Khumar Barabankavi's Photo'

خمارؔ بارہ بنکوی

1919 - 1999 | بارہ بنکی, ہندوستان

مقبول عام شاعر، فلمی نغمے بھی لکھے

مقبول عام شاعر، فلمی نغمے بھی لکھے

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں

جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم

قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھئے

دشمنوں سے پیار ہوتا جائے گا

دوستوں کو آزماتے جائیے

خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سے

فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے

اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھے

وہ آ بھی جائیں تو آئے اعتبار مجھے

دوسروں پر اگر تبصرہ کیجئے

سامنے آئنہ رکھ لیا کیجئے

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی

حد سے بڑھے جو علم تو ہے جہل دوستو

سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں

knowledge, friends, is poisonous, if its in excess

those who, say, know everything, no knowledge do possess

knowledge, friends, is poisonous, if its in excess

those who, say, know everything, no knowledge do possess

سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں

تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں

غم ہے نہ اب خوشی ہے نہ امید ہے نہ یاس

سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے

محبت کو سمجھنا ہے تو ناصح خود محبت کر

کنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتا

if love you need to fathom, friend, in love you need to be

the storm cannot be felt by merely sitting by the sea

if love you need to fathom, friend, in love you need to be

the storm cannot be felt by merely sitting by the sea

تجھ کو برباد تو ہونا تھا بہرحال خمارؔ

ناز کر ناز کہ اس نے تجھے برباد کیا

آج ناگاہ ہم کسی سے ملے

بعد مدت کے زندگی سے ملے

today I chanced on someone unexpectedly

it was after ages life was face to face with me

today I chanced on someone unexpectedly

it was after ages life was face to face with me

پھول کر لے نباہ کانٹوں سے

آدمی ہی نہ آدمی سے ملے

چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں

نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے

عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمارؔ

عقل کی سنیے دل کا کہا کیجئے

گزرے ہیں میکدے سے جو توبہ کے بعد ہم

کچھ دور عادتاً بھی قدم ڈگمگائے ہیں

او جانے والے آ کہ ترے انتظار میں

رستے کو گھر بنائے زمانے گزر گئے

جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں

کس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں

ہاتھ اٹھتا نہیں ہے دل سے خمارؔ

ہم انہیں کس طرح سلام کریں