استاد پر اشعار

استاد کو موضوع بنانے والے یہ اشعار استاد کی اہمیت اور شاگرد و استاد کے درمیان کے رشتوں کی نوعیت کو واضح کرتے ہیں یہ اس بات پر بھی روشنی ڈالتے ہیں کہ نہ صرف کچھ شاگردوں کی تربیت بلکہ معاشرتی اور قومی تعمیر میں استاد کا کیا رول ہوتا ہے ۔ اس شاعری کے اور بھی کئی پہلو ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔

ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت

ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت

الطاف حسین حالی

ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا

وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں

چکبست برج نرائن

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک

ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

نامعلوم

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر

آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

نامعلوم

رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے

استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے

نامعلوم

وہی شاگرد پھر ہو جاتے ہیں استاد اے جوہرؔ

جو اپنے جان و دل سے خدمت استاد کرتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

شاگرد ہیں ہم میرؔ سے استاد کے راسخؔ

استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا

راسخ عظیم آبادی

اب مجھے مانیں نہ مانیں اے حفیظؔ

مانتے ہیں سب مرے استاد کو

حفیظ جالندھری

استاد کے احسان کا کر شکر منیرؔ آج

کی اہل سخن نے تری تعریف بڑی بات

منیرؔ  شکوہ آبادی

کس طرح امانتؔ نہ رہوں غم سے میں دلگیر

آنکھوں میں پھرا کرتی ہے استاد کی صورت

امانت لکھنوی

اہل بینش کو ہے طوفان حوادث مکتب

لطمۂ موج کم از سیلئ استاد نہیں

مرزا غالب

یہ فن عشق ہے آوے اسے طینت میں جس کی ہو

تو زاہد پیر نابالغ ہے بے تہہ تجھ کو کیا آوے

میر تقی میر

محروم ہوں میں خدمت استاد سے منیرؔ

کلکتہ مجھ کو گور سے بھی تنگ ہو گیا

منیرؔ  شکوہ آبادی