بے خودی پر شاعری

بے خودی شعور کی حالت سے نکل جانے کی ایک کیفیت ہے ۔ ایک عاشق بے خودی کو کس طرح جیتا ہے اور اس کے ذریعے وہ عشق کے کن کن مقامات کی سیر کرتا ہے اس کا دلچسپ بیان ان اشعار میں ہے ۔ اس طرح کے شعروں کی ایک خاص جہت یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعے کلاسیکی عاشق کی شخصیت کی پرتیں کھلتی ہیں ۔

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں

اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

انور شعور

چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے

نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے

شہاب جعفری

ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے

عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے

ندا فاضلی

بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ

کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے

مرزا غالب

اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز

یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے

the formality of you and I should in wine be drowned

meaning that these barriers of sobriety be downed

the formality of you and I should in wine be drowned

meaning that these barriers of sobriety be downed

فرحت شہزاد

اب ان حدود میں لایا ہے انتظار مجھے

وہ آ بھی جائیں تو آئے اعتبار مجھے

خمارؔ بارہ بنکوی

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو

دیر سے انتظار ہے اپنا

میر تقی میر

اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر

تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی

o lord! There are times when such is my raptured state

even though I am with you, and yet for you I wait

o lord! There are times when such is my raptured state

even though I am with you, and yet for you I wait

نریش کمار شاد

بے خودی میں لے لیا بوسہ خطا کیجے معاف

یہ دل بیتاب کی ساری خطا تھی میں نہ تھا

بہادر شاہ ظفر

کمال عشق تو دیکھو وہ آ گئے لیکن

وہی ہے شوق وہی انتظار باقی ہے

جلیل مانک پوری

جس میں ہو یاد بھی تری شامل

ہائے اس بے خودی کو کیا کہیے

فراق گورکھپوری

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں

تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

منیر نیازی

دن رات مے کدے میں گزرتی تھی زندگی

اخترؔ وہ بے خودی کے زمانے کدھر گئے

اختر شیرانی

عمر جو بے خودی میں گزری ہے

بس وہی آگہی میں گزری ہے

گلزار دہلوی

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو

اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیئے

مرزا غالب

نہ تو ہوش سے تعارف نہ جنوں سے آشنائی

یہ کہاں پہنچ گئے ہیں تری بزم سے نکل کے

what is this place that I have reached, having left your company

what is this place that I have reached, having left your company

خمارؔ بارہ بنکوی

ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی

ترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے

جلال الدین اکبر

یہاں کوئی نہ جی سکا نہ جی سکے گا ہوش میں

مٹا دے نام ہوش کا شراب لا شراب لا

مدن پال

اتنی پی ہے کہ بعد توبہ بھی

بے پیے بے خودی سی رہتی ہے

ریاضؔ خیرآبادی

اے بے خودی دل مجھے یہ بھی خبر نہیں

کس دن بہار آئی میں دیوانہ کب ہوا

ارشد علی خان قلق

اب میں حدود ہوش و خرد سے گزر گیا

ٹھکراؤ چاہے پیار کرو میں نشے میں ہوں

گنیش بہاری طرز

کہہ دیں تم سے کون ہیں کیا ہیں کہاں رہتے ہیں ہم

بے خودوں کو اپنے جب تم ہوش میں آنے تو دو

we will tell you who and what we are and where we stay

let your besotten lovers regain consciousness today

we will tell you who and what we are and where we stay

let your besotten lovers regain consciousness today

جلالؔ مانکپوری

آنکھ پڑتی ہے کہیں پاؤں کہیں پڑتا ہے

سب کی ہے تم کو خبر اپنی خبر کچھ بھی نہیں

محمد علی تشنہ

بے خودی نے کر دیا جذبات دل سے بے نیاز

اب ترا ملنا نہ ملنا سب برابر ہو گیا

ناز وائی

عالم سے بے خبر بھی ہوں عالم میں بھی ہوں میں

ساقی نے اس مقام کو آساں بنا دیا

اصغر گونڈوی

خواب میں نام ترا لے کے پکار اٹھتا ہوں

بے خودی میں بھی مجھے یاد تری یاد کی ہے

لالہ مادھو رام جوہر

میرے دل و دماغ پہ چھائے ہوئے ہو تم

ذرے کو آفتاب بنائے ہوئے ہو تم

اثر محبوب

محبت نیک و بد کو سوچنے دے غیر ممکن ہے

بڑھی جب بے خودی پھر کون ڈرتا ہے گناہوں سے

آرزو لکھنوی

بے خودی میں ہم تو تیرا در سمجھ کر جھک گئے

اب خدا معلوم کعبہ تھا کہ وہ بت خانہ تھا

طالب جے پوری

اللہ رے بے خودی کہ چلا جا رہا ہوں میں

منزل کو دیکھتا ہوا کچھ سوچتا ہوا

معین احسن جذبی

ابتدا سے آج تک ناطقؔ کی یہ ہے سرگزشت

پہلے چپ تھا پھر ہوا دیوانہ اب بے ہوش ہے

ناطقؔ لکھنوی

اے زندگی جنوں نہ سہی بے خودی سہی

تو کچھ بھی اپنی عقل سے پاگل اٹھا تو لا

ناطق گلاوٹھی

گئی بہار مگر اپنی بے خودی ہے وہی

سمجھ رہا ہوں کہ اب تک بہار باقی ہے

مبارک عظیم آبادی

بے خودی کوچۂ جاناں میں لیے جاتی ہے

دیکھیے کون مجھے میری خبر دیتا ہے

عزیز لکھنوی

کتنا مشکل ہے خود بخود رونا

بے خودی سے رہا کرے کوئی

اثر اکبرآبادی

اللہ رے بے خودی کہ ترے گھر کے آس پاس

ہر در پہ دی صدا ترے در کے خیال میں

جگن ناتھ آزاد

چھوڑ کر کوچۂ مے خانہ طرف مسجد کے

میں تو دیوانہ نہیں ہوں جو چلوں ہوش کی راہ

بقا اللہ بقاؔ

نیاز بے خودی بہتر نماز خود نمائی سیں

نہ کر ہم پختہ مغزوں سیں خیال خام اے واعظ

سراج اورنگ آبادی

مئے حیات میں شامل ہے تلخیٔ دوراں

جبھی تو پی کے ترستے ہیں بے خودی کے لئے

زہرا نگاہ

اے بے خودی سلام تجھے تیرا شکریہ

دنیا بھی مست مست ہے عقبیٰ بھی مست مست

جاوید صبا

سر پائے خم پہ چاہیئے ہنگام بے خودی

رو سوئے قبلہ وقت مناجات چاہیئے

مرزا غالب

پا بہ گل بے خودیٔ شوق سے میں رہتا تھا

کوچۂ یار میں حالت مری دیوار کی تھی

حیدر علی آتش

ہاں کیف بے خودی کی وہ ساعت بھی یاد ہے

محسوس کر رہا تھا خدا ہو گیا ہوں میں

حفیظ جالندھری

وہ بے خودی تھی محبت کی بے رخی تو نہ تھی

پہ اس کو ترک تعلق کو اک بہانہ ہوا

سلیم احمد

کیا ہے جب سیں عمل بے خودی کے حاکم نے

خرد نگر کی رعیت ہوئی ہے رو بگریز

سراج اورنگ آبادی

شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی

نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی

سراج اورنگ آبادی

وفور بے خودی میں رکھ دیا سر ان کے قدموں پر

وہ کہتے ہی رہے واصفؔ یہ محفل ہے یہ محفل ہے

واصف دہلوی

تری یاد میں تھی وہ بے خودی کہ نہ فکر نامہ بری رہی

مری وہ نگارش شوق بھی کہیں طاق ہی پہ دھری رہی

محمد زبیر روحی الہ آبادی

جز بے خودی گزر نہیں کوئے حبیب میں

گم ہو گیا جو میں تو ملا راستہ مجھے

جلیل مانک پوری

کہاں تک اے واعظو یہ جھگڑے مزے اٹھانے دو بے خودی کے

جو ہوش میں ہوں تو میں یہ سمجھوں حرام کیا ہے حلال کیا ہے

جلیل مانک پوری

Added to your favorites

Removed from your favorites