معنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم


اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ


پھر ملیں گے اگر خدا لایا

چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر


منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ

دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا


ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا


دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میرؔ


کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے


کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

جم گیا خوں کف قاتل پہ ترا میرؔ زبس


ان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے

کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک


مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام


آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں


تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

میرؔ ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے


اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو


قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

مرے سلیقے سے میری نبھی محبت میں


تمام عمر میں ناکامیوں سے کام لیا

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے


پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے


جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا


آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو


ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور


شمع حرم ہو یا ہو دیا سومنات کا

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ


نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

comments powered by Disqus