Rahat Indori's Photo'

راحتؔ اندوری

1950 | اندور, ہندوستان

مقبول شاعر اور فلم نغمہ

مقبول شاعر اور فلم نغمہ

23.67K
Favorite

باعتبار

اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو

دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا

ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا

دوستی جب کسی سے کی جائے

دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہم

آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو

زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر

جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں

نئے کردار آتے جا رہے ہیں

مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے

ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے

کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے

چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے

وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا

میں اس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیا

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہئے

میں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہئے

یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے

نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو

گھر کے باہر ڈھونڈھتا رہتا ہوں دنیا

گھر کے اندر دنیا داری رہتی ہے

مری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے

مرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے

بوتلیں کھول کر تو پی برسوں

آج دل کھول کر بھی پی جائے

میں آخر کون سا موسم تمہارے نام کر دیتا

یہاں ہر ایک موسم کو گزر جانے کی جلدی تھی

اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے

عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے

میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگ

گیلی زمین کھود کے فرہاد ہو گئے

یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن

دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو

میں نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا

اک سمندر کہہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہئے

ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو

دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو

سورج ستارے چاند مرے سات میں رہے

جب تک تمہارے ہات مرے ہات میں رہے

مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں میں بھی دنیا کو

سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دوں گا اسے

میں آ کر دشمنوں میں بس گیا ہوں

یہاں ہمدرد ہیں دو چار میرے

روز پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں

روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے

خیال تھا کہ یہ پتھراؤ روک دیں چل کر

جو ہوش آیا تو دیکھا لہو لہو ہم تھے

ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیں

محبت کی اسی مٹی کو ہندستان کہتے ہیں

شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے

ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئے

کالج کے سب بچے چپ ہیں کاغذ کی اک ناؤ لیے

چاروں طرف دریا کی صورت پھیلی ہوئی بیکاری ہے

اک ملاقات کا جادو کہ اترتا ہی نہیں

تری خوشبو مری چادر سے نہیں جاتی ہے