بت پر شعر

بت کلاسیکی شاعری کی

بنیادی لفظیات میں سےایک ہے ۔ اس لفظ کو محبوب کے استعارے کے طورپرکثرت سے استعمال کیا گیا ہے ۔ جس طرح بت نہ کچھ سنتا ہے نہ اس پرکسی بات کو کوئی اثرہوتا ہے محبوب بھی اسی طرح ہے ۔ عاشق کی فریاد ، آہ وفغاں اوراس کے نالے سب بے اثر ہی جاتے ہیں ۔اس میں ایک پہلو بت اورمحبوب کے حسن کے اشتراک کا بھی ہے ۔ بت کوجس دھیان اور توجہ کے ساتھ تراشا جاتا ہے اسی طرح خدا نے محبوب کو تراشا ہے ۔

وفا جس سے کی بے وفا ہو گیا

جسے بت بنایا خدا ہو گیا

حفیظ جالندھری

دو ہی دن میں یہ صنم ہوش ربا ہوتے ہیں

کل کے ترشے ہوئے بت آج خدا ہوتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

وہ دن گئے کہ داغؔ تھی ہر دم بتوں کی یاد

پڑھتے ہیں پانچ وقت کی اب تو نماز ہم

داغؔ دہلوی

کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز

کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز

مرزا غالب

ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے

بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا

فیض احمد فیض

الٰہی ایک دل کس کس کو دوں میں

ہزاروں بت ہیں یاں ہندوستان ہے

حیدر علی آتش

نہیں یہ آدمی کا کام واعظ

ہمارے بت تراشے ہیں خدا نے

بیان میرٹھی

چھوڑوں گا میں نہ اس بت کافر کا پوجنا

چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر

مرزا غالب

صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظ

بتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھا

آغا اکبرآبادی

ہو گئے نام بتاں سنتے ہی مومنؔ بے قرار

ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں

مومن خاں مومن

آپ کرتے جو احترام بتاں

بتکدے خود خدا خدا کرتے

انور صابری

بے خودی میں ہم تو تیرا در سمجھ کر جھک گئے

اب خدا معلوم کعبہ تھا کہ وہ بت خانہ تھا

طالب جے پوری

بت کہتے ہیں کیا حال ہے کچھ منہ سے تو بولو

ہم کہتے ہیں سنتا نہیں اللہ ہماری

لالہ مادھو رام جوہر

بت نظر آئیں گے معشوقوں کی کثرت ہوگی

آج بت خانہ میں اللہ کی قدرت ہوگی

آغا اکبرآبادی

ٹھہری جو وصل کی تو ہوئی صبح شام سے

بت مہرباں ہوئے تو خدا مہرباں نہ تھا

لالہ مادھو رام جوہر

بتوں کو توڑ کے ایسا خدا بنانا کیا

بتوں کی طرح جو ہم شکل آدمی کا ہو

جمیلؔ مظہری

بت کو پوجوں گا صنم خانوں میں جا جا کے تو میں

اس کے پیچھے مرا ایمان رہے یا نہ رہے

حقیر

اپنی مرضی تو یہ ہے بندۂ بت ہو رہیے

آگے مرضی ہے خدا کی سو خدا ہی جانے

بقا اللہ بقاؔ

طعنہ زن کفر پہ ہوتا ہے عبث اے زاہد

بت پرستی ہے ترے زہد ریا سے بہتر

جوشش عظیم آبادی

جو کہ سجدہ نہ کرے بت کو مرے مشرب میں

عاقبت اس کی کسی طور سے محمود نہیں

جرأت قلندر بخش