aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daar-o-madaar-e-ishq"
وقار مادر ہندوستاں تھے گاندھی جی
رحم مادر سے نکلنا مرا بے سود ہواآج بھی قید ہوں میں
مٹا دومنقش در و بام کے جگمگاتے
ہم وہی اہل جنوں اہل وفا صاحب دلہم کہ ہر دور میں اوراق زمانہ کے امیں
گل سے اپنی نسبت دیرینہ کی کھا کر قسماہل دل کو عشق کے انداز سمجھانے لگیں
بیاباں کو کرتی ہے یہ لالہ زاراسی پر ترقی کا دار و مدار
کس سے اس درد جدائی کی شکایت کہیےیاں تو سینے میں نیستاں کا نیستاں ہوگا
پر عشق و وفا کے یاد رہے آداب اسےترا نام و مقام جو پوچھا، ہنس کر ٹال گیا
چونکہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہےاس لیے دیویوں پر شک کرنا حماقت ہے
آہ اس ملت کا کیوں گیہوں پہ ہے دار و مدارکاش کھاتی باجرا یا کاش یہ کھاتی جوار
دار و مدار تیرے ہی لطف و کرم پہ ہےتو مہرباں نہ ہو تو کوئی مہرباں نہ ہو
ہمیں اک دن وقار مادر ہندوستاں ہوں گے
گزر جاتا فغاں کرتا ہوا سنسان وادی سےفضاؤں کو جگا دیتا درائے کارواں ہو کر
اپنی آغوش میں لے مادر فطرت مجھ کوہے ترے سایۂ داماں کی ضرورت مجھ کو
مادر ہند زمانے میں تو آباد رہےہم بلا سے ہوں گرفتار تو آباد رہے
مسکراتے ہوئے کردار تھے مرزا غالبؔمادر ہند کے فن کار تھے مرزا غالبؔ
دم کہسار میں ڈھونڈا تو نہ نکلا کچھ بھیبرف پر چھڑکی ہوئی خون کی خوشبو کے سوا
خاکسران در پیر مغاں ہیں ہم لوگیعنی منجملۂ صاحب نظراں ہیں ہم لوگ
مادر ہند کے ماتھے کی شکن دور ہوئیچار سو سال کی ذلت کا نشاں
اجزائے پریشاں کے لیے دار فنا ہےترتیب عناصر ہی میں انساں کی بقا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books