ADVERTISEMENT

اشعار پربارش

بارش کا لطف یا تو آپ

بھیگ کر لیتے ہوں گے یا بالکنی میں بیٹھ کر گرتی ہوئی بوندوں اور چمک دار آسمان کو دیکھ کر، لیکن کیا آپ نے ایسی شاعری پڑھی ہے جو صرف برسات ہی نہیں بلکہ بے موسم بھی برسات کا مزہ دیتی ہو ؟ ۔ یہاں ہم آپ کے لئے ایسی ہی شاعری پیش کر رہے ہیں جو برسات کے خوبصورت موسم کو موضوع بناتی ہے ۔ اس برساتی موسم میں اگر آپ یہ شاعری پڑھیں گے تو شاید کچھ ایسا ہو، جو یادگار ہوجائے۔

اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیں

بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی

جمال احسانی

دھوپ نے گزارش کی

ایک بوند بارش کی

محمد علوی

تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں

وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

جمال احسانی

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے

جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

پروین شاکر
ADVERTISEMENT

ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر

وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے

سجاد باقر رضوی

میں وہ صحرا جسے پانی کی ہوس لے ڈوبی

تو وہ بادل جو کبھی ٹوٹ کے برسا ہی نہیں

سلطان اختر

برسات کے آتے ہی توبہ نہ رہی باقی

بادل جو نظر آئے بدلی میری نیت بھی

حسرتؔ موہانی

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا

اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

قتیل شفائی
ADVERTISEMENT

بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ

بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا

عبد الحمید عدم

ساتھ بارش میں لیے پھرتے ہو اس کو انجمؔ

تم نے اس شہر میں کیا آگ لگانی ہے کوئی

انجم سلیمی

کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں

تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو

جاذب قریشی

اوس سے پیاس کہاں بجھتی ہے

موسلا دھار برس میری جان

راجیندر منچندا بانی
ADVERTISEMENT

کچے مکان جتنے تھے بارش میں بہہ گئے

ورنہ جو میرا دکھ تھا وہ دکھ عمر بھر کا تھا

اختر ہوشیارپوری

یاد آئی وہ پہلی بارش

جب تجھے ایک نظر دیکھا تھا

ناصر کاظمی

بھیگی مٹی کی مہک پیاس بڑھا دیتی ہے

درد برسات کی بوندوں میں بسا کرتا ہے

مرغوب علی

برسات کا بادل تو دیوانہ ہے کیا جانے

کس راہ سے بچنا ہے کس چھت کو بھگونا ہے

ندا فاضلی
ADVERTISEMENT

ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں برسے گی شراب

آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا

سدرشن فاکر

دفتر سے مل نہیں رہی چھٹی وگرنہ میں

بارش کی ایک بوند نہ بیکار جانے دوں

اظہر فراغ

ہم سے پوچھو مزاج بارش کا

ہم جو کچے مکان والے ہیں

اشفاق انجم

گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں

کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

قتیل شفائی
ADVERTISEMENT

دور تک پھیلا ہوا پانی ہی پانی ہر طرف

اب کے بادل نے بہت کی مہربانی ہر طرف

شباب للت

برس رہی تھی بارش باہر

اور وہ بھیگ رہا تھا مجھ میں

نذیر قیصر

کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاں

اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا

کیف بھوپالی

گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاں

چھتوں پر کھلے پھول برسات کے

منیر نیازی
ADVERTISEMENT

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

محسن نقوی

کیا کہوں دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے

سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے

شکیب جلالی

عجب پر لطف منظر دیکھتا رہتا ہوں بارش میں

بدن جلتا ہے اور میں بھیگتا رہتا ہوں بارش میں

خالد معین

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی

پھر یہ بارش مری تنہائی چرانے آئی

کیف بھوپالی
ADVERTISEMENT

اور بازار سے کیا لے جاؤں

پہلی بارش کا مزا لے جاؤں

محمد علوی

فلک پر اڑتے جاتے بادلوں کو دیکھتا ہوں میں

ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تماشا کیسا لگتا ہے

عبد الحمید

کچی دیواروں کو پانی کی لہر کاٹ گئی

پہلی بارش ہی نے برسات کی ڈھایا ہے مجھے

زبیر رضوی

وہ اب کیا خاک آئے ہائے قسمت میں ترسنا تھا

تجھے اے ابر رحمت آج ہی اتنا برسنا تھا

کیفی حیدرآبادی
ADVERTISEMENT

آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو

یہ برکھا برساتے دن تو بن پریتم بیکار گئے

حبیب جالب

فرقت یار میں انسان ہوں میں یا کہ سحاب

ہر برس آ کے رلا جاتی ہے برسات مجھے

امام بخش ناسخ