aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Asghar Nadeem Syed"
اے خاموشی!میرے خون میں چھپ کے بیٹھ
آج تم ایسے ہنسےجیسے کوئی آزاد کر دے سیکڑوں قیدی پرندے
مجھے ایک دن چاہیئےچاہے چھٹی کا دن ہو
میرے گھر کے سامنےرات کی گاڑی کا ایک پہیہ نکل گیا
جب ہم دونوں جدا ہوئے تھےاس نے پہنی سرما کی راتوں میں نکلے چاند کی ساڑی
میرے دل میں جنگل ہےاور اس میں بھیڑیا رہتا ہے
سورج آسمان سے گرااور لیموں بن گیا
میرے دن سیراب ہوئے ہیںنیندیں گھور سمندر جیسی
بانسری کی دھن سے چاول کی بالی تکدن پھیلا ہے
اے دوست! کبھی تو آ کے ملیہ دل تیرے لیے جاری ہے
آسماں ٹھہرا ہوا نیلا سمندراور زمیں سوکھا ہوا دریا
اس نے مجھے دھوپ بھری اجرک پیش کیمیں نے اس دھوپ کو اپنی زمین پر رکھا
دل کا پھیلاؤ تو زمین کا پھیلاؤ ہےگندم پھل شیشم اور پانی
یہ ساٹھ صدی کا قصہ ہےیہ ساٹھ برس کی بات نہیں
شام کا پنجرہ میرے جسم پہ گر جاتا ہےاور میں درجہ دوم کا قیدی
میری باتیں جیسے دھوپ ہو سرما کی دالانوں میںبرفیں تیری خاموشی کی
اگر رات اور صبح میں فرق کوئی نہیں ہےہوا میں پرندوں کے ٹوٹے ہوئے پر
جب میں خوابوں کی سطح سے گرتا ہوںوہ ہنستے ہیں
جیسی زندگی ہم گزارتے ہیں ویسی موت ہمیں ملتی ہےہم بزدل آدمی کی زندگی گزارتے ہیں
ہوا ہمارے دالانوں میں رک سی گئی ہےتم سے اجازت لے کر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books