Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یوم اساتذہ پر شعر

کسی بھی طالب علم کی زندگی میں استاد کا ایک اہم مقام ہوتا ہے۔ جہاں ماں باپ بچوں کی جسمانی نشو و نما میں حصہ لیتے ہیں وہیں استاد ذہنی ترقی میں۔ آج کا دن استاد کی انہیں عنایتوں کے لیے خراج تحسین پیش کرنے کا ہے۔ اس عالمی یوم استاد پر ہم نے آپ کے لیے کچھ اچھے شعروں کا ایک انتخاب کیا ہے انہیں پڑھیے اور اپنے استادوں کے ساتھ شئیر کیجیے۔

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک

ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

نامعلوم

ماں باپ اور استاد سب ہیں خدا کی رحمت

ہے روک ٹوک ان کی حق میں تمہارے نعمت

الطاف حسین حالی

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر

آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

نامعلوم

شاگرد ہیں ہم میرؔ سے استاد کے راسخؔ

استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا

راسخ عظیم آبادی

ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا

وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں

چکبست برج نرائن

رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے

استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے

نامعلوم

وہی شاگرد پھر ہو جاتے ہیں استاد اے جوہرؔ

جو اپنے جان و دل سے خدمت استاد کرتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

وہ عجب گھڑی تھی میں جس گھڑی لیا درس نسخۂ عشق کا

کہ کتاب عقل کی طاق پر جوں دھری تھی تیوں ہی دھری رہی

سراج اورنگ آبادی

مدرسہ میرا میری ذات میں ہے

خود معلم ہوں خود کتاب ہوں میں

ساقی امروہوی

استاد کے احسان کا کر شکر منیرؔ آج

کی اہل سخن نے تری تعریف بڑی بات

منیر  شکوہ آبادی

اب مجھے مانیں نہ مانیں اے حفیظؔ

مانتے ہیں سب مرے استاد کو

حفیظ جونپوری

فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے

درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی

نصیر احمد ناصر

کس طرح امانتؔ نہ رہوں غم سے میں دلگیر

آنکھوں میں پھرا کرتی ہے استاد کی صورت

امانت لکھنوی

محروم ہوں میں خدمت استاد سے منیرؔ

کلکتہ مجھ کو گور سے بھی تنگ ہو گیا

منیر  شکوہ آبادی

مجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجے

میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں

اصغر گونڈوی

سچ یہ ہے ہم ہی محبت کا سبق پڑھ نہ سکے

ورنہ ان پڑھ تو نہ تھے ہم کو پڑھانے والے

انور جمال انور

شاگرد طرز خندہ زنی میں ہے گل ترا

استاد عندلیب ہیں سوز و فغاں میں ہم

حیدر علی آتش

پڑھنے والا بھی تو کرتا ہے کسی سے منسوب

سبھی کردار کہانی کے نہیں ہوتے ہیں

ناظر وحید

ہے اور علم و ادب مکتب محبت میں

کہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا

شیخ ابراہیم ذوقؔ

موئے جز میرؔ جو تھے فن کے استاد

یہی اک ریختہ گو اب رہا ہے

مصحفی غلام ہمدانی
بولیے