بجلی پر شاعری

آسمان میں کوندنے والی بجلی کواس کی اپنی شدت، کرختگی اورتیزچمک کی صفات کی بنا پرکئی صورتوں میں استعاراتی سطح پراستعمال کیا گیا ہے ۔ بجلی کا کوندنا محبوب کا مسکرانا بھی ہے کہ اس میں بھی وہی چمک اورجلا دینےکی وہی شدت ہوتی ہے اوراس کی مشابہت ہجربھوگ رہےعاشق کے نالوں سے بھی ہے۔ شاعری میں بجلی کا مضمون کئی اورتلازمات کے ساتھ آیا ہے، اس میں آشیاں اورخرمن بنیادی تلازمے ہیں۔ بجلی کی کرداری صفت خرمن اورآشیانوں کوجلانا ہے۔ ان لفظیات سےقائم ہونے والا مضمون کسی ایک سطح پرٹھہرانہیں رہتا بلکہ اس کی تعبیراورتفہیم کی بے شمارسطحیں ہیں ۔

ادھر فلک کو ہے ضد بجلیاں گرانے کی

ادھر ہمیں بھی ہے دھن آشیاں بنانے کی

نامعلوم

اب بجلیوں کا خوف بھی دل سے نکل گیا

خود میرا آشیاں مری آہوں سے جل گیا

نامعلوم

بجلی چمکی تو ابر رویا

یاد آ گئی کیا ہنسی کسی کی

گویا فقیر محمد

ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑے

صیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیں

مومن خاں مومن

یہ ابر ہے یا فیل سیہ مست ہے ساقی

بجلی کے جو ہے پاؤں میں زنجیر ہوا پر

شاہ نصیر

اٹھا جو ابر دل کی امنگیں چمک اٹھیں

لہرائیں بجلیاں تو میں لہرا کے پی گیا

احسان دانش

لہو سے میں نے لکھا تھا جو کچھ دیوار زنداں پر

وہ بجلی بن کے چمکا دامن صبح گلستاں پر

سیماب اکبرآبادی

ممکن نہیں چمن میں دونوں کی ضد ہو پوری

یا بجلیاں رہیں گی یا آشیاں رہے گا

نامعلوم

تڑپ جاتا ہوں جب بجلی چمکتی دیکھ لیتا ہوں

کہ اس سے ملتا جلتا سا کسی کا مسکرانا ہے

غلام مرتضی کیف کاکوروی

ضبط نالہ سے آج کام لیا

گرتی بجلی کو میں نے تھام لیا

جلیل مانک پوری

قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے

کہ ہر بجلی قریب آشیاں معلوم ہوتی ہے

سیماب اکبرآبادی

فریب روشنی میں آنے والو میں نہ کہتا تھا

کہ بجلی آشیانے کی نگہباں ہو نہیں سکتی

شفیق جونپوری

برق نے میرا نشیمن نہ جلایا ہو کہیں

صحن‌ گلشن میں اجالا ہے خدا خیر کرے

خلش اکبرآبادی

بجلی گرے گی صحن چمن میں کہاں کہاں

کس شاخ گلستاں پہ مرا آشیاں نہیں

سلام سندیلوی

قفس سے آشیاں تبدیل کرنا بات ہی کیا تھی

ہمیں دیکھو کہ ہم نے بجلیوں سے آشیاں بدلا

محضر لکھنوی