تغافل پر شاعری

تغافل کلاسیکی شاعری کے معشوق کی ایک صفت ہے ۔ وہ عاشق کے ہجرکی بے قراری سے بھی واقف ہوتا ہے اوراس کی آہوں اورنالوں کوبھی سنتا ہے ، اسے دیکھتا بھی ہے لیکن ان سب باتوں سے اپنی بے خبری کا اظہار بھی کرتا ہے ۔ معشوق کا یہ رویہ عاشق کے دکھ اورتکلیف کی شدت میں اوراضافہ کرتا ہے ۔ عاشق اپنے معشوق سے اس تغافل کا گلہ کرتا لیکن معشوق اس گلے سے بھی تغافل برتتا ہے ۔عشق کے اس دلچسپ حصے کی کہانی یہاں پڑھئے ۔

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک

اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

فیض احمد فیض

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں

روز کہتے ہیں آپ آج نہیں

داغؔ دہلوی

کبھی یک بہ یک توجہ کبھی دفعتاً تغافل

مجھے آزما رہا ہے کوئی رخ بدل بدل کر

شکیل بدایونی

اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیں

بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی

جمال احسانی

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک

مرزا غالب

یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک

مگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے

شکیل بدایونی

ہر ایک بات کے یوں تو دیے جواب اس نے

جو خاص بات تھی ہر بار ہنس کے ٹال گیا

احمد راہی

سن کے ساری داستان رنج و غم

کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں

بیخود دہلوی

تمہیں یاد ہی نہ آؤں یہ ہے اور بات ورنہ

میں نہیں ہوں دور اتنا کہ سلام تک نہ پہنچے

کلیم عاجز

کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایت

خود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہے

حفیظ بنارسی

پھر اور تغافل کا سبب کیا ہے خدایا

میں یاد نہ آؤں انہیں ممکن ہی نہیں ہے

حسرتؔ موہانی

اس جگہ جا کے وہ بیٹھا ہے بھری محفل میں

اب جہاں میرے اشارے بھی نہیں جا سکتے

فرحت احساس

اس نے سن کر بات میری ٹال دی

الجھنوں میں اور الجھن ڈال دی

عزیز حیدرآبادی

بعد مرنے کے مری قبر پہ آیا غافلؔ

یاد آئی مرے عیسیٰ کو دوا میرے بعد

منور خان غافل

تم نظر کیوں چرائے جاتے ہو

جب تمہیں ہم سلام کرتے ہیں

آبرو شاہ مبارک

او آنکھ چرا کے جانے والے

ہم بھی تھے کبھی تری نظر میں

جلیل مانک پوری

انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے

کہاں کا تجاہل کہاں کا تغافل

بیخود دہلوی

پڑھے جاؤ بیخودؔ غزل پر غزل

وہ بت بن گئے ہیں سنے جائیں گے

بیخود دہلوی

سناتے ہو کسے احوال ماہرؔ

وہاں تو مسکرایا جا رہا ہے

ماہر القادری

ہم تری راہ میں جوں نقش قدم بیٹھے ہیں

تو تغافل کیے اے یار چلا جاتا ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

وحشتؔ اس بت نے تغافل جب کیا اپنا شعار

کام خاموشی سے میں نے بھی لیا فریاد کا

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

تمہارے دل میں کیا نامہربانی آ گئی ظالم

کہ یوں پھینکا جدا مجھ سے پھڑکتی مچھلی کو جل سیں

آبرو شاہ مبارک

میں در گزرا صاحب سلامت سے بھی

خدا کے لئے اتنا برہم نہ ہو

خواجہ امین الدین امین