تغافل پر اشعار
تغافل کلاسیکی شاعری
کے معشوق کی ایک صفت ہے ۔ وہ عاشق کے ہجرکی بے قراری سے بھی واقف ہوتا ہے اوراس کی آہوں اورنالوں کوبھی سنتا ہے ، اسے دیکھتا بھی ہے لیکن ان سب باتوں سے اپنی بے خبری کا اظہار بھی کرتا ہے ۔ معشوق کا یہ رویہ عاشق کے دکھ اورتکلیف کی شدت میں اوراضافہ کرتا ہے ۔ عاشق اپنے معشوق سے اس تغافل کا گلہ کرتا لیکن معشوق اس گلے سے بھی تغافل برتتا ہے ۔عشق کے اس دلچسپ حصے کی کہانی یہاں پڑھئے ۔
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
Interpretation:
Rekhta AI
مرزا غالب نے اس شعر میں انتظار کی تلخی دکھائی ہے کہ محبوب کا تغافل شاید ایک دن ختم ہو جائے، مگر اس کے ختم ہونے تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ “خاک ہو جانا” موت، فنا اور وجود کے مٹ جانے کا استعارہ ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ توجہ ملے بھی تو ایسے وقت جب کچھ بچا ہی نہ ہو—یہی بے بسی اور حسرت شعر کی جان ہے۔
-
موضوع : مشہور اشعار
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
کبھی یک بہ یک توجہ کبھی دفعتاً تغافل
مجھے آزما رہا ہے کوئی رخ بدل بدل کر
-
موضوعات : عشقاور 2 مزید
اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
روز کہتے ہیں آپ آج نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
داغؔ دہلوی نے محبوب کے ٹالنے کو صاف انکار کے طور پر دکھایا ہے۔ ‘آج نہیں’ بظاہر نرمی ہے مگر روز کی تکرار اسے دائمی ‘نہیں’ بنا دیتی ہے۔ عاشق کو لگتا ہے کہ اس انکار کا کوئی علاج نہیں، بس بے بسی اور حسرت باقی رہ جاتی ہے۔
اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیں
بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی
-
موضوع : بارش
یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک
مگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے
-
موضوع : بے نیازی
سن کے ساری داستان رنج و غم
کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں
ہر ایک بات کے یوں تو دیے جواب اس نے
جو خاص بات تھی ہر بار ہنس کے ٹال گیا
تمہیں یاد ہی نہ آؤں یہ ہے اور بات ورنہ
میں نہیں ہوں دور اتنا کہ سلام تک نہ پہنچے
-
موضوع : یاد
بعد مرنے کے مری قبر پہ آیا غافلؔ
یاد آئی مرے عیسیٰ کو دوا میرے بعد
-
موضوع : قسمت
کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایت
خود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہے
اس جگہ جا کے وہ بیٹھا ہے بھری محفل میں
اب جہاں میرے اشارے بھی نہیں جا سکتے
پھر اور تغافل کا سبب کیا ہے خدایا
میں یاد نہ آؤں انہیں ممکن ہی نہیں ہے
اس نے سن کر بات میری ٹال دی
الجھنوں میں اور الجھن ڈال دی
تم نظر کیوں چرائے جاتے ہو
جب تمہیں ہم سلام کرتے ہیں
او آنکھ چرا کے جانے والے
ہم بھی تھے کبھی تری نظر میں
ہم تری راہ میں جوں نقش قدم بیٹھے ہیں
تو تغافل کیے اے یار چلا جاتا ہے
انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے
کہاں کا تجاہل کہاں کا تغافل
سناتے ہو کسے احوال ماہرؔ
وہاں تو مسکرایا جا رہا ہے
پڑھے جاؤ بیخودؔ غزل پر غزل
وہ بت بن گئے ہیں سنے جائیں گے
وحشتؔ اس بت نے تغافل جب کیا اپنا شعار
کام خاموشی سے میں نے بھی لیا فریاد کا
-
موضوع : خاموشی
تمہارے دل میں کیا نامہربانی آ گئی ظالم
کہ یوں پھینکا جدا مجھ سے پھڑکتی مچھلی کو جل سیں
میں در گزرا صاحب سلامت سے بھی
خدا کے لئے اتنا برہم نہ ہو