Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دیدار پر اشعار

ہمارا یہ انتخاب عاشق

کی معشوق کے دیدار کی خواہش کا بیان ہے ۔ یہ خواہش جس گہری بے چینی کو جنم دیتی ہے اس سے ہم سب گزرے بھی ہیں لیکن اس تجربے کو ایک بڑی سطح پر جاننے اور محسوس کرنے کیلئے اس شعری متن سے گزرنا ضروری ہے ۔

دیکھنے کے لیے سارا عالم بھی کم

چاہنے کے لیے ایک چہرا بہت

اسعد بدایونی

کچھ نظر آتا نہیں اس کے تصور کے سوا

حسرت دیدار نے آنکھوں کو اندھا کر دیا

حیدر علی آتش

میری آنکھیں اور دیدار آپ کا

یا قیامت آ گئی یا خواب ہے

آسی غازی پوری

اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات

جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے

ظفر اقبال

تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا

یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

احمد فراز

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

صرف ظاہری آنکھ سے دنیا کے تماشے کو نہ دیکھو۔

اگر واقعی دیکھنا ہے تو دل کی آنکھ کھولو۔

علامہ اقبال یہاں ظاہر بین نگاہ اور باطنی بصیرت کا فرق بتاتے ہیں۔ ظاہری آنکھ صرف شکل و صورت اور فریبِ منظر دیکھتی ہے، مگر دیدۂ دل حقیقت تک رسائی دیتا ہے۔ شاعر انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اندر کی روشنی بیدار کرے۔ اصل پیغام یہی ہے کہ سچی معرفت دل کے جاگنے سے ملتی ہے۔

علامہ اقبال

کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی

ہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتی

غلام بھیک نیرنگ

جناب کے رخ روشن کی دید ہو جاتی

تو ہم سیاہ نصیبوں کی عید ہو جاتی

انور شعور

دیکھا نہیں وہ چاند سا چہرا کئی دن سے

تاریک نظر آتی ہے دنیا کئی دن سے

جنید حزیں لاری

تم اپنے چاند تارے کہکشاں چاہے جسے دینا

مری آنکھوں پہ اپنی دید کی اک شام لکھ دینا

زبیر رضوی

دیدار کی طلب کے طریقوں سے بے خبر

دیدار کی طلب ہے تو پہلے نگاہ مانگ

آزاد انصاری

سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی

مجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے

جگر مراد آبادی

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں

تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

امیر مینائی

کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر

جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر

میں محبوب کے چہرے کی تاب اور جلال دیکھ کر اسی وقت جل کر خاک کیوں نہ ہو گیا؟

اب میں اپنی سخت جانی اور نظارہ برداشت کرنے کی طاقت دیکھ کر جل رہا ہوں (کڑھ رہا ہوں)۔

غالب حیران ہیں کہ محبوب کا حسن تو سورج کی طرح تیز تھا، اسے دیکھتے ہی عاشق کو فنا ہو جانا چاہیے تھا۔ وہ اپنی اس بدنصیبی پر افسردہ ہیں کہ وہ زندہ کیسے بچ گئے، اور اب اپنی اس قوتِ برداشت پر انہیں جلن ہو رہی ہے کہ عشق کے آداب کے خلاف ان کی آنکھ نے یہ نظارہ سہہ کیسے لیا۔

مرزا غالب

نہ وہ صورت دکھاتے ہیں نہ ملتے ہیں گلے آ کر

نہ آنکھیں شاد ہوتیں ہیں نہ دل مسرور ہوتا ہے

لالہ مادھو رام جوہر

وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیں

میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں

امیر مینائی

اب اور دیر نہ کر حشر برپا کرنے میں

مری نظر ترے دیدار کو ترستی ہے

غلام مرتضی راہی

آپ ادھر آئے ادھر دین اور ایمان گئے

عید کا چاند نظر آیا تو رمضان گئے

شجاع خاور

جو اور کچھ ہو تری دید کے سوا منظور

تو مجھ پہ خواہش جنت حرام ہو جائے

حسرتؔ موہانی

ترا دیدار ہو حسرت بہت ہے

چلو کہ نیند بھی آنے لگی ہے

ساجد پریمی

مرا جی تو آنکھوں میں آیا یہ سنتے

کہ دیدار بھی ایک دن عام ہوگا

یہ بات سنتے ہی میرا دل بھر آیا اور آنکھوں تک آ گیا۔

کہ ایک دن محبوب کا دیدار بھی سب کے لیے آسان اور عام ہو جائے گا۔

شاعر اس خبر پر بے اختیار جذباتی ہو جاتا ہے کہ جس دیدار کے لیے عمر بھر تڑپا، وہ کبھی عام ہو جائے گا۔ “جی کا آنکھوں میں آنا” آنسوؤں اور دل کے بھر آنے کا استعارہ ہے۔ مرکزی کیفیت محرومی سے امید تک کا سفر ہے: دوری کی سختی کے مقابلے میں وصال کی توقع۔

میر تقی میر

کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس

ہم نے دیدار کی گدائی کی

ہم نے نرگس کی طرح اپنی آنکھوں کو کاسہ بنا کر سامنے کر دیا۔

اور محبوب کے دیدار کی بھیک مانگی، بس ایک جھلک کے لیے۔

میر تقی میر نے آنکھ کو کاسۂ گدائی بنا کر طلبِ دیدار کی کیفیت دکھائی ہے، اور نرگس کی کاسہ نما صورت اس استعارے کو اور گہرا کرتی ہے۔ یہاں دیدار کوئی حق نہیں بلکہ خیرات کی طرح مانگا گیا ہے۔ جذبہ عاجزی، بے بسی اور شدید آرزو میں ڈوبا ہوا ہے۔

میر تقی میر

حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں

عید ہے اور ہم کو عید نہیں

بیخود بدایونی

اس کو دیکھا تو یہ محسوس ہوا

ہم بہت دور تھے خود سے پہلے

محمود شام

اس قمر کو کبھی تو دیکھیں گے

تیس دن ہوتے ہیں مہینے کے

لالہ مادھو رام جوہر

اٹھ اے نقاب یار کہ بیٹھے ہیں دیر سے

کتنے غریب دیدۂ پر نم لیے ہوئے

جلیل مانک پوری

آنکھ اٹھا کر اسے دیکھوں ہوں تو نظروں میں مجھے

یوں جتاتا ہے کہ کیا تجھ کو نہیں ڈر میرا

جرأت قلندر بخش

آفریں تجھ کو حسرت دیدار

چشم تر سے زباں کا کام لیا

جلیل مانک پوری

دردؔ کے ملنے سے اے یار برا کیوں مانا

اس کو کچھ اور سوا دید کے منظور نہ تھا

خواجہ میر درد

جیسے جیسے در دل دار قریب آتا ہے

دل یہ کہتا ہے کہ پہنچوں میں نظر سے پہلے

جلیل مانک پوری

آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووے

گر خاک کے ساتھ اس کو سروکار نہ ہووے

عشق اورنگ آبادی

میں کامیاب دید بھی محروم دید بھی

جلووں کے اژدحام نے حیراں بنا دیا

اصغر گونڈوی

الٰہی کیا کھلے دیدار کی راہ

ادھر دروازے بند آنکھیں ادھر بند

لالہ مادھو رام جوہر

تری پہلی دید کے ساتھ ہی وہ فسوں بھی تھا

تجھے دیکھ کر تجھے دیکھنا مجھے آ گیا

اقبال کوثر

دیکھنا حسرت دیدار اسے کہتے ہیں

پھر گیا منہ تری جانب دم مردن اپنا

خواجہ محمد وزیر

ٹوٹیں وہ سر جس میں تیری زلف کا سودا نہیں

پھوٹیں وہ آنکھیں کہ جن کو دید کا لپکا نہیں

حقیر

رخسار اس کے ہائے رے جب دیکھتے ہیں ہم

آتا ہے جی میں آنکھوں کو ان میں گڑویئے

جب ہم اس کے رخسار دیکھتے ہیں تو بے اختیار دل ہائے رے کہہ اٹھتا ہے۔

دل چاہتا ہے کہ اپنی آنکھیں انہی میں گاڑ دیں اور ہٹائیں ہی نہ۔

میر تقی میر نے محبوب کے رخساروں کے حسن کو ایسا دل رباؔ بتایا ہے کہ دیکھنے والا حیرت اور بے بسی سے کراہ اٹھتا ہے۔ “آنکھوں کو ان میں گاڑ دینا” محاورہ ہے مسلسل اور بے خودی والے تکتے رہنے کا۔ یہاں نگاہ، چاہت کی صورت اختیار کر لیتی ہے—جیسے دیکھنا ہی قرب بن جائے۔ شعر کی جان شدید کشش اور تڑپ ہے۔

میر تقی میر

کیا کلیم کو ارمان دید نے رسوا

دکھا کے جلوۂ پروردگار تھوڑا سا

شبر جیلانی قمری

بہت ملنے سے عیب دکھتے ہیں کم کم

بہت دیکھتے ہیں جو کم دیکھتے ہیں

پریمودا الحان

مجھے ان سے ہے جو محبت اے باصرؔ

انہیں دیکھ پانے کو جی چاہتا ہے

باصر ٹونکی

دل سے نکل کر دیکھو تو

کیا عالم ہے باہر کا

باقی صدیقی
بولیے