٹی ہوئی ہیںگلوں کی شاخیں جھکی ہوئی ہیںحسین تالاب کے کنارےحسین پریاں کھڑی ہوئی ہیںبہ زیر شاخ گل شگفتہ میں صورت شمع چپ کھڑی ہوںفضا میں کوئل کی اک صدا ہےتمام جنگل لرز رہا ہےحسین دنیا کی رہنے والیحسیں فضاؤں میں نغمہ زا ہےمیں مثل اک غنچۂ فسردہ نوائے تصویر بن رہی ہوںیہ کون منظر ہے پیش دنیایہ کیسی دنیا ہے حسن آرایہ کیا تماشا سا ہو رہا ہےیہ کیسے منظر ہیں جلوہ آرامیں دل میں تصویر کھینچتی ہوں نگاہ حیرت سے دیکھتی ہوںیہ کیا ہے اے میری چشم حیراںہے کیا تماشا رخ گلستاںمیں کیا کروں اس مصوری کومجھے ہے الجھن مجھے ہے خلجانادھر ادھر کو جو دیکھتی ہوں حسین طائر ہیں زمزمہ زاوہ ان کا گانا بصد مسرتیہ کیوں نوا ہے نوائے عشرتیہ ان کے نغمے رباب جنتہیں صورت شمع محو حیرتالٰہی اس مشت پر میں چھپ کر ادا سے یہ کون گا رہا ہےکہ دل پہ چوٹیں لگا رہا ہےجگر میں ٹیسیں اٹھا رہا ہےفضا میں نغمے لٹا رہا ہےمجھے پریشاں بنا رہا ہےیہ مثل دیوار چپ کھڑی ہوں یہ کون گاتا ہے اس ادا سےفضا میں نغموں کی یہ نزاکتیہ پھول چن کر ہوں محو حیرتمیں کیا کروں زمزموں کا یا ربیہ ہے تعجب یہ ہی ہے حیرتجمالؔ حیران و پر تحیر ہے حسن دنیا فضاۓ حیرت
جب غم کا اندھیرا چھاتا ہےجب دنیا سے گھبراتی ہوںدل میرا جب بھر آتا ہےجب یاس زدہ ہو جاتی ہوںخود پاؤں مرا اٹھ جاتا ہےگنگا کے کنارے آتی ہوں
پانی بہتا چلتا ہےکچھ دکھ سہتا چلتا ہےسناٹا سا کچھ چھایا ہےپانی کچھ مرجھایا ہےلہریں ہیں کچھ میلی میلیموجیں ہیں کچھ پھیلی پھیلیتارے جھک جھک پڑتے ہیںپتے چپ چپ جھڑتے ہیںابر کے ٹکڑے اڑتے ہیںکٹتے ہیں پھر جڑتے ہیںتارے جھم جھم ہوتے ہیںطائر چپکے سوتے ہیںشاخیں سر بہ گریباں ہیںبالکل چپ اور حیراں ہیںچاند بھی ہے کچھ کھویا کھویاکچھ جاگا کچھ سویا سویاابر میں چھپ چھپ جاتا ہےہر تارے کو چمکاتا ہےکچھ بہکا بہکا چلتا ہےپانی میں بھٹکتا چلتا ہےشبنم پٹ پٹ روتی ہےجو آنسو ہے وہ موتی ہےجنگل چپکا سوتا ہےمنظر پر سناٹا ہےہر پتے میں خاموشی ہےہر کونپل میں بے ہوشی ہےہر ذرہ چپ ہے قطرہ چپ ہےافلاک کا اک اک تارا چپ ہےسب گلہائے ریحاں چپ ہیںچمپا کی سب کلیاں چپ ہیںدریا کی سب موجیں چپ ہیںبل کھانے والی لہریں چپ ہیںسوتی ہے گلوں میں چپ خوشبوجھلمل ہوتے ہیں جگنوچلتی ہے ہوا کچھ دھیمے دھیمےپھولوں کی فضا میں چپکے چپکےہلکے ہلکے گیت سناتیرک رک کر اک تان لگاتیبھیگے بھیگے پھول رسیلےچپکے چپکے ہیں کچھ ہنستےیہ خاموشی اور سناٹااور یہ ساکت موج دریاان آنکھوں سے کیا کیا دیکھوںاس دنیا کا ہر ذرہ دیکھوںیا رب یہ سب منظر کیا ہیںصحرا کیا ہیں گھر در کیا ہیںخامشی کیا سناٹا کیا ہےآدھی رات کا دریا کیا ہےیہ سب کیوں ہے یہ سب کیا ہےخود میں کیا ہوں جمالؔ کیا ہے
۱پوتی سے دادی بننے کے لمبے سفر میںایسا کوئی پڑاؤ نہیں آیا تھا جس پررک کے تازہ دم ہونے کیسوکھی سوندھی پیال پہ پڑ کےمیٹھے میٹھے سپنوں میں سو جانے کی مہلت ملتیاب منزل پر آ کے تھک کے چور پڑی وہمیٹھے سپنوں میں سو جانے کی کوششکرتے کرتے کیا بے حال ہوئی جاتی ہےکھانس کھانس کے ساری رات گزر جاتی ہے۲بھرے پرے محلوں جیسے اس گھر کااک اک کمرہاپنے اپنے نام سے اب ریزرو کرا رکھا ہے سبھوں نےوہ جو برساتی میں بیتی یادیں اوڑھ کے لیٹااپنے دن گنتا ہےنیم پلیٹ پہ گھر کے اسی بوڑھے کا ناملکھا ہوا ہے بڑے بڑے حرفوں میں۳رستہ بالکل صاف ہےپختہ سیدھی سڑک ہےنیلے والے باغ کے پھولوں سے ملنے روزانہجایا جا سکتا ہے لیکن کیسےسوچ کے ہی پیروں میں اینٹھن ہونے لگتی ہےاور دم بے دم ہونے لگتا ہے۴بیتابی سے ڈھونڈ رہا ہے کیسے پائے گا ابوہ سب کچھ جو چھوڑ گیا تھانئے نئے سامانوں سے گھر چھت تک اٹا پڑا ہےپہلے جو رکھا تھا یہاں وہ ان میں دب کرٹوٹ کے چکنا چور ہوا یا کوئی کباڑیسستے داموں لے کے گیا یہ کون بتائےتال پہ اس کے لائے ہوئے اسٹریو میوزک سسٹم کےسب تھرک رہے ہیںایسے شور شرابے میں اب اس کی کون سنے گاپہلے گھر والوں سے آئی ایس ڈی پرمنٹوں کا ہی رابطہ اک قائم تو ہو جاتا تھا
پاپا نے سائیکل تو بالکل نئی دلائیاب کیا ہے اس کا حلیہ کیسے ہوا یہ بھائی
گھنٹی بجی اسکول چھٹا ہےہنگامہ سا ایک بپا ہےگیٹ پر آ کر ٹھہری لاریہم سب بیٹھیں باری باریفراٹے وہ بھرتی نکلیہر اک کے وہ گھر تک پہنچیجب وہ ہمارے گھر پر ٹھہریبلقیس اتری میں بھی اتریہم نے قدم جب گھر میں رکھاٹہل رہے تھے باغ میں اباماما جی نے ہم کو دیکھادور ہی سے امی کو پکارالیجئے بیگم صاحب آئیںبچیاں دونوں اب گھر پہنچیںامی ہماری پیاری امیراہ تھیں تکتی چائے پہ بیٹھیچائے ابھی ہم پی ہی رہے تھےامجد ماموں کار لے آئےچلو چلو اب سیر کو نکلیںسیدھے باغ آم کو جائیںرات کا جب چھا جائے اندھیرااس وقت آ کر پڑھ لکھ لینا
اے کہ تیری ذات تھی سرمایۂ علم و عملاے کہ تیرا ہر ارادہ تھا نہایت ہی اٹلاے کہ تو اک جوہر تیغ دل اسلام تھیتیری ہستی یادگار رونق ایام تھیتیرے سینہ میں بھرا تھا بحر اسلامی کا جوشتیرے اعضا میں رواں تھا ایک دریائے خروشتیری رگ رگ میں وفور جوشش سیلاب تھاتیرا ہر جذبہ ضیائے گوہر نایاب تھاتیری ہستی شمع ہمت کے لیے آئینہ تھیزندگی تیری چراغ ملت دیرینہ تھیتو نے مردہ زندگی میں روح تازہ پھونک دیہمت مجبور کو بخشی ہے تو نے زندگیایک شعاع نیر آسودۂ رفعت تھی تواس خزان زیست میں اک مادر ملت تھی توتو نے رمز قلب مخفی آشکارا کر دئےمعنیٔ علم و عمل پردہ سے بے پردہ کئےمدعائے دل ترا اک گوہر امید ہےجو فضائے تار میں اک شعلۂ خورشید ہےتیرا ہر لمحہ منور ہر گھڑی نیر بہ دوشزندگی تیری رہے مثل چراغ ضو فروشظلمت ملت میں چمکائے منور آفتابگلشن امید میں مہکا دئے رنگیں گلابامتحان زیست میں تو کس قدر ہی کامیابہر ورق تیری کتاب عمر کا ہے خود کتابآ سکوت یاس میں مجھ کو بنا لے راز دارآ رہ امید میں مجھ کو بنا لے کامگارآ مرے کانوں میں بھی وہ روح پنہاں پھونک دےزندگی میری بھی اک ماضی کا آئینہ بنےآ جمالؔ زار کو بھی راز دار دل بنازندگی اس کی بھی اک برق دل بسمل بنا
درست پھر ہم پہ یورشیں ہیںسنانیں نیزوں کی شعلہ زن ہیںکھنچی ہے تلوار پھر سروں پرلٹک رہے ہیں نکیلے خنجرکمین گاہوں سے تیر پر تیر چل رہے ہیںقدم قدم پر ہیں موش خانےلہو سے بھیگا پسینہ مجروح ایڑیوں سےٹپک رہا ہےہے سامنے آگ پیچھے دریانہ جائے رفتن نگاہ میں ہے نہ پائے ماندنمگر ہمارا یقیں سلامت رہا تھا پہلے بھیاب بھی ثابت قدم رہے گانظام ظلم و ستم کے آگے یہ سر جھکا تھانہ اب جھکے گاپلٹ کے جانے کی بات سوچیں کہیں چھپیںہم سے یہ نہ ہوگافرار ہو کر دیار اغیار میں بسیںہم سے یہ نہ ہوگاکہ یہ زمیں تو ہمارے اجداد کا ہے مدفنہمارے بچوں کا بخت روشن ہمارا گھر ہےہماری پیشانیوں پہ سجدوں کا نقش بن کریہاں کی مٹی چمک رہی ہےیہاں کے شفاف پانیوں میں وضو ہمارا چھلک رہا ہےیہیں کی مٹی کی ضو لئے جگمگا رہے ہیں ہمارے معبدکھلیں عرق ریزیاں ہماری ہمارے کھیتوں میں فصل بن کرہماری محنت کا شعلہ روشن ہے کارخانوں کی بھٹیوں میںہمارا حق اس زمیں پر ہےجو اپنا حق چھوڑ کر گئے گھر سے اپنے منہ موڑ کر گئے توکہیں نہ بسنا نصیب ہوگاذلالت و نکبت و حقارت نصیب ہر بد نصیب ہوگالیا ہے جو جنم اس زمیں پر یہیں رہیں گے یہیں بسیں گےاہالیان ستم کے آگے ہمیشہ سینہ سپر رہیں گےکہو کے قطرے ٹپک ٹپک کر زمیں پہ حرف وفا لکھیں گےہماری معصومیت کی روشن دلیل بن کرہمیں پتا ہےکہ ظلم کتنا بھی ہو قوی سرنگوں ہوا ہےبہا کہیں بھی جو خون ناحق تو قاتلوں کو ڈبو گیا ہےہمارے بہتے لہو کی دھاروں سے موسم گل طلوع ہوگامحبتوں کی صداقتوں کا ظہور ہوگا ضرور ہوگاجزیرۂ غیر کی طرف جانے والی ہر ناؤ کو جلا دوہمیں تو مرنا بھی ہے اگر تو یہیں کہیں پراسی زمیں پرکہ اس زمیں پر ہمارا گھر ہے
بیبیوجنتی ہے وہ بیوی جو شوہر کے آنے سے پہلےسجے اور سنورےمو بہ مو موتیوں کو پروئےاشتہا خیز خوشبو بھرے قاب کھانوں کے تیار رکھےروٹیاں گرم اور نرم بستر کا ہو اہتمامآفتابےسرد اور گرم پانی کے موجود ہوںوہاں نہ جانے اسے سرد پانی کی خواہش ہو یا گرم کیاس کی خواہش کا کوئی بھروسا نہیںتاکہ اس کا مجازی خدا اس کا مالک جو آئےضرورت کی ہر چیز بن مانگے پائےاور ہاں بیبیواک چھڑی بید کی خوب مضبوط سیوہ بھی رکھنا نہ بھولےکون جانے صعوبت کے میداں کا ہارا تھکا وہ سپاہیشومیٔ بخت سےنا مرادی کے زخموں سے لتھڑا ہوا آ رہا ہوجو آئے ڈھونڈنے کی نہ زحمت اٹھائےنیک بی بی کے بیچارہ شانوں سے ریشم کا رنگیں لبادہاس چھڑی سے ہٹا کراپنی ناکامیوں کا لہو اس کے شفاف نازک بدن پر چھڑک دےتاکہ پھر چین کی نیند وہ سو سکےہاں مجازی خدا ہے ہوتا سجدہ خدا کے سوا گر کسی کو روا تواسی کو روا ہے اسی نے تو تم کو بچا کے زمانے کیدھوپوں سے گھر کے حصاروں میں محفوظ رکھا اس کی محنتکے پائے ہوئے رزق سے ہی تو دامن تمہارا بھراسو مری بیبیو جنتی ہے وہ بیویجو شوہر کی خواہش پہ جیتی رہیدن کو اس نے کہا رات تو اس نے بھی رات سمجھااس کی خاطر وہ مر مر کے زندہ رہیاس کی خاطر مریسیدھی جنت سدھارے گی پرسش نہ ہوگی گناہوں کیسب معاف ہوں گےوعظ میںکہنے والی نے اتنا کہا اور چپ ہو گئینیک بی بی کی بخشش کا مژدہ سنایامگر ایسا شوہر کہاں جائے گا اس کی بابت کسی کو نہ کچھ بھی بتایاخدایا خدایاصف بہ صف نسل در نسل بے مول کی یہ کنیزیںانہیں ان کے ہونے کا احساستو ہی عطا کر
گر بلی شیر کی خالہ ہےتو ہم نے اسے کیوں پالا ہےکیا شیر بہت نا لائق ہےخالہ کو مار نکالا ہےیا جنگل کے راجا کے یہاںکیا ملتی دودھ ملائی نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books