Rahat Indori's Photo'

راحتؔ اندوری

1950 | اندور, ہندوستان

مقبول شاعر اور فلم نغمہ

مقبول شاعر اور فلم نغمہ

نہ ہم سفر نہ کسی ہم نشیں سے نکلے گا

ہمارے پاؤں کا کانٹا ہمیں سے نکلے گا

دوستی جب کسی سے کی جائے

دشمنوں کی بھی رائے لی جائے

اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو

دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے

شاخوں سے ٹوٹ جائیں وہ پتے نہیں ہیں ہم

آندھی سے کوئی کہہ دے کہ اوقات میں رہے

آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو

زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر

جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں

ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے

کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے

نئے کردار آتے جا رہے ہیں

مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے

وہ چاہتا تھا کہ کاسہ خرید لے میرا

میں اس کے تاج کی قیمت لگا کے لوٹ آیا

روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہے

چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہئے

میں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہئے

بوتلیں کھول کر تو پی برسوں

آج دل کھول کر بھی پی جائے

مری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے

مرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے

میں آخر کون سا موسم تمہارے نام کر دیتا

یہاں ہر ایک موسم کو گزر جانے کی جلدی تھی

گھر کے باہر ڈھونڈھتا رہتا ہوں دنیا

گھر کے اندر دنیا داری رہتی ہے

یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے

نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو

میں پربتوں سے لڑتا رہا اور چند لوگ

گیلی زمین کھود کے فرہاد ہو گئے

یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن

دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو

اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے

عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے

ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو

دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو

میں نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا

اک سمندر کہہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہئے

روز پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں

روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے

میں آ کر دشمنوں میں بس گیا ہوں

یہاں ہمدرد ہیں دو چار میرے

مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں میں بھی دنیا کو

سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دوں گا اسے

خیال تھا کہ یہ پتھراؤ روک دیں چل کر

جو ہوش آیا تو دیکھا لہو لہو ہم تھے

سورج ستارے چاند مرے سات میں رہے

جب تک تمہارے ہات مرے ہات میں رہے

کالج کے سب بچے چپ ہیں کاغذ کی اک ناؤ لیے

چاروں طرف دریا کی صورت پھیلی ہوئی بیکاری ہے

شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے

ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئے