Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Muneer Niyazi's Photo'

منیر نیازی

1928 - 2006 | لاہور, پاکستان

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے

پاکستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل۔ فلموں کے لئے گیت بھی لکھے

منیر نیازی کی ٹاپ ٢٠ شاعری

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے

ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ

اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی

جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی

گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی

خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے

ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے

سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں

تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں

شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت

شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس

رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا

چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں

میں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوں

وہ جس کو میں سمجھتا رہا کامیاب دن

وہ دن تھا میری عمر کا سب سے خراب دن

کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا

مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چور تھا

میں اس کو دیکھ کے چپ تھا اسی کی شادی میں

مزا تو سارا اسی رسم کے نباہ میں تھا

غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوا

بارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا

گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاں

چھتوں پر کھلے پھول برسات کے

زمیں کے گرد بھی پانی زمیں کی تہہ میں بھی

یہ شہر جم کے کھڑا ہے جو تیرتا ہی نہ ہو

Recitation

بولیے