نگاہ پر شاعری

معشوق کی ایک نگاہ کے لئے تڑپنا اور اگر نگاہ پڑ جائے تو اس سے زخمی ہوکر نڈھال ہوجانا عاشق کا مقدر ہوتا ہے ۔ ایک عاشق کو نظر انداز کرنے کے دکھ ، اور دیکھے جانے پر ملنے والے ایک گہرے ملال سے گزرنا ہوتا ہے ۔ یہاں ہم کچھ ایسے ہی منتخب اشعار پیش کر رہے ہیں جو عشق کے اس دلچسپ بیانیے کو بہت مزے دار انداز میں سمیٹے ہوئے ہیں ۔

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی

کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا

اسرار الحق مجاز

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

ارشد علی خان قلق

آنکھیں جو اٹھائے تو محبت کا گماں ہو

نظروں کو جھکائے تو شکایت سی لگے ہے

جاں نثاراختر

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا

نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

علامہ اقبال

سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں

کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا

ندا فاضلی

خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سے

فرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہے

خمارؔ بارہ بنکوی

نگاہیں اس قدر قاتل کہ اف اف

ادائیں اس قدر پیاری کہ توبہ

آرزو لکھنوی

یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا

کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے

احمد فراز

کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ

کی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے

مرزا غالب

لوگ نظروں کو بھی پڑھ لیتے ہیں

اپنی آنکھوں کو جھکائے رکھنا

اختر ہوشیارپوری

ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے

دو زہر کے پیالوں میں قضا کھیل رہی ہے

اختر شیرانی

آنکھیں نہ جینے دیں گی تری بے وفا مجھے

کیوں کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے

امداد علی بحر

محبت کا تم سے اثر کیا کہوں

نظر مل گئی دل دھڑکنے لگا

اکبر الہ آبادی

میں عمر بھر جواب نہیں دے سکا عدمؔ

وہ اک نظر میں اتنے سوالات کر گئے

عبد الحمید عدم

ساقی مجھے شراب کی تہمت نہیں پسند

مجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہیئے

the charge of being affected by wine, I do despise

I want to be accused of feasting from your eyes

the charge of being affected by wine, I do despise

I want to be accused of feasting from your eyes

عبد الحمید عدم

بے خود بھی ہیں ہشیار بھی ہیں دیکھنے والے

ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے

ابو الکلام آزاد

جس طرف اٹھ گئی ہیں آہیں ہیں

چشم بد دور کیا نگاہیں ہیں

اکبر الہ آبادی

ساقی ذرا نگاہ ملا کر تو دیکھنا

کمبخت ہوش میں تو نہیں آ گیا ہوں میں

عبد الحمید عدم

اب آئیں یا نہ آئیں ادھر پوچھتے چلو

کیا چاہتی ہے ان کی نظر پوچھتے چلو

ساحر لدھیانوی

دیدار کی طلب کے طریقوں سے بے خبر

دیدار کی طلب ہے تو پہلے نگاہ مانگ

ignorant of mores when seeking visions bright

if you want the vision, you first need the sight

ignorant of mores when seeking visions bright

if you want the vision, you first need the sight

آزاد انصاری

دھوکا تھا نگاہوں کا مگر خوب تھا دھوکا

مجھ کو تری نظروں میں محبت نظر آئی

شوکت تھانوی

دیکھی ہیں بڑے غور سے میں نے وہ نگاہیں

آنکھوں میں مروت کا کہیں نام نہیں ہے

جلیل مانک پوری

ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہی

نگاہ مست سے دنیا خراب ہو کے رہی

جلیل مانک پوری

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

جلیل مانک پوری

دیکھا ہے کس نگاہ سے تو نے ستم ظریف

محسوس ہو رہا ہے میں غرق شراب ہوں

عبد الحمید عدم

بات تیری سنی نہیں میں نے

دھیان میرا تری نظر پر تھا

منظور عارف

کب ان آنکھوں کا سامنا نہ ہوا

تیر جن کا کبھی خطا نہ ہوا

مبارک عظیم آبادی

تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں

نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی

سیماب اکبرآبادی

برسوں رہے ہیں آپ ہماری نگاہ میں

یہ کیا کہا کہ ہم تمہیں پہچانتے نہیں

نوح ناروی

دید کے قابل حسیں تو ہیں بہت

ہر نظر دیدار کے قابل نہیں

جلیل مانک پوری

ہائے وہ راز غم کہ جو اب تک

تیرے دل میں مری نگاہ میں ہے

جگر مراد آبادی

وہ نظر کامیاب ہو کے رہی

دل کی بستی خراب ہو کے رہی

فانی بدایونی

لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا

تو ٹوٹ ٹوٹ گیا خود سے رابطہ میرا

مظفر وارثی

قیامت ہے تری اٹھتی جوانی

غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں

بیخود دہلوی

ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر

لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا

خواجہ میر درد

پہلی نظر بھی آپ کی اف کس بلا کی تھی

ہم آج تک وہ چوٹ ہیں دل پر لیے ہوئے

اصغر گونڈوی

نگاہ ناز کی پہلی سی برہمی بھی گئی

میں دوستی کو ہی روتا تھا دشمنی بھی گئی

مائل لکھنوی

سیدھی نگاہ میں تری ہیں تیر کے خواص

ترچھی ذرا ہوئی تو ہیں شمشیر کے خواص

امیر مینائی

کوئی کس طرح راز الفت چھپائے

نگاہیں ملیں اور قدم ڈگمگائے

نخشب جارچوی

ادھر ادھر مری آنکھیں تجھے پکارتی ہیں

مری نگاہ نہیں ہے زبان ہے گویا

بسمل سعیدی

کھڑا ہوں دیر سے میں عرض مدعا کے لیے

ادھر بھی ایک نظر کیجیے خدا کے لیے

نامعلوم

نظر بھر کے جو دیکھ سکتے ہیں تجھ کو

میں ان کی نظر دیکھنا چاہتا ہوں

تاجور نجیب آبادی

وہ کافر نگاہیں خدا کی پناہ

جدھر پھر گئیں فیصلہ ہو گیا

those faithless eyes, lord's mercy abide!

wherever they turn, they deem to decide

those faithless eyes, lord's mercy abide!

wherever they turn, they deem to decide

آزاد انصاری

حال کہہ دیتے ہیں نازک سے اشارے اکثر

کتنی خاموش نگاہوں کی زباں ہوتی ہے

مہیش چندر نقش

نگاہ ناز کی معصومیت ارے توبہ

جو ہم فریب نہ کھاتے تو اور کیا کرتے

عرشی بھوپالی

ابرو نے مژہ نے نگۂ یار نے یارو

بے‌ رتبہ کیا تیغ کو خنجر کو سناں کو

نامعلوم

مجھے تعویذ لکھ دو خون آہو سے کہ اے سیانو

تغافل ٹوٹکا ہے اور جادو ہے نظر اس کی

شیخ ظہور الدین حاتم

ہے تیرے لیے سارا جہاں حسن سے خالی

خود حسن اگر تیری نگاہوں میں نہیں ہے

افسر میرٹھی

جھکتی ہے نگاہ اس کی مجھ سے مل کر

دیوار سے دھوپ اتر رہی ہے گویا

جوشؔ ملسیانی

ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی

رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں

فگار اناوی

Added to your favorites

Removed from your favorites