aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "raftaarii"
کیا بچے سلجھے ہوتے ہیںجب گیند سے الجھے ہوتے ہیںوہ اس لیے مجھ کو بھاتے ہیںدن بیتے یاد دلاتے ہیںوہ کتنے حسین بسیرے تھےجب دور غموں سے ڈیرے تھےجو کھیل میں حائل ہوتا تھانفرین کے قابل ہوتا تھاہر اک سے الجھ کر رہ جانارک رک کے بہت کچھ کہہ جاناہنس دینا باتوں باتوں پربرسات کی کالی راتوں پربادل کی سبک رفتاری پربلبل کی آہ و زاری پراور شمع کی لو کی گرمی پرپروانوں کی ہٹ دھرمی پردنیا کے دھندے کیا جانیںآزاد یہ پھندے کیا جانیںمعصوم فضا میں رہتے تھےہم تو یہ سمجھ ہی بیٹھے تھےخوشیوں کا الم انجام نہیںدنیا میں خزاں کا نام نہیںماحول نے کھایا پھر پلٹاناگاہ تغیر آ جھپٹااور اس کی کرم فرمائی سےحالات کی اک انگڑائی سےآ پہنچے ایسے بیڑوں میںجو لے گئے ہمیں تھپیڑوں میںبچپن کے سہانے سائے تھےسائے میں ذرا سستائے تھےوہ دور مقدس بیت گیایہ وقت ہی بازی جیت گیااب ویسے مرے حالات نہیںوہ چیز نہیں وہ بات نہیںجینے کا سفر اب دوبھر ہےہر گام پہ سو سو ٹھوکر ہےوہ دل جو روح قرینہ تھاآشاؤں کا ایک خزینہ تھااس دل میں نہاں اب نالے ہیںتاروں سے زیادہ چھالے ہیںجو ہنسنا ہنسانا ہوتا ہےرونے کو چھپانا ہوتا ہےکوئی غنچہ دل میں کھلتا ہےتھوڑا سا سکوں جب ملتا ہےغم تیز قدم پھر بھرتا ہےخوشیوں کا تعاقب کرتا ہےمیں سوچتا رہتا ہوں یوں ہیآخر یہ تفاوت کیا معنییہ سوچ عجب تڑپاتی ہےآنکھوں میں نمی بھر جاتی ہےپھر مجھ سے دل یہ کہتا ہےماضی کو تو روتا رہتا ہےکچھ آہیں دبی سی رہنے دےکچھ آنسو باقی رہنے دےیہ حال بھی ماضی ہونا ہےاس پر بھی تجھے کچھ رونا ہے
پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئینیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئیڈگمگاتی جھومتی سیٹی بجاتی کھیلتیوادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئیتیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیںآندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئیجیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیتایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئینونہالوں کو سناتی میٹھی میٹھی لوریاںنازنینوں کو سنہرے خواب دکھلاتی ہوئیٹھوکریں کھا کر لچکتی گنگناتی جھومتیسر خوشی میں گھنگروؤں کی تال پر گاتی ہوئیناز سے ہر موڑ پر کھاتی ہوئی سو پیچ و خماک دلہن اپنی ادا سے آپ شرماتی ہوئیرات کی تاریکیوں میں جھلملاتی کانپتیپٹریوں پر دور تک سیماب جھلکاتی ہوئیجیسے آدھی رات کو نکلی ہو اک شاہی براتشادیانوں کی صدا سے وجد میں آتی ہوئیمنتشر کر کے فضا میں جا بجا چنگاریاںدامن موج ہوا میں پھول برساتی ہوئیتیز تر ہوتی ہوئی منزل بمنزل دم بہ دمرفتہ رفتہ اپنا اصلی روپ دکھلاتی ہوئیسینۂ کہسار پر چڑھتی ہوئی بے اختیارایک ناگن جس طرح مستی میں لہراتی ہوئیاک ستارہ ٹوٹ کر جیسے رواں ہو عرش سےرفعت کہسار سے میدان میں آتی ہوئیاک بگولے کی طرح بڑھتی ہوئی میدان میںجنگلوں میں آندھیوں کا زور دکھلاتی ہوئیرعشہ بر اندام کرتی انجم شب تاب کوآشیاں میں طائر وحشی کو چونکاتی ہوئییاد آ جائے پرانے دیوتاؤں کا جلالان قیامت خیزیوں کے ساتھ بل کھاتی ہوئیایک رخش بے عناں کی برق رفتاری کے ساتھخندقوں کو پھاندتی ٹیلوں سے کتراتی ہوئیمرغ زاروں میں دکھاتی جوئے شیریں کا خراموادیوں میں ابر کے مانند منڈلاتی ہوئیاک پہاڑی پر دکھاتی آبشاروں کی جھلکاک بیاباں میں چراغ طور دکھلاتی ہوئیجستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ واراپنا سر دھنتی فضا میں بال بکھراتی ہوئیچھیڑتی اک وجد کے عالم میں ساز سرمدیغیظ کے عالم میں منہ سے آگ برساتی ہوئیرینگتی مڑتی مچلتی تلملاتی ہانپتیاپنے دل کی آتش پنہاں کو بھڑکاتی ہوئیخودبخود روٹھی ہوئی بپھری ہوئی بکھری ہوئیشور پیہم سے دل گیتی کو دھڑکاتی ہوئیپل پہ دریا کے دما دم کوندتی للکارتیاپنی اس طوفان انگیزی پہ اتراتی ہوئیپیش کرتی بیچ ندی میں چراغاں کا سماںساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہوئیمنہ میں گھستی ہے سرنگوں کے یکایک دوڑ کردندناتی چیختی چنگھاڑتی گاتی ہوئیآگے آگے جستجو آمیز نظریں ڈالتیشب کے ہیبت ناک نظاروں سے گھبراتی ہوئیایک مجرم کی طرح سہمی ہوئی سمٹی ہوئیایک مفلس کی طرح سردی میں تھراتی ہوئیتیزئی رفتار کے سکے جماتی جا بجادشت و در میں زندگی کی لہر دوڑاتی ہوئیڈال کر گزرے مناظر پر اندھیرے کا نقاباک نیا منظر نظر کے سامنے لاتی ہوئیصفحۂ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوشحال و مستقبل کے دل کش خواب دکھلاتی ہوئیڈالتی بے حس چٹانوں پر حقارت کی نظرکوہ پر ہنستی فلک کو آنکھ دکھلاتی ہوئیدامن تاریکئ شب کی اڑاتی دھجیاںقصر ظلمت پر مسلسل تیر برساتی ہوئیزد میں کوئی چیز آ جائے تو اس کو پیس کرارتقائے زندگی کے راز بتلاتی ہوئیزعم میں پیشانی صحرا پہ ٹھوکر مارتیپھر سبک رفتاریوں کے ناز دکھلاتی ہوئیایک سرکش فوج کی صورت علم کھولے ہوئےایک طوفانی گرج کے ساتھ ڈراتی ہوئیایک اک حرکت سے انداز بغاوت آشکارعظمت انسانیت کے زمزمے گاتی ہوئیہر قدم پر توپ کی سی گھن گرج کے ساتھ ساتھگولیوں کی سنسناہٹ کی صدا آتی ہوئیوہ ہوا میں سیکڑوں جنگی دہل بجتے ہوئےوہ بگل کی جاں فزا آواز لہراتی ہوئیالغرض اڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطرشاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی
ہاں تصور کو میں اب اپنے بنا کر دولہااسی پردے کے نہاں خانے میں لے جاؤں گاکیسے تلوار چلی کیسے زمیں کا سینہدل بے تاب کی مانند تڑپ اٹھا تھاایک بے ساختہ انداز میں بجلی کی طرحجل پری گوشۂ خلوت سے نکل آئی تھی!زندگی گرم تھی ہر بوند میں آبی پاؤںخشک پتوں پہ پھسلتے ہوئے جا پہنچے تھے!میں بھی موجود تھا اک کرمک بے نام و نشاںمیں نے دیکھا کہ گھٹا شق ہوئی دھارا نکلیبرق رفتاری سے اک تیر کماں نے چھوڑااور وہ خم کھا کے لچکتا ہوا تھرا کے گراقلۂ کوہ سے گرتے ہوئے پتھر کی طرحکوئی بھی روک نہ تھی اس کے لیے اس کے لیےخشک پتوں کا زمیں پر ہی بچھا تھا بستراسی بستر پہ وہ انجان پری لیٹ گئی!
ہوا جاروب کش تھی آسماں آثار تنکوں کیجسے اپنی سہولت کے لیے دنیا... یہ تن آسان دنیا... اک مروت میںہجوم خلق کہتی ہےمری آنکھیں تہی گلدان کی صورت منڈیروں پرگلی سے اٹھنے والی گرد کو تتلی بتاتی ہیںیہ منظر منجمد ہو کر سفر آغاز کرتا ہےلہو کی برق رفتاری طنابیں کھینچ لیتی ہےیہ کیسی شام شہزادیشفق کے پھول تھالی میں سجائے زینۂ شب سے اتر آئیمیں سمجھا اس سے ملنے کی گھڑی آئیسلاخوں سے لہو پھوٹا لہو میں روشنی آئی
برق رفتاری پہ اپنی رشک کرتا تھا جہاںسوئے آزادی ہمارا قافلہ تھا تیز گامسیکھنا ہے لیکن اب مے خانۂ تعمیر میںجنبش نبض تمنا و خرام دور جاممنزل مقصود تک یہ قوم جا سکتی نہیںجس کے قبضے میں نہیں اسپ سیاست کی لگامہم کو بچنا چاہئے ہر اس برے اقدام سےجس سے ہو مطعون دنیا میں وطن کا نیک ناماتحاد و آشتی ہر دم رہیں پیش نظرجا گزیں دل میں رہے ذوق عمل بالالتزامدور آزادی کا گوہر عیش ہے عیش حلالدل یہ کہتا ہے کہ یوں پابند ہونا ہے حرامدل کی تلقینات پر پہلے عمل فرمائیےشوق سے پھر جشن آزادی مناتے جائیےعیش کے ساماں بھی ہوں اور فرض کا احساس بھیجشن بھی ہو غم زدوں کی ناز برداری بھی ہوداخل آداب مے نوشی ہو ساقی کا ادبمستیاں ہوں مستیوں کے ساتھ ہشیاری بھی ہوکچھ پئیں اور کچھ بچائیں تشنہ کاموں کے لیےسادگی کا ناز بھی انداز پرکاری بھی ہوحال کی خاطر خرد کوشی ہے مستحسن مگربہر مستقبل جنون ذوق بیداری بھی ہونرم رفتاری ہو وقت سیر گل زار طربراہ پرخار عمل میں گرم رفتاری بھی ہواس خوشی کے وقت کتنے دل ہیں غم سے پائماللطف آ جائے اگر ان سب کی غم خواری بھی ہورونے والوں کی ہنسی کو پہلے واپس لائیےشوق سے پھر جشن آزادی مناتے جائیے
میرے بچپن کی مری پیاری سہیلی گومتیتجھ پہ کیا گزری ہے کہ تو یوں سمٹ کر رہ گئیوہ تری مدھم سروں میں خوش بیانی کیا ہوئیوہ تری بے ساختہ طرز روانی کیا ہوئیشوخئ رفتار پر تیری فدا تھا لکھنؤہر قدم پر کہہ رہا نام خدا تھا لکھنؤکب بھلا اپنی حدوں میں اس طرح بہتی تھی توبے خودی میں سب کنارے توڑتی رہتی تھی تولکھنؤ والے ترے انداز کے دیوانے تھےشمع کے مانند تھی تو سب ترے پروانے تھےتیرے الہڑ پن کی وہ بے ساختہ مستانہ چالجیسے آ جائے قلندر کو کسی محفل میں حالجب کبھی لہریں شرارت پر تری آ جاتی تھیںدرمیان شہر بھی تب کشتیاں چل جاتی تھیںشہر سے باہر تھی تیری تیز رفتاری فزوںگھومتی اور موڑتی رہتی تھی اپنی چال تونیمۂ شعبان کی راتوں میں آرائش تریتیرتے بجروں سے روشن حسن و زیبائش تریروشنی سے مانگ میں افشاں بھرے رہنا ترادونوں جانب زلف کا سایہ کئے بہنا تراحسن کا تیرے اجالا تھا اودھ کی شام میںدل کشی تیری تھی ساری لکھنؤ کے نام میںشہر کی ساری کثافت یوں چھپا لیتی تھی توزخم دل پر ریشمی آنچل اڑھا دیتی تھی تواوڑھنی آب رواں کی پھینکتی رہتی تھی تورقص کرتی گرتی پڑتی بھاگتی چلتی تھی توتیرے فطری رقص کو زنجیر پا کس نے کیاحسن بے پروا کو پابند حیا کس نے کیاکیوں زمانے کے ستم اس طرح تو سہنے لگیآنسوؤں کی نہر کے ساتھ کیوں بہنے لگی
سننے والوں کو دھڑکتی ہوئی تنہائی میںکون در آتا ہے چپکے سے تمنا بن کرکس کی آواز ہواؤں کی سبک لہروں پررقص کرتی نظر آتی ہے تماشا بن کرکون لفظوں کو عطا کرتا ہے تصویر کا حسنکون دل میں اتر آتا ہے مسیحا بن کرکس کی دھڑکن میں ہے کرداروں کے دل کی دھڑکنکون ابھر آتا ہے مہتاب کا ہالہ بن کرکتنے ذہنوں کے افق کتنے دلوں کے افلاکتیرگی میں بھی فروزاں ہیں اجالا بن کرکتنے انجانوں کی تسکین سماعت کے لیےاپنی آواز کے جادو سے یہ رس گھولتے ہیںسرسراتے ہوئے لمحوں کی سبک رفتاریکہہ رہی ہے کہ یہ طوفانوں میں پر تولتے ہیںکوئی بھی روپ ہو بہروپ بدل کر یہ لوگپیچ در پیچ فسانوں کی گرہ کھولتے ہیںوہ شہنشہ ہو کہ دریوزہ گر راہ حیاتاپنے کردار کے اوصاف لیے
مجھے بے رحم ہستی کے زیاں خانے میں کیوں بھیجا گیاکیوں حلقۂ زنجیر میں رکھ دی گئیں بے تابیاں میریہر اک منظر مری نظروں کا جویا تھافروزاں شاخساروں پر ہجوم رنگ و بواڑتا ہوا بر رواںسیماب پا موجیںصبا کا رقص بے پرواشب مہتاب کا افسوںمہ و انجم کے رقصاں دائرےروئے شفقتاباں افقدریاؤں کی رفتارشب کے جاگتے اسرارصحرا کا منور سینۂ عریاںطلسم بیکراں کے خواب گوں سائےمری راتوں میں مثل برق لہرائےستاروں کی تجلی میں تھا حرف کن کا افسانہبڑا فیاض تھا فطرت کا کاشانہکئی صحرا مرے گام تمنا کے شناسا تھےوہ حرف و صوت کی وادیوہ ذوق شعر کا جادہوہ عرفاں کے گریزاں آستانوں پر جبیں سائیوہ دانش کی پذیرائیوہ معنی کی گھنیری چھاؤں میںذہن رسا کا کشف وہاسرار کے پردے کے پیچھےدل کی محشر خیز آوازیںدل کی محشر خیز آوازیںوہ غم ہائے نہانی سے فروزاں ذوق بینائی
تیز باؤلرہم کو تو کچھ نظر نہیں آتالوگ کہتے ہیں بال آتا ہےالاماں اس کی تیز رفتاریبال ہے یا خیال آتا ہےبال آتا ہے یا نہیں آتاکچھ مگر لال لال آتا ہےہماری ٹیمہم نے اپنی ٹیم میں دیکھےالہڑ بلھڑ اہلے گہلےکوئی پیڈ لگا کر گھومےکوئی بیٹ اٹھا کر ٹہلےگیند اچھالو دھیرے دھیرےکھیل رہے ہیں پہلے پہلے
ریل کی آہنی پہیوں میںاک جنبش ہوئیدھیرے دھیرے بڑھی رفتار اس کیپہلے درجے کےایک ڈبے میںایک تنہا مسافرمڑ مڑ کر یہ کس کو دیکھتا تھاہلا کر ہاتھ اس سےکہہ رہا تھاالوداع رخصتاور وہ ننھی سیاک معصوم بچیاپنی ماں کا ہاتھ مضبوطی سے تھامےریل کی بڑھتی ہوئی رفتار کونیچا دکھانےدوڑنے لگتی ہے تیزی سے اوررندھی ہوئی آواز میںیہ کہتی جاتی ہےخدا حافظ مرے بابا خدا حافظآداب مرے بابا آدابتیز رفتاری سے گاڑیہو گئی نظروں سے اوجھل اورماں کے پیروں سے لپٹ کرروتے روتےکہا بچی نےامی جیسے بابا جانہم کو چھوڑ کر تنہا گئے ہیںدور ہم سب سےیہ وعدہ کیجئے امیکہ مجھ کو چھوڑ کربالکل اکیلیکبھی مت جائیے گاکبھی مت جائیے گامیری امی میری امی
بڑی حیران کن ہےحقیقت خواب ہے یا خواب سے آگے کی منزلیہ دنیا خواب کی دنیا پہ سبقت لے گئی ہےفسانوں سے فزوں تر زندگی ہےگماں کی سرحدیں ہوں یا تخیل کی اڑانیںخرد کی جست سے پیچھے کہیں پیچھے دکھائی دے رہی ہیںخرد کی دسترس میں کیا نہیں ہےنہیں ہے غیر ممکنکبھی امکان سے جو ماورا تھافقط اک داستاں ہےگئے وقتوں میں جو رائج اساطیری خدا تھادر ایجاد کی چوکھٹ پہ حیرت سرنگوں ہےیہ سب ادراک کا دست جنوں ہےپس ادراک جلوہ آفریں ہے عقل کی جادو نگاہیشعور عصر حاضر میں سمٹتی ہے خدائیسماعت کا یہ عالم ہے جو گم گشتہ صدائیں تھی سنائی دے رہی ہیںبصارت اس بلا کی ہے کہ ذرے میں بھی دنیائیں دکھائی دے رہی ہیںجہان آگہی کے راستوں پر چلتے چلتےستاروں کو سر امکاں تلک اب لا چکے ہیںنئی دنیاؤں کے ہم بھید کیا کیا پا چکے ہیںخرد یہ چاہتی ہے موت کو بھی زیر کر دےوجود ہست پھیلا دے قیام زندگی تا دیر کر دےخرد کی یہ فسوں کاری یہ اتنی تیز رفتاری کہاں جا کر تھمے گیکہاں پر ختم ہوگیکہانی جستجو کیجہاں انسان کی اگلا پڑاؤ ہے وہ منزلوہ منزل اجنبی رستوں کا حاصلکسی انجان دنیا سے مماثلمجھے یہ خوف کھائے جا رہا ہےکہ اپنی ذات اپنے آپ سے ہمکہیں نکلیں تو اتنی دور جا پہنچیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہو
یہ ادائیں رقص کے ہنگام کتنی رقص خیزوہ جوانان قبیلہ ہوش سے باہر چلےکاکلوں کے سنبلستاں عارضوں پر عکس ریزجیسے ساحل کا نظارا آب دریا پر چلےاک تأثر ہے کہ رقصاں ہو رہا ہے ہر طرفشمعیں روشن ہیں چراغاں ہو رہا ہے ہر طرفآگ کے اطراف روشن جیسے اک فانوس رقصرقص کرتی لڑکیاں کچھ آگ کے اطراف یوںجیسے سطح آب پر مہتاب کے ہالے کا عکسجس کو جھولے میں جھلائیں موج ہائے سیمگوںمل کے جب جھکتی ہیں لگتی ہیں کلی منہ بند سیاور جب تنتی ہیں کس درجہ بھلی دل بند سیاک طرف وہ سرخ مشعل ہاتھ میں لے کر چلےکچھ حسیں کچھ نازنیں کچھ سرو قد کچھ سیم تنجیسے کچھ پھولوں کے نازک نرم رو لشکر چلےنرم رفتاری میں دجلہ کے تموج کی پھبنجیسے صحراؤں کے آہو محو گلگشت چمنیہ حسیں آہو قدم آہو نفس آہو مزاجلے رہے ہیں نوجوانان قبیلہ سے خراججلوہ پیرا جلوہ ساماں کتنے دل کش ماہتابکتنے افسانوں کے پیکر کتنے رنگ و بو کے خوابوہ جبینوں کے عرق میں جیسے شعلوں کے سرابجیسے صندل میں شراروں کے تبسم محو خوابشعلہ افشاں کاکلوں میں سرخ پھولوں کے چراغجیسے تاریکی میں مل جائیں اجالے کے سراغعارضوں کی چاندنی پھیلی ہوئی سی ہر طرفہر طرف ہے ایک ترکش ایک آہو ہر قدمکر رہے ہیں رقص دف پر مہو شان جلوہ تابہر طرف بکھرے ہوئے ہیں وادیٔ دجلہ کے خوابکچھ کنول کچھ نسترن کچھ سنبلستاں کچھ گلاب
یہ بے نور اندھی سیاست کا بازار ہےمصلحت کی دکاں ہےشناسا یہاں اجنبی ہیںمسرت کے لمحے بھی بے جان ہیںجسم و جاں کی حقیقت نہیں ہیںریاکار سوچوں کےجامد حصاروں میں لپٹی ہوئیسر زمین کہہ رہی ہےکہ یہ محفل تنگ داماں ہےساقی کا اعجازمطرب کی آوازاور نعرۂ سرمدی کچھ نہیں ہے یہاںتو بسذوق ہستی کابیدارئ آرزو کا اثاثہ سمیٹوانہیں بے نوائی کے غاروں میں کھو جاؤ جا کرجہاں کونے کونے میںہر کنج میں ہر قدم پرسکوت مکمل کا آسیب ہےشور و غوغا کا جنگل ہےاور گلشن نطق بے برگ و بار و ثمر ہےکہ اس محبس فکر میں خیالوں کی محشر خرامیاندھیروں اجالوں کی تکرار پیہم نہیں ہےاسی کنج بیگانگی میں چھپا لو دل و جاںجہاں سحر خیز بیدار روحیںکبھی نشۂ مے سے سرشار تھیں جوخمار تمنا گنوا کرسبک نرم خوابوں سے دامن بچا کرکار گاہ ہنر سے نگاہیں چرا کرزمانے کے نقش قدم دیکھتے دیکھتےسو گئی ہیںکہ وہ بار حریت دین و دل سےسبکبار سی ہو گئی ہیںاگر جان و دل پھر بھیبیدارئ آرزوفتنہ سازئ حق بینی و گرم رفتارئ جستجو پر مصر ہوںتو دیوار محبس کے روزن کو آنکھیں بنا لونگاہیں افق پر جما لو
میں نے جب سے اپنے کمرے کیبستر کے سامنے والی دیوار پر ٹنگی گھڑی اتاری ہےتب سے اس دیوار پر آنکھیں اگنا شروع ہو گئی ہیںگھڑی کے اندرگول گول گھومتا وقت چکرا کر ٹھہر گیا تھااب دیوار پر اگی ان تمام آنکھوں میںگھڑیاں بنی ہوئی ہیںاور ہر گھڑی مختلف وقت پر رکی ہوئی ہےلیکن آنکھوں کی بیل کے سائے میں پڑاڈریسنگ ٹیبل کا آئینہ بتاتا ہےکہ وقت چل رہا ہےتیز رفتاری سےاتنی تیز رفتاری سےکہ اکثر ہانپ جاتا ہے
کبھی عتاب بزرگاں کے خوف سے پیداگلی کے موڑ پہ بے وجہ تیز رفتاری
کبھی میں خواب کے سیارچے میں بیٹھ جاتا ہوںعقیدت گاہ سے مانگی ہوئی عینک لگاتا ہوںگماں کے اسپ تازی پر کمال برق رفتاری دکھاتا ہوں
جب رات بھیگ جاتی ہےتو اس کا نمکور بصر خوابوں کے سوکھے لبوں تک پہنچتا ہےاور تشنہ کام خوابوں کا دم ٹوٹنے سے ذرا پہلےان کو زندگی کی نوید سناتا ہےخواب جب موت کے دہانے سے پلٹ کر آتے ہیںتو زندگی ان کے رگ و پے میں سرعت سے دوڑتی ہےمہمیز شوق میں وہ اپنی بے بصری کو فراموش کیےتیز رفتاری کی آخری ممکنہ حد کو چھوتے ہوئےتعبیر کی منزل تک پہنچنا چاہتے ہیںموت کا سہم ان کے اعصاب شل کیے دیتا ہےبے بصری انہیں نظر نظر بھٹکاتی ہےزندگی کی بے ثباتی کا خوفدیو ہیکل جلاد کی صورت مجسم ہو کران کی شاہ رگ دبوچنے کے درپے ہوتا ہےوہ جانتے ہیںکہ چاہ کر بھی اس گرفت سےدیر تک اور دور تک آزاد نہیں رہ سکتےاسی خوف کے زیر اثرمیسر وقت میںوہ صدیوں کو لمحوں میں جی لینا چاہتے ہیںاور لمحوں سے صدیاں کشید کرنا چاہتے ہیں
میں کھڑی تھی زیبرا کراسنگ پراس امید پر شایدوہ ادھر سے گزرے گااور ایک پل رک کرخود سے وہ یہ بولے گااپنی برق رفتاری پر میں خود پشیماں ہوںزیبرا کراسنگ سے مجھ کو ایک پل دے دےمیں جہاں پہ خود رک کرخود پہ بھی نظر ڈالوںاور بس یہی لمحہخواہشوں کی جھیلوں پربرف کی طرح جم کرمیرے ذہن و دل پر بھیزیبرا کراسنگ سیلائنیں بنا دے گااور یہ بھاگتے لمحےکچھ گھڑی کو ٹھہرے توتم بھی یاد آؤ گے ہم بھی یاد آئیں گے
تند رفتاریٔ لمحات اسیری کی قسمنیند سے چونک کے تسکین نہ کھوصبر تو کر
میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میںوقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہچاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغمستقل بعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books