بوسے پر 20 منتخب اشعار
بوسہ پر شاعری عاشق کی
بوسے کی طلب کی کیفیتوں کا بیانیہ ہے ، ساتھ ہی اس میں معشوق کے انکار کی مزے دار صورتیں بھی شامل ہو جاتی ہیں ۔ یہ طلب اور انکار کا ایک جھگڑا ہے جسے شاعروں کے تخیل نے بےحد رنگین اور دلچسپ بنادیا ہے ۔ اس مضمون میں شوخی ، مزاح ، حسرت اور غصے کی ملی جلی کیفیتوں نے ایک اور ہی فضا پیدا کی ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب پڑھئے اور ان کیفیتوں کو محسوس کیجئے۔
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
دکھا کے جنبش لب ہی تمام کر ہم کو
نہ دے جو بوسہ تو منہ سے کہیں جواب تو دے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب کی خاموشی سے بے چین ہے اور التجا کرتا ہے کہ اگر وصال (بوسہ) ممکن نہیں تو زبانی جواب ہی دے دو۔ محبوب کے لبوں کی جنبش (حرکت) میں ایسی تاثیر ہے کہ وہ عاشق کی جان لینے یا اسے فنا کرنے کے لیے کافی ہے، چاہے وہ بات انکار کی ہی کیوں نہ ہو۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب کی خاموشی سے بے چین ہے اور التجا کرتا ہے کہ اگر وصال (بوسہ) ممکن نہیں تو زبانی جواب ہی دے دو۔ محبوب کے لبوں کی جنبش (حرکت) میں ایسی تاثیر ہے کہ وہ عاشق کی جان لینے یا اسے فنا کرنے کے لیے کافی ہے، چاہے وہ بات انکار کی ہی کیوں نہ ہو۔
-
موضوع: بوسہ
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
غالب اس شعر میں محبوب کی شوخی اور کاروباری ذہنیت کا ذکر کر رہے ہیں۔ محبوب عاشق کا دل تو لینا چاہتا ہے مگر بدلے میں بوسہ دینے کو تیار نہیں ہے، وہ سوچتا ہے کہ بنا کسی قیمت کے اگر یہ قیمتی چیز ہاتھ آ جائے تو یہ بہت نفع بخش ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
غالب اس شعر میں محبوب کی شوخی اور کاروباری ذہنیت کا ذکر کر رہے ہیں۔ محبوب عاشق کا دل تو لینا چاہتا ہے مگر بدلے میں بوسہ دینے کو تیار نہیں ہے، وہ سوچتا ہے کہ بنا کسی قیمت کے اگر یہ قیمتی چیز ہاتھ آ جائے تو یہ بہت نفع بخش ہے۔
-
موضوع: بوسہ
بوسہ جو رخ کا دیتے نہیں لب کا دیجئے
یہ ہے مثل کہ پھول نہیں پنکھڑی سہی
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب سے شوخی کے ساتھ ایک انوکھی منطق پیش کرتا ہے۔ وہ چہرے کو پھول اور ہونٹ کو پنکھڑی سے تشبیہ دے کر کہتا ہے کہ اگر پھول (رخسار) کا بوسہ ممکن نہیں تو اصول کے تحت پنکھڑی (ہونٹ) پر ہی اکتفا کر لیا جائے، جو بظاہر عاشقانہ چال ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب سے شوخی کے ساتھ ایک انوکھی منطق پیش کرتا ہے۔ وہ چہرے کو پھول اور ہونٹ کو پنکھڑی سے تشبیہ دے کر کہتا ہے کہ اگر پھول (رخسار) کا بوسہ ممکن نہیں تو اصول کے تحت پنکھڑی (ہونٹ) پر ہی اکتفا کر لیا جائے، جو بظاہر عاشقانہ چال ہے۔
بجھے لبوں پہ ہے بوسوں کی راکھ بکھری ہوئی
میں اس بہار میں یہ راکھ بھی اڑا دوں گا
-
موضوعات: بوسہاور 1 مزید
ہم کو گالی کے لیے بھی لب ہلا سکتے نہیں
غیر کو بوسہ دیا تو منہ سے دکھلا کر دیا
-
موضوع: بوسہ