عبد الحمید عدم

  • 1910-1981

مقبول عام شاعر، زندگی اور محبت پر مبنی رومانی شاعری کے لیے معروف

info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آنکھوں سے پلاتے رہو ساغر میں نہ ڈالو


اب ہم سے کوئی جام اٹھایا نہیں جاتا

اے دوست محبت کے صدمے تنہا ہی اٹھانے پڑتے ہیں


رہبر تو فقط اس رستے میں دو گام سہارا دیتے ہیں

اے غم زندگی نہ ہو ناراض


مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی

بعض اوقات کسی اور کے ملنے سے عدمؔ


اپنی ہستی سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے

بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ


بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا

چھپ چھپ کے جو آتا ہے ابھی میری گلی میں


اک روز مرے ساتھ سر عام چلے گا

دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں


دوستوں کی مہربانی چاہئے

دل خوش ہوا ہے مسجد ویراں کو دیکھ کر


میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے

گرتے ہیں لوگ گرمئ بازار دیکھ کر


سرکار دیکھ کر مری سرکار دیکھ کر

حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہو


جھوٹی قسمیں ضرور کھایا کرو

اجازت ہو تو میں تصدیق کر لوں تیری زلفوں سے


سنا ہے زندگی اک خوبصورت دام ہے ساقی

اک حسیں آنکھ کے اشارے پر


قافلے راہ بھول جاتے ہیں

کون انگڑائی لے رہا ہے عدمؔ


دو جہاں لڑکھڑائے جاتے ہیں

میں بد نصیب ہوں مجھ کو نہ دے خوشی اتنی


کہ میں خوشی کو بھی لے کر خراب کر دوں گا

میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا


ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

ساقی مرے خلوص کی شدت کو دیکھنا


پھر آ گیا ہوں گردش دوراں کو ٹال کر

شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ


محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں

شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے


یہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا

صرف اک قدم اٹھا تھا غلط راہ شوق میں


منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈتی رہی

تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا


خوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا

comments powered by Disqus