Momin Khan Momin's Photo'

مومن خاں مومن

1800 - 1852 | دلی, ہندوستان

غالب اور ذوق کے ہم عصر۔ وہ حکیم ، ماہر نجوم اور شطرنج کے کھلاڑی بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے شعر ’ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی

غالب اور ذوق کے ہم عصر۔ وہ حکیم ، ماہر نجوم اور شطرنج کے کھلاڑی بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے شعر ’ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی

عمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومنؔ

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

Momin all your life in idol worship you did spend

How can you be a Muslim say now towards the end?

Momin all your life in idol worship you did spend

How can you be a Muslim say now towards the end?

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

in such a manner are you close to me

when no one else at all there ever be

in such a manner are you close to me

when no one else at all there ever be

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

the love that 'tween us used to be, you may, may not recall

those promises of constancy, you may, may not recall

the love that 'tween us used to be, you may, may not recall

those promises of constancy, you may, may not recall

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے

ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

your love by any means I could not gain

Or else in life what would not one attain

your love by any means I could not gain

Or else in life what would not one attain

کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میں

قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں

میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے

تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی

آپ کی کون سی بڑھی عزت

میں اگر بزم میں ذلیل ہوا

شب جو مسجد میں جا پھنسے مومنؔ

رات کاٹی خدا خدا کر کے

کسی کا ہوا آج کل تھا کسی کا

نہ ہے تو کسی کا نہ ہوگا کسی کا

تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب

وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب

چل دئیے سوئے حرم کوئے بتاں سے مومنؔ

جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

from the streets of idols fair

to the mosque did I repair

from the streets of idols fair

to the mosque did I repair

مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی

آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

to be parted from my dearest I will pray now hence

as after all prayers bear enmity with consequence

to be parted from my dearest I will pray now hence

as after all prayers bear enmity with consequence

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح

اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح

ہے کچھ تو بات مومنؔ جو چھا گئی خموشی

کس بت کو دے دیا دل کیوں بت سے بن گئے ہو

ہاتھ ٹوٹیں میں نے گر چھیڑی ہوں زلفیں آپ کی

آپ کے سر کی قسم باد صبا تھی میں نہ تھا

اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل

میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

bowing to her footsteps brought me shame I dread

I went to my rival's street standing on my head

bowing to her footsteps brought me shame I dread

I went to my rival's street standing on my head

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم

وہ آئے ہیں پشیماں لاش پر اب

تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے

کس پہ مرتے ہو آپ پوچھتے ہیں

مجھ کو فکر جواب نے مارا

حال دل یار کو لکھوں کیوں کر

ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

نہ کرو اب نباہ کی باتیں

تم کو اے مہربان دیکھ لیا

الجھا ہے پانوں یار کا زلف دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

ہنس ہنس کے وہ مجھ سے ہی مرے قتل کی باتیں

اس طرح سے کرتے ہیں کہ گویا نہ کریں گے

مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ

بدنامی عشاق کا اعزاز تو دیکھو

اتنی کدورت اشک میں حیراں ہوں کیا کہوں

دریا میں ہے سراب کہ دریا سراب میں

بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ

دم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ

چارۂ دل سوائے صبر نہیں

سو تمہارے سوا نہیں ہوتا

مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ

دوزخ میں ڈال خلد کو کوئے بتاں نہ چھوڑ

for sake of God! momin from leaving this house refrain

let paradise to hell consign, leave not the idol's lane

for sake of God! momin from leaving this house refrain

let paradise to hell consign, leave not the idol's lane

غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا

میری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا

معشوق سے بھی ہم نے نبھائی برابری

واں لطف کم ہوا تو یہاں پیار کم ہوا

راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا

کیا ایک بھی ہمارا خط یار تک نہ پہنچا

ہو گیا راز عشق بے پردہ

اس نے پردہ سے جو نکالا منہ

دے کے دل ہاتھ ترے اپنے ہاتھ

ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں

لے شب وصل غیر بھی کاٹی

تو مجھے آزمائے گا کب تک

ہے کس کا انتظار کہ خواب عدم سے بھی

ہر بار چونک پڑتے ہیں آواز پا کے ساتھ

کچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جی

آشیاں اپنا ہوا برباد کیا

ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑے

صیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیں

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے

ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے

where will you go I worry, do find a place to stay

O lonely night tomorrow, death will take me away

where will you go I worry, do find a place to stay

O lonely night tomorrow, death will take me away

رہ کے مسجد میں کیا ہی گھبرایا

رات کاٹی خدا خدا کر کے

تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں

اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے

how can I let her see the mirror, she lacks strength to see

a picture she'll herself become, stunned by the imagery

how can I let her see the mirror, she lacks strength to see

a picture she'll herself become, stunned by the imagery

اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو

زندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کو

life-bestowing miracles my poetry can claim

glory I have now restored to the Messiah's name

life-bestowing miracles my poetry can claim

glory I have now restored to the Messiah's name

محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا

رحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آ گیا

بے خود تھے غش تھے محو تھے دنیا کا غم نہ تھا

جینا وصال میں بھی تو ہجراں سے کم نہ تھا

گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولے

مجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو

though you may have replied to him as rudely as you claim

don't tell me what was in my rival's message, just the same

though you may have replied to him as rudely as you claim

don't tell me what was in my rival's message, just the same

دیدۂ حیراں نے تماشا کیا

دیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا

کل تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے

کھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پا گئے

نے جائے واں بنے ہے نے بن جائے چین ہے

کیا کیجئے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح

ہو گئے نام بتاں سنتے ہی مومنؔ بے قرار

ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں

دھو دیا اشک ندامت نے گناہوں کو مرے

تر ہوا دامن تو بارے پاک دامن ہو گیا