aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Asghar Nadeem Syed"
اے خاموشی!میرے خون میں چھپ کے بیٹھدلہن بن کے میرے چہرے پر شرماآج کی شباس خون میں دریا روئیں گےاور بچے شور مچائیں گےاے خاموشی!کفن ہو جیسے رنگت سے محرومتجھ میں بھی کچھ ایسی بے لفظی کا موسم پھیلےتو بھی دم توڑے میری آنکھوں میںان سانپوں میںجو سانسوں میں پھنکارتے ہیںاے خاموشی! تاروں سے اترتاریکی کے امکاں سے ابھراے خاموشی!
مجھے ایک دن چاہیئےچاہے چھٹی کا دن ہویا اپنے ارادوں کے پل سے گزرنے کایا سیب کھانے کا دن ہومجھے ایک دن چاہیئےچاہے ساحل پہ جا کر نہانے کا دن ہویا اپنی پسندیدہ موسیقی سننے کا دن ہودرختوں میں چھپ کر کسی سے لپٹنے کا دن ہویا پھر کوئی دنمیری طاقت میں ڈوبا ہوامیرے غصے کی حد سے نکلتا ہواایسا دنجو کھلے آسماں کی طرح اپنی بانہوں کو کھولےمجھے ایک دن چاہیئےتاکہ میں اپنے پیاروں کے دل میںٹپکتے ہوئے آنسوؤں کوخوشی کے سمندر میں تبدیل کر دوںمجھے ایک دن چاہیئے
آج تم ایسے ہنسےجیسے کوئی آزاد کر دے سیکڑوں قیدی پرندےشور کرتے آسماں کی سمتیا بارش سمندر پر گرے رفتار میںیا دھوپ کھل جائے بھری برسات میںتم گونج ہو خوشیوں کے تہواروں کیجو ہم بھولپن میں اپنے بچپن کے سفر میں بھول بیٹھے ہیںتمہیں کس نے کہااتنا ہنسو کہ بال کھل جائیںتمہیں کس نے کہایہ سادگی کا ذائقہ تجویز کر لوکن بہادر راستوں پر تم نےاپنے نام کی مہریں لگائی ہیںتمہیں یہ دھوپ کا زیور ستمبر کی نشانی ہےستمبر میرے ہونٹوں میری آنکھوں میں سمایا ہےستمبر آ چکا ہے میرے دل میںاور میرے جسم کے آہنگ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہےتم ہنسی میں گیت ہنستی جا رہی ہوکتنا مشکل ہے ہنسی کا گیت میں تبدیل ہو جانابہت مشکلمگر ایسے بہادر راستوں پر صرف آزادیہنسی کے گیتاور تیرے کھلے بالوں میںپروائی چلے گیدیر تک اور دور تک
میرے گھر کے سامنےرات کی گاڑی کا ایک پہیہ نکل گیامیرا بیٹا اس پہیے سے کھیلتا ہےگاڑی کو لینے کوئی نہیں آیااس دن سے میرے گھر میںاخبار نہیں آیادودھ نہیں آیاپرندہ نہیں آیااس دن کے بعدمیں نے اپنی نظم میں کوئی شکار نہیں کھیلامیں اپنی نظم کے اندر خاموش ہو گیااور میری نظم آہستہ آہستہ میرے لیے پنجرہ بن گئیرات کی گاڑی کو لینے کوئی نہیں آیاانہوں نے جان بوجھ کے ایسا کیا ہےوہ میرے دل میں بچی کھچی چیزوں کو شکار کرنا چاہتے ہیںشاید وہ نقشہ چرانا چاہتے ہیںکچھ لوگ رات کی گاڑی سے نیچے اترےمیرے اناج کے کمرے اور میری نظموں کی تلاشی لیاپنی حفاظت کے لیےکچھ ہتھیار میں نے ان نظموں میں چھپا رکھے تھےاب میرے پاس چند ڈرے ہوئے لفظوں اور چھان بورے کے سوا کچھ نہیںانہوں نے میرے بیٹے کی کتابیں چھین لیںاور اپنی لکھی ہوئی کتابیں دے دیںاور کہا ہم تمہارے ہی گھر میںتمہاری نظموں کے لیے ایک مخبر تیار کرنا چاہتے ہیںرات کی گاڑی کا پہیہ مجھے اپنے سینے میں اترتا ہوا محسوس ہوامیرے گھر کی ہر شے پہیے میں بدل گئیحتی کہ میری باتیں بھی پہیہ بن گئیںاور پھر یہ پہیہ میری تاریخ بن جائے گااس تاریخ سے بہت سارے بچے پیدا ہوں گےوہ رات کی اس گاڑی کو کھینچیں گےلیکن اس وقت تک راتاپنی جڑیں چھوڑ چکی ہوگی
جب ہم دونوں جدا ہوئے تھےاس نے پہنی سرما کی راتوں میں نکلے چاند کی ساڑیمیں نے پہنااپنی بن باسی کا چولااس نے مانگی دھوپجو برفوں پر چمکی تھی اور ہنسی کے دریا میں بہتے ہوئےہم تک پہنچی تھیمیں نے مانگی گھاس میں گری ہوئی آوازاس کے ہاتھ میںآٹھ پہر کے خواب کا چھوٹا بچہ تھامیرے ہاتھ میں وقت نے اپنے بیج سے باہر پاؤں رکھااس کی آنکھ میں ناؤ ڈوبیمیری آنکھ میں ایک پرندہ ڈر کے دبکااس کے ہونٹ پہ میرے نام کا سایہ تھامیرے ہونٹ پہ اس کے جسم کی بارش تھیاس کے دل میں گم گشتہ تہذیبوں جیسی خاموشی تھیمیرے دل میں تیز ہوا کی یاد میں کھویا موسم تھااس کے پاؤں حیرت کی سیڑھی سے نیچے اتر رہے تھےمیرے پاؤں دل کی زمیں سے لپٹ رہے تھےجب ہم دونوں جدا ہوئے تھےآدھا بوسہ آدھا آنسو دل میں رہا
میرے دل میں جنگل ہےاور اس میں بھیڑیا رہتا ہےجو رات کو میری آنکھوں میں آ جاتا ہےاور سارے منظر کھا جاتا ہےصبح کو سورج اپنے پیالے سے شبنم ٹپکاتا ہےاور دن کا بچہمیری روح کے جھولے میں رکھ جاتا ہےمیرے دل میں جنگل ہےاور اس میں فاختہ رہتی ہےجو اپنے پروں سے میرے لئےاک پرچم بنتی رہتی ہےاور خوشبو سے اک نغمہ لکھتی رہتی ہےپھر تھک کر میرے بالوں میں سو جاتی ہےمیرے دل میں جنگل ہےاور اس میں جوگی رہتا ہےجو میرے خون سے اپنی شراب بناتا ہےاور اپنے ستار میں چھپی ہوئی لڑکی کوپاس بلاتا ہےپھر جنگل بوسہ بن جاتا ہےمیرے دل میں جنگل ہےاور اس میں بھولا بھٹکا زخمی شہزادہ ہےجس کا لشکرخون کی دھار پہ اس کے پیچھے آتا ہےوہ اپنے وطن کے نقشے کو زخموں پہ باندھ کےآخری خطبہ دیتا ہےپھر مر جاتا ہےمیرے دل میں جنگل ہےاور اس میں گہری خاموشی ہے
سورج آسمان سے گرااور لیموں بن گیاچاند آسمان سے گرااور کپاس کا پھول بن گیامیں تاریخ کے مینار سے گرااور واقعہ کیوں نہ بن سکا
میرے دن سیراب ہوئے ہیںنیندیں گھور سمندر جیسیمیری آنکھ سے لپٹی ہیںصبح کی ساعت آزادوں کا گیت بنی ہےساتھ چلی ہے سیاحوں کے رستے پرمیں ایک سوارصدا کے رتھ پر بیٹھ کے جاؤںسورج مکھی کے جلسے میںبات کروں تہواروں کیجو میرے وصل کے دروازوں تک آ پہنچے ہیںمیری عمر کے کھلیانوں میںجن کی فصلیں نئے نصاب سے اتری ہیںبات کروں اس نسبت کیجو پھول اترتے موسم کی پوشاک میں آئیتیرے دل میں میرے دل میںکیسے اپنی بھاشا سے میں شہد بناؤںکیسے دودھ کشید کروںان باتوں سے جو سب کی جانی بوجھی ہیںمیرے دن سیراب ہوئے ہیںجیسے سورج اور کبوتر اڑ جاتے ہیںاپنے اپنے ڈربوں سےجیسے پانی بہہ جاتا ہے دریاؤں کے آنگن سےایسے ہی میرے دن کیا معلوم؟کہاں تک جائیںکن رشتوں میں جاگنا چاہیں
بانسری کی دھن سے چاول کی بالی تکدن پھیلا ہےاور درانتی والے ہاتھ میں اس کا دامنجیسے ملاحوں کے ہاتھ میں جال ہویا پھر گھوڑ سوار کے ہاتھ میں اس کی راسیںدن پھیلا ہےدہی بلونے کی آواز سے جامن کے پیڑوں تکچوڑیاں پہننے والے ہاتھ میں اس کا دامنکھنچتے کھنچتے اوڑھنی بن جائے گادن پھیلا ہےآسمان سے بچے کی ننھی مٹھی تکرفتہ رفتہ دودھ میں ڈھل جائے گادن پھیلا ہےریل کی آہنی پٹری پراور بھاگ رہا ہے چھوٹے شہروں کی منڈی تکبھاگتے بھاگتے سرخ انار میں ڈھل جائے گادن پھیلا ہےگیندے کے پھولوں میںمیلے بچوں کی خالی جیبوں میںدن پھیلا ہےمیری تیری آنکھوں میںجو رفتہ رفتہ مستقبل کی دھن پہ گایااجلے پانیوں جیسا کوئیگیت بنے گا
اے دوست! کبھی تو آ کے ملیہ دل تیرے لیے جاری ہےدل جاری ہےدل آٹھ پہر سے جاری ہےجیسے کوئی دریا ساون میںجیسے کوئی برکھا جاڑے میںایسے میں بدری کاری ہےدل جاری ہےدل آٹھ پہر سے جاری ہےکبھی دل دو گنا ہو جاتا ہےجب تیرا درد سماتا ہےہر سانس میں رس مل جاتا ہےتیرے ہونے کاتیرے نیند نگر میں آنے کادل جاری ہےدل ازلوں ازل سے جاری ہےتجھے نیند سمجھ کے سو لوں میںاور اوڑھ کے جیون کر لوں میںیہ نیند ادھوری ہوتی ہےکہیں سپنے میں کھل جاتی ہےتجھے کیسے اوڑھوں کمبل میںتجھے کیسے پہنوں جاڑے میںتجھے کیسے بیتوں برسوں میںجو بیت چکا وہ بادل تھااب بیتنا چاہوں لباسوں میںتجھے اوڑھنا چاہوں کپاسوں میںکبھی آ کے ملایسے کہ اچانک دھوپ کھلےایسے کہ اچانک شام ڈھلےایسے کہ اچانک درد اٹھےمیری نس نس میںاور تو اس درد میں شامل ہو
آسماں ٹھہرا ہوا نیلا سمندراور زمیں سوکھا ہوا دریاپہاڑوں پر دسمبر آ چکا ہےنیلگوں گہرا دسمبرندیاں برفوں کی چاندی میں چھپی ہیںمنصفوں جیسے معزز یہ پہاڑ اور ان کے ہمسایہ شجرمرعوب کرتے ہیںدیہاتی راستوں کے پھول کہتے ہیںہمیں گاؤنشیبی بستیوں کی گھاس کہتی ہےہمیں لکھوپھٹے کپڑوں میں مخلص لڑکیاں کہتی ہیںہم بھی لفظ ہیںہم بھی صدا کا ذائقہ ہیںآسماں ٹھہرا ہوا نیلا سمندردودھ پیتا میمنہ لفظ ہےساری زمیں پھیلی ہوئی اک نظم ہےاور میں کبھی بارشکبھی سوکھا ہوا دریاکبھی آواز مخلص لڑکیوں کی
یہ ساٹھ صدی کا قصہ ہےیہ ساٹھ برس کی بات نہیںتاریخ نے جب آنکھیں کھولیںسب پانی تھاپھر پانی پر تصویر بنیتصویر زمیں پر پھیل گئیاور اس پر بارش ٹوٹ پڑیاک بیج کہیں پرساٹھ صدی کی آہٹ سے بیدار ہواجنگل بن کر پھیل گیاوہیں کہیں پر میں بھی تھاتم بھی تھیںتاریخ نے دستک دی تھیتاریخ اتری تھی دھرتی پروہ رات تھی پورن ماشی کیپھر دھرتی ہی تاریخ بنیتاریخ کوئی بندر تو نہیںتاریخ کوئی چہرہ تو نہیںتاریخ تو ایک سمندر ہےجو پورن ماشی کی راتوں میںپاگل ہو کر پھیلتا ہےاور سب کو بہا لے جاتا ہے
دل کا پھیلاؤ تو زمین کا پھیلاؤ ہےگندم پھل شیشم اور پانیپھر لڑکی اور ہوا میںنغمہ دل کے پرندوں کاان زندوں کا جو غیر منافع بخش زمین پہ رہتے ہیںپانی شیشم بچہ لڑکی تیز ہوا اور پھل میںخواب ہے صبح صادق کاان عورتوں کا جو دوسروں کی مرضی سے بیاہی جاتی ہیںان بوسوں کاجو گاڑی کی سیٹی سے ڈر جاتے ہیںشہر میں کون ہےجس نے آنکھ میں دریادل میں سمندردیکھا اور تسلیم کیا ہےدل کا پھیلاؤ تو زمین کا پھیلاؤ ہےجس میں پانی شیشم گندم بچہلڑکی تیز ہوا اور پھل کیرہائش گاہیں ہیں
شام کا پنجرہ میرے جسم پہ گر جاتا ہےاور میں درجہ دوم کا قیدیدشمن کے اخبار سے پوری دنیا کے لوگوں کی بگڑتی شکلیں دیکھنے لگتا ہوںاور سورج کی آزادیمیرے جینے کی خواہش کو اپنا دوست بنانے آ جاتی ہےمیرے ناشتے کے برتن میں میری محبت کے برسوں کا سارا ذائقہ بھر جاتا ہےسگریٹ کے ہر کش سے دریا کھینچ آتے ہیںاور پرندے اپنی اولادوں کو میرے گیت کا چوگا دیتے ہیںجب میرے پاؤں ان کے بنائے ضابطوں کی دلدل میں دھنس جاتے ہیںمیری آنکھیں لاکھوں میل سفر کر جاتی ہیںاور میرے بازو ریل کی دونوں پٹریاں بن کر پھیلتے ہیںجب میری رگوں میں شاعری خون بناتی ہےمیں شام کا پنجرہ توڑ کے باہر آ جاتا ہوںمیرے پاؤں کے سب رشتے اک دوجے سے جڑ جاتے ہیںمیرے لفظ درختوں کے گنبد میں کبوتر بن کے گٹلنے لگتے ہیںمیں اپنے سرہانے بیٹھے نیرودا سے کچھ باتیں پوچھتا ہوں
اس نے مجھے دھوپ بھری اجرک پیش کیمیں نے اس دھوپ کو اپنی زمین پر رکھاکپاس اور کھجور اگائیکھجور سے شراب اور کپاس سے اپنی محبوبہ کے لیےمہین ململ کاتیململ نے اس کے بدن کو چھوااس پر پھول نکل آئےشراب کو زمین میں دبایااس پر تاڑ کے درخت اگ آئےاس نے مجھے دھوپ بھری اجرک پیش کیمیں نے اس دھوپ کو اپنے دل پر رکھاجو سرسوں کا پھول بن گئیاس پھول سے ایک موسم پیدا ہواجس کا نام میں نے عشق اور سخاوت کا موسم رکھ دیااس موسم کے بیج سے ایک راستہاس کے گھر کی طرف نکلااس بیج سے پانچ کبوتر نکلےبھری ہوئی گاگر والے فقیر کے روضے پر جا کر بیٹھ گئےاس نے مجھے دھوپ سے بھری اجرک پیش کیمیں نے اسے تمہارے گھر کے زینے پر پھیلا دیاتاکہ تم دھوپ کی سیڑھیوں سے میرے دل میں اتر سکومجھے یاد ہے کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیںمیرا ستارہ تمہارے ستارے کے قریب سے گزرا ہےاس نے مجھے دھوپ بھری اجرک پیش کیمیں نے اسے سمندر میں پھیلا دیاہوا نے اس کا رس چوسااور مدہوش ہو کر بادبانوں سے لپٹ گئیسمندر کے اندر ایک اور سمندر نیند سے جاگادونوں ایک دوسرے کے خروش میںدیر تک اس دھوپ میں آنکھیں موندے لیٹے رہےاس نے مجھے دھوپ بھری اجرک پیش کیپھر میں نے وہ اجرک شہباز قلندر کے ایکفقیر کو دے دیاس نے مجھے دعا کا ایک بادل دیامیں جسے اپنے سر پر لئے پھرتا ہوں
اگر رات اور صبح میں فرق کوئی نہیں ہےہوا میں پرندوں کے ٹوٹے ہوئے پربکھرنے لگے ہیںزمینوں پہ احکام کے لمبے چابک سےتاریخ داں اپنی گردن جھکائے ہوئے ہیںنصیبوں کی آواز میں وقت ڈھلنے لگا ہےتو پھر!نظم لکھنے کی خواہشگنہ گار انصاف کے فیصلوں سے زیادہ بری تو نہیں ہےاگر موسموں کی رگوں میں لہو جم گیا ہےشکاری کی آنکھوں میں بارود جلنے لگا ہےدنوں کے تموج میںسورج کا چہرہ اترنے لگا ہےتو پھرسانس لینے کی خواہشنقب زن کی دھمکی سے زیادہ بری تو نہیں ہےمجھے نظم لکھنے دواور سانس لینے دوکچھ دیر اپنی کمانوں کو نیچا کروآج چھٹی کا دن ہے
میری باتیں جیسے دھوپ ہو سرما کی دالانوں میںبرفیں تیری خاموشی کیجن کے نیچے ہاتھ ہمارے مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیںساری بستیاں میرے تیرے قیام کو ترسیںہم مہمان بنیں تو ان کی بوڑھی گائیںخشک تھنوں سے دودھ اتاریںان کے بچے اپنے باپ کا کہنا مانیںان کے پرندے چھتوں پہ بیٹھ کے پر پھیلائیںہم دونوں کو بڑی بوڑھیاں چھوڑنے آئیں دروازوں تکمیری باتیں جیسے سچ ہو ڈرے ہوئے بچوں کاتیری خاموشی ہے جیسے دلہن مائیوں بیٹھےسارے رستے میری تیری چاپ کو ترسیںہم آئیں تو رستے نشیب سے اٹھ کرہم دونوں کو دیکھیںدور دور تک ہاتھ ہلائیںخوشیاں چیت کے موسم جیسیاور جو قسمیں ہم نے کھائیںعاشق شہزادوں کے مقبروں جیسی ان میں سچائی ہےجاناں بارش تھکی ہوئی ہےاس کو اپنے بالوں اور مساموں میں سو جانے دومیں دھوپ کا اک مشروبتمہارے واسطےسرما کے سورج سے مانگتا ہوں
جب میں خوابوں کی سطح سے گرتا ہوںوہ ہنستے ہیںاور آسمان کی بجلی ان کے دانتوں میں پھنس جاتی ہےجب تیس دنوں کی سیڑھی سے ہر ماہ میں نیچے گرتا ہوںوہ ہنستے ہیںاور ان کے ہاتھ میں میرے بدن کی مٹی ہےجب کچی سیاہی اور قینچی سے لکھے ہوئے اخبار سے نیچے گرتا ہوںوہ ہنستے ہیںاور ان کے ہاتھ میں میرے نام کی کلغی ہےجب ہوا اور دھوپ کے ہاتھ سے چھوٹ کے گرتا ہوںوہ ہنستے ہیںاور ان کے ہاتھ میں میرے دل کی پتیاں ہیںجب محبوبہ کے دھیان سے نیچے گرتا ہوںوہ ہنستے ہیںاور ان کے ہاتھ میں میری آنکھ کا پانی ہےجب میں کتاب کے سچ اور دن کے جھوٹ سے نیچے گرتا ہوںوہ ہنستے ہیںاور ان کے ہاتھ میں میری عمر کے صفحے ہیںمیں گرتا ہوںاور ان کو یہ معلوم نہیںمیں بالکل ایسے گرتا ہوں کہجیسے پکے ہوئے پھل میں سے بیج کا دانہ گرتا ہےمیں اپنی زمین پہ بالکل ایسے گرتا ہوں
ابھی کچھ دن لگیں گے خواب کو تعبیر ہونے میںکسی کے دل میں اپنے نام کی شمع جلانے میںکسی کے شہر کو دریافت کرنے میںکسی انمول ساعت میں کسی ناراض ساتھی کو ذرا سا پاس لانے میںابھی کچھ دن لگیں گےدرد کا پرچم بنانے میںپرانے زخم پہ مرہم لگانے میںمحبت کی کویتا کو ہوا کے رخ پہ لانے میںپرانی نفرتوں کو بھول جانے میںابھی کچھ دن لگیں گےرات کی دیوار میں اک در بنانے میںمقدر میں لگی اک گانٹھ کو آزاد کرنے میںنئے کچھ مرحلے تسخیر کرنے میںمرے غالبؔ، مرے ٹیگورؔ کو اپنا بنانے میںابھی کچھ دن لگیں گےدشت میں پھولوں کا گلدستہ سجانے میںابھی کچھ دن لگیں گےمگر یہ دن زیادہ تو نہیں ہوں گےبس اک موسم کی دوری پرکہیں ہم تم ملیں گےبس اک ساعت کی نزدیکی میںباہم مشورے ہوں گےبس اک گزرے ہوئے کل سے پرےہم پاس بیٹھیں گےبہت سا درس سہہ لیں گےبہت سی بات کر لیں گے!
جیسی زندگی ہم گزارتے ہیں ویسی موت ہمیں ملتی ہےہم بزدل آدمی کی زندگی گزارتے ہیںتو ہمیں موت بھی ویسی ہی بزدل نصیب ہوتی ہےہم خوب صورت زندگی جیتے ہیںتو موت بھی خوب صورت ملتی ہےہم محبت کی زندگی گزارتے ہیںتو موت بھی محبوبہ کی طرح ہمیں ملتی ہےانسان نے ہر شے کو گدلا کیا ہےہر قیمتی آدرش کو میلا کیا ہےہر لفظ کو بے معنی کیا ہےاللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہےلیکن انسان موت کو گدلا نہیں کر سکامیلا نہیں کر سکابے معنی نہیں کر سکامسخ نہیں کر سکاموت سے زیادہ خالص شے دنیا میں نہیں ہےاس سے زیادہ با معنی شے موجود نہیں ہےمگر میں کیوں ایسا کہہ رہا ہوںمجھے تو ایک بہت ہی خوب صورت زندگی بسر کرنی ہےمحبت سے لبریزرقص کرتی ہوئی زندگیجس میں رقاص غائب ہو جاتا ہےاور صرف رقص باقی رہتا ہےمجھے ایک بے حد لذت بھریرسیلی زندگی سے گلے ملنا ہےتاکہ میری موت بھی خوب صورت ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books