خوشی پر شاعری

زندگی میں مستقل کیفیت دکھ اورغم کی ہے ۔ خوشی کے لمحے بہت عارضی ہوتے ہیں خوشی اپنی انتہا پرپہنچ کرایک اورنئے دکھ کو پیدا کرلیتی ہے ۔ شاعروں نے زندگی کے ان تمام پہلوؤں پرشاعری کی ہے ۔ اس شاعری میں خوشی کی تلاش کا مرحلہ ایک نا ختم ہونے والامرحلہ ثابت ہوتا ہے ۔ ہمارایہ انتخاب زندگی کی ان بنیادی سچائیوں کےعرفان کی رودا ہے ۔


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے


بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے

اگر تیری خوشی ہے تیرے بندوں کی مسرت میں


تو اے میرے خدا تیری خوشی سے کچھ نہیں ہوتا

احباب کو دے رہا ہوں دھوکا


چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

عیش ہی عیش ہے نہ سب غم ہے


زندگی اک حسین سنگم ہے

ڈھونڈ لایا ہوں خوشی کی چھاؤں جس کے واسطے


ایک غم سے بھی اسے دو چار کرنا ہے مجھے

ایک وہ ہیں کہ جنہیں اپنی خوشی لے ڈوبی


ایک ہم ہیں کہ جنہیں غم نے ابھرنے نہ دیا

غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں


میں دل کو اس مقام پہ لاتا چلا گیا

غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس


سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے

جیسے اس کا کبھی یہ گھر ہی نہ تھا


دل میں برسوں خوشی نہیں آتی

میں بد نصیب ہوں مجھ کو نہ دے خوشی اتنی


کہ میں خوشی کو بھی لے کر خراب کر دوں گا

مسرت زندگی کا دوسرا نام


مسرت کی تمنا مستقل غم

مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے


یہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہے

پھر دے کے خوشی ہم اسے ناشاد کریں کیوں


غم ہی سے طبیعت ہے اگر شاد کسی کی

سفید پوشیٔ دل کا بھرم بھی رکھنا ہے


تری خوشی کے لیے تیرا غم بھی رکھنا ہے

صوت کیا شے ہے خامشی کیا ہے


غم کسے کہتے ہیں خوشی کیا ہے

سنتے ہیں خوشی بھی ہے زمانے میں کوئی چیز


ہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں کدھر ہے یہ کہاں ہے

تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزری


تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے

تیرے آنے سے یو خوشی ہے دل


جوں کہ بلبل بہار کی خاطر

وصل کی رات خوشی نے مجھے سونے نہ دیا


میں بھی بے دار رہا طالع بے دار کے ساتھ

وہ دل لے کے خوش ہیں مجھے یہ خوشی ہے


کہ پاس ان کے رہتا ہوں میں دور ہو کر

موضوع