Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Dagh Dehlvi's Photo'

داغؔ دہلوی

1831 - 1905 | دلی, انڈیا

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

مقبول ترین اردو شاعروں میں سے ایک ، شاعری میں برجستگی ، شوخی اور محاوروں کے استعمال کے لئے مشہور

داغؔ دہلوی کی ٹاپ ٢٠ شاعری

ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ

جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر ظرافت کے ساتھ ایک تضاد باندھتا ہے: عشق میں بظاہر بہت سے مزے دار مشغلے ہیں، مگر سب سے بڑی مہارت “کچھ نہ کرنا” ہے۔ اس سے مراد بے قراری میں ہاتھ پاؤں مارنے کے بجائے خاموش سپردگی، انتظار اور خود پر قابو ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ عشق کی گہرائی اکثر بے ساختہ ٹھہراؤ میں جھلکتی ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر ظرافت کے ساتھ ایک تضاد باندھتا ہے: عشق میں بظاہر بہت سے مزے دار مشغلے ہیں، مگر سب سے بڑی مہارت “کچھ نہ کرنا” ہے۔ اس سے مراد بے قراری میں ہاتھ پاؤں مارنے کے بجائے خاموش سپردگی، انتظار اور خود پر قابو ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ عشق کی گہرائی اکثر بے ساختہ ٹھہراؤ میں جھلکتی ہے۔

وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے

تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبوب کے پرانے دعووں کو یاد دلا کر اس کی موجودہ بےوفائی پر گرفت کی گئی ہے۔ پہلے مصرع میں وفا، نباہ اور اطاعت کے وعدے ہیں اور دوسرے میں ایک طنزیہ/شکوہ آمیز سوال۔ “کس کا تھا” کہہ کر شاعر وعدوں کی ملکیت بھی جتا دیتا ہے اور ان سے پھرنے کی تلخی بھی۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبوب کے پرانے دعووں کو یاد دلا کر اس کی موجودہ بےوفائی پر گرفت کی گئی ہے۔ پہلے مصرع میں وفا، نباہ اور اطاعت کے وعدے ہیں اور دوسرے میں ایک طنزیہ/شکوہ آمیز سوال۔ “کس کا تھا” کہہ کر شاعر وعدوں کی ملکیت بھی جتا دیتا ہے اور ان سے پھرنے کی تلخی بھی۔

ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے

مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر شکوہ کرتا ہے کہ جو آدمی خلوص کے ساتھ قریب آئے، اسی کو خاک میں ملا دیا جاتا ہے۔ “خاک میں ملانا” ذلت، پامالی اور تباہی کا استعارہ ہے۔ دوسری مصرعے میں بتایا گیا ہے کہ جان چاہنے والا ویسے ہی نایاب ہوتا ہے، اس لیے اس کی ناقدری اور زیادہ دردناک ہے۔ جذبۂ مرکزی افسوس اور احتجاج ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر شکوہ کرتا ہے کہ جو آدمی خلوص کے ساتھ قریب آئے، اسی کو خاک میں ملا دیا جاتا ہے۔ “خاک میں ملانا” ذلت، پامالی اور تباہی کا استعارہ ہے۔ دوسری مصرعے میں بتایا گیا ہے کہ جان چاہنے والا ویسے ہی نایاب ہوتا ہے، اس لیے اس کی ناقدری اور زیادہ دردناک ہے۔ جذبۂ مرکزی افسوس اور احتجاج ہے۔

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ

ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں زبانِ اردو پر فخر اور اپنی پہچان کا اعلان ہے۔ شاعر اپنے آپ کو اردو کا حقیقی شناسا بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس زبان کا چرچا ہر طرف ہے۔ “دھوم” سے مراد وہ قبولِ عام اور مقبولیت ہے جو اردو کی شیرینی اور بیان کی قوت سے پیدا ہوئی۔ لہجہ اعتماد بھرا اور جشنِ زبان کا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں زبانِ اردو پر فخر اور اپنی پہچان کا اعلان ہے۔ شاعر اپنے آپ کو اردو کا حقیقی شناسا بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس زبان کا چرچا ہر طرف ہے۔ “دھوم” سے مراد وہ قبولِ عام اور مقبولیت ہے جو اردو کی شیرینی اور بیان کی قوت سے پیدا ہوئی۔ لہجہ اعتماد بھرا اور جشنِ زبان کا ہے۔

سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں

ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں عاشق کی توجہ محبوب سے ہٹ کر ہجوم کی نگاہوں پر ہے۔ سب کی نظریں محبوب کی طرف ہیں، مگر شاعر اُن نظروں میں چھپی چاہت، رشک اور مقابلے کی کیفیت پڑھتا ہے۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ محبوب کے گرد کشش بھی ہے اور رقابت بھی۔ جذبے کی تہہ میں چوکسی اور ہلکی سی غیرت نمایاں ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں عاشق کی توجہ محبوب سے ہٹ کر ہجوم کی نگاہوں پر ہے۔ سب کی نظریں محبوب کی طرف ہیں، مگر شاعر اُن نظروں میں چھپی چاہت، رشک اور مقابلے کی کیفیت پڑھتا ہے۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ محبوب کے گرد کشش بھی ہے اور رقابت بھی۔ جذبے کی تہہ میں چوکسی اور ہلکی سی غیرت نمایاں ہے۔

ہمیں ہے شوق کہ بے پردہ تم کو دیکھیں گے

تمہیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لینا

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر شوخ و دل لگی سے بھرپور ہے: عاشق بےپردہ دیدار کی آرزو کرتا ہے اور حیا کو رکاوٹ نہیں بننے دیتا۔ وہ محبوبہ سے کہتا ہے کہ اگر شرم ہے تو چہرہ نہیں، اپنی نگاہ چھپا لو۔ یوں شرم و خواہش کے بیچ ایک لطیف، چنچل کشمکش پیدا ہوتی ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر شوخ و دل لگی سے بھرپور ہے: عاشق بےپردہ دیدار کی آرزو کرتا ہے اور حیا کو رکاوٹ نہیں بننے دیتا۔ وہ محبوبہ سے کہتا ہے کہ اگر شرم ہے تو چہرہ نہیں، اپنی نگاہ چھپا لو۔ یوں شرم و خواہش کے بیچ ایک لطیف، چنچل کشمکش پیدا ہوتی ہے۔

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی نے محبوب کے ناز اور حیا کو پردے کی صورت میں دکھایا ہے۔ چلمن سے لگ کر بیٹھنا اس بات کی علامت ہے کہ محبوب نزدیک بھی ہے اور دور بھی—اتنا کہ نظر بھر کو جھلک ملے مگر وصال نہ ہو۔ عاشق اسی ادھوری جھلک میں تڑپتا رہتا ہے، اور یہی کشمکش اس شعر کی جان ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی نے محبوب کے ناز اور حیا کو پردے کی صورت میں دکھایا ہے۔ چلمن سے لگ کر بیٹھنا اس بات کی علامت ہے کہ محبوب نزدیک بھی ہے اور دور بھی—اتنا کہ نظر بھر کو جھلک ملے مگر وصال نہ ہو۔ عاشق اسی ادھوری جھلک میں تڑپتا رہتا ہے، اور یہی کشمکش اس شعر کی جان ہے۔

شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو

خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا

شبِ وصال یعنی محبوب سے ملاقات کی رات۔ گل کرنا یعنی بجھا دینا۔ اس شعر میں شبِ وصال کی مناسبت سے چراغ اور چراغ کی مناسبت سے گل کرنا۔ اور ’خوشی کی بزم میں‘ کی رعایت سے جلنے والے داغ دہلوی کی مضمون آفرینی کی عمدہ مثال ہے۔ شعر میں کئی کردار ہیں۔ ایک شعری کردار، دوسرا وہ( ایک یا بہت سے) جن سے شعری کردار مخاطب ہے۔ شعر میں جو طنز یہ لہجہ ہے اس نے مجموعی صورت حال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔اور جب ’ان چراغوں کو‘ کہا تو گویا کچھ مخصوص چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔

شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ عاشق و معشوق کے ملن کی رات ہے، اس لئے چراغوں کو بجھا دو کیونکہ ایسی راتوں میں جلنے والوں کا کام نہیں۔ چراغ بجھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ملن کی رات میں جو بھی ہو وہ پردے میں رہے مگر جب یہ کہا کہ جلنے والوں کا کیا کام ہے تو شعر کا مفہوم ہی بدل دیا۔ دراصل جلنے والے استعارہ ہیں ان لوگوں کا جو شعری کردار اور اس کے محبوب کے ملن پر جلتے ہیں اور حسد کرتے ہیں۔ اسی لئے کہا ہے کہ ان حسد کرنے والوں کو اس بزم سے اٹھا دو۔

EXPLANATION #1

یہ وصال کی رات ہے، ان چراغوں کو بجھا دو۔

خوشی کی محفل میں تڑپتے اور جلتے لوگوں کی کیا جگہ ہے؟

شاعر وصال کی رات میں چراغ بجھانے کو کہتا ہے کہ اس ساعتِ قرب میں روشنی نہیں، خلوت درکار ہے۔ یہاں “جلنے والے” اُن عاشقوں کا استعارہ ہیں جو ہجر کی آگ میں جلتے ہیں۔ خوشی کی بزم میں اُن کا سوز ناگوار ٹھہرتا ہے، اس لیے شعر میں لطیف طنز اور محرومی کا احساس ابھرتا ہے۔

شفق سوپوری

شبِ وصال یعنی محبوب سے ملاقات کی رات۔ گل کرنا یعنی بجھا دینا۔ اس شعر میں شبِ وصال کی مناسبت سے چراغ اور چراغ کی مناسبت سے گل کرنا۔ اور ’خوشی کی بزم میں‘ کی رعایت سے جلنے والے داغ دہلوی کی مضمون آفرینی کی عمدہ مثال ہے۔ شعر میں کئی کردار ہیں۔ ایک شعری کردار، دوسرا وہ( ایک یا بہت سے) جن سے شعری کردار مخاطب ہے۔ شعر میں جو طنز یہ لہجہ ہے اس نے مجموعی صورت حال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔اور جب ’ان چراغوں کو‘ کہا تو گویا کچھ مخصوص چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔

شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ عاشق و معشوق کے ملن کی رات ہے، اس لئے چراغوں کو بجھا دو کیونکہ ایسی راتوں میں جلنے والوں کا کام نہیں۔ چراغ بجھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ملن کی رات میں جو بھی ہو وہ پردے میں رہے مگر جب یہ کہا کہ جلنے والوں کا کیا کام ہے تو شعر کا مفہوم ہی بدل دیا۔ دراصل جلنے والے استعارہ ہیں ان لوگوں کا جو شعری کردار اور اس کے محبوب کے ملن پر جلتے ہیں اور حسد کرتے ہیں۔ اسی لئے کہا ہے کہ ان حسد کرنے والوں کو اس بزم سے اٹھا دو۔

EXPLANATION #1

یہ وصال کی رات ہے، ان چراغوں کو بجھا دو۔

خوشی کی محفل میں تڑپتے اور جلتے لوگوں کی کیا جگہ ہے؟

شاعر وصال کی رات میں چراغ بجھانے کو کہتا ہے کہ اس ساعتِ قرب میں روشنی نہیں، خلوت درکار ہے۔ یہاں “جلنے والے” اُن عاشقوں کا استعارہ ہیں جو ہجر کی آگ میں جلتے ہیں۔ خوشی کی بزم میں اُن کا سوز ناگوار ٹھہرتا ہے، اس لیے شعر میں لطیف طنز اور محرومی کا احساس ابھرتا ہے۔

شفق سوپوری

عاشقی سے ملے گا اے زاہد

بندگی سے خدا نہیں ملتا

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی یہاں زاہد کی خشک پرہیزگاری پر طنز کرتے ہیں اور عشق کی سچائی کو اصل راستہ بتاتے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ محض رسم و رواج والی بندگی، بغیر دل کی تپش کے، انسان کو خدا تک نہیں پہنچاتی۔ خدا کی قربت کے لیے اندر کی لگن اور محبت ضروری ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی یہاں زاہد کی خشک پرہیزگاری پر طنز کرتے ہیں اور عشق کی سچائی کو اصل راستہ بتاتے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ محض رسم و رواج والی بندگی، بغیر دل کی تپش کے، انسان کو خدا تک نہیں پہنچاتی۔ خدا کی قربت کے لیے اندر کی لگن اور محبت ضروری ہے۔

غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے کہ محبوب کے وعدے پر اعتبار کرنا ہی غضب تھا۔ رات بھر کا انتظار اتنا طویل اور کربناک محسوس ہوتا ہے کہ اسے “قیامت” سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہاں قیامت ٹوٹے ہوئے وعدے سے پیدا ہونے والی بے چینی اور دل کی تباہی کی علامت ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے کہ محبوب کے وعدے پر اعتبار کرنا ہی غضب تھا۔ رات بھر کا انتظار اتنا طویل اور کربناک محسوس ہوتا ہے کہ اسے “قیامت” سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہاں قیامت ٹوٹے ہوئے وعدے سے پیدا ہونے والی بے چینی اور دل کی تباہی کی علامت ہے۔

لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سے

الٰہی یہ گھٹا دو دن تو برسے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر بارش اور بجلی کے موسم کو قربت کا بہانہ بناتا ہے: محبوب بجلی کے ڈر سے گلے لگتا ہے اور عاشق کو وصال میسر آتا ہے۔ اسی خوشی میں وہ دعا کرتا ہے کہ گھٹا چند دن اور برستی رہے تاکہ یہ قربت قائم رہے۔ گھٹا اور بجلی یہاں خوف اور خواہش کے استعارے بن جاتے ہیں۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر بارش اور بجلی کے موسم کو قربت کا بہانہ بناتا ہے: محبوب بجلی کے ڈر سے گلے لگتا ہے اور عاشق کو وصال میسر آتا ہے۔ اسی خوشی میں وہ دعا کرتا ہے کہ گھٹا چند دن اور برستی رہے تاکہ یہ قربت قائم رہے۔ گھٹا اور بجلی یہاں خوف اور خواہش کے استعارے بن جاتے ہیں۔

جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں

ایسی جنت کو کیا کرے کوئی

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی یہاں جنت کی مروجہ لذتوں—حوروں اور دائمی آسائش—کو بے معنی قرار دیتے ہیں۔ مصرعِ ثانی استفہامِ انکاری ہے: جب دل کی اصل طلب (محبوب/حقیقی سکون) نہ ملے تو جنت بھی کچھ نہیں۔ یہ شعر عشق کی شدت اور ظاہری نعمتوں سے بےنیازی کو نمایاں کرتا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی یہاں جنت کی مروجہ لذتوں—حوروں اور دائمی آسائش—کو بے معنی قرار دیتے ہیں۔ مصرعِ ثانی استفہامِ انکاری ہے: جب دل کی اصل طلب (محبوب/حقیقی سکون) نہ ملے تو جنت بھی کچھ نہیں۔ یہ شعر عشق کی شدت اور ظاہری نعمتوں سے بےنیازی کو نمایاں کرتا ہے۔

رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں

ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے

Interpretation: Rekhta AI

محبوب اپنے حسن کے مقابل شمع رکھ کر عاشق کی کشش کو آزمانا چاہتا ہے۔ شمع ایک دوسری روشنی ہے اور پروانہ عاشق کی علامت، جو آگ اور حسن دونوں کی طرف بےاختیار کھنچتا ہے۔ اس شوخی میں ناز اور ہلکی سی غیرت بھی ہے کہ دل کس طرف جھکتا ہے۔ شعر میں کشش، امتحان اور سپردگی کا لطیف احساس ابھرتا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

محبوب اپنے حسن کے مقابل شمع رکھ کر عاشق کی کشش کو آزمانا چاہتا ہے۔ شمع ایک دوسری روشنی ہے اور پروانہ عاشق کی علامت، جو آگ اور حسن دونوں کی طرف بےاختیار کھنچتا ہے۔ اس شوخی میں ناز اور ہلکی سی غیرت بھی ہے کہ دل کس طرف جھکتا ہے۔ شعر میں کشش، امتحان اور سپردگی کا لطیف احساس ابھرتا ہے۔

دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات

ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی نے یہاں طنزیہ انداز میں دکھایا ہے کہ محبوب سے ملاپ کی گھڑی میں اذان ایک رکاوٹ بن جاتی ہے۔ عاشق مؤذن کی عبادت کو برا نہیں کہہ رہا، بس اس کے بے وقت ہونے پر جل رہا ہے۔ جذبۂ عشق کی شدت میں مذہبی آواز بھی بدنصیبی معلوم ہوتی ہے۔ یہ شعر خواہش اور مذہبی معمول کے ٹکراؤ کو نمایاں کرتا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی نے یہاں طنزیہ انداز میں دکھایا ہے کہ محبوب سے ملاپ کی گھڑی میں اذان ایک رکاوٹ بن جاتی ہے۔ عاشق مؤذن کی عبادت کو برا نہیں کہہ رہا، بس اس کے بے وقت ہونے پر جل رہا ہے۔ جذبۂ عشق کی شدت میں مذہبی آواز بھی بدنصیبی معلوم ہوتی ہے۔ یہ شعر خواہش اور مذہبی معمول کے ٹکراؤ کو نمایاں کرتا ہے۔

دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں

الٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب کی ناشکری اور بےقدری کا شکوہ کرتا ہے کہ دل جیسی قیمتی چیز مفت لے کر بھی اسے ناکارہ کہا گیا۔ پھر الٹی شکایتوں سے یہ دکھ واضح ہوتا ہے کہ دینے والا ہی قصوروار ٹھہرا۔ اس طنز میں محبت کی تذلیل اور احسان کی ناقدری کا گہرا کرب ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب کی ناشکری اور بےقدری کا شکوہ کرتا ہے کہ دل جیسی قیمتی چیز مفت لے کر بھی اسے ناکارہ کہا گیا۔ پھر الٹی شکایتوں سے یہ دکھ واضح ہوتا ہے کہ دینے والا ہی قصوروار ٹھہرا۔ اس طنز میں محبت کی تذلیل اور احسان کی ناقدری کا گہرا کرب ہے۔

چپ چاپ سنتی رہتی ہے پہروں شب فراق

تصویر یار کو ہے مری گفتگو پسند

Interpretation: Rekhta AI

شاعر تنہائی میں شبِ فراق کے دوران ایک بےجان تصویر سے مخاطب ہے، مگر اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ سن بھی رہی ہو۔ شبِ فراق کو خاموش سامع بنا کر اور تصویرِ یار کو ہمراز ٹھہرا کر وہ اپنی تڑپ ظاہر کرتا ہے۔ یہ محبوب کی غیرموجودگی میں یاد اور وہم کے سہارے جینے کی کیفیت ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

شاعر تنہائی میں شبِ فراق کے دوران ایک بےجان تصویر سے مخاطب ہے، مگر اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ سن بھی رہی ہو۔ شبِ فراق کو خاموش سامع بنا کر اور تصویرِ یار کو ہمراز ٹھہرا کر وہ اپنی تڑپ ظاہر کرتا ہے۔ یہ محبوب کی غیرموجودگی میں یاد اور وہم کے سہارے جینے کی کیفیت ہے۔

رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا

مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبوب کے چلے جانے اور غم کے رہ جانے کا تضاد ہے: شخص رخصت ہو گیا مگر تکلیف دل میں جم گئی۔ دوسرے مصرعے میں شاعر اسی دکھ کو زندگی کے اصول سے جوڑ دیتا ہے کہ نہ دل کسی کا مستقل گھر ہے نہ دنیا—ہر مقام عارضی ہے۔ یوں “مقام” دل اور جہان دونوں کے لیے استعارہ بن جاتا ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں محبوب کے چلے جانے اور غم کے رہ جانے کا تضاد ہے: شخص رخصت ہو گیا مگر تکلیف دل میں جم گئی۔ دوسرے مصرعے میں شاعر اسی دکھ کو زندگی کے اصول سے جوڑ دیتا ہے کہ نہ دل کسی کا مستقل گھر ہے نہ دنیا—ہر مقام عارضی ہے۔ یوں “مقام” دل اور جہان دونوں کے لیے استعارہ بن جاتا ہے۔

یوں بھی ہزاروں لاکھوں میں تم انتخاب ہو

پورا کرو سوال تو پھر لا جواب ہو

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی اس شعر میں محبوب کی نایابی اور برتری بیان کرتے ہیں: بھیڑ میں بھی وہی چنا ہوا ہے۔ پھر عاشق نازک سا مطالبہ رکھتا ہے کہ اگر محبوب اس کی درخواست پوری کر دے تو وہ بالکل لاجواب، یعنی بے مثال ٹھہرے گا۔ تعریف میں شوق اور ہلکی سی شوخی شامل ہے۔ اصل جذبہ چاہت ہے جو تعریف کے انداز میں اظہار پاتی ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی اس شعر میں محبوب کی نایابی اور برتری بیان کرتے ہیں: بھیڑ میں بھی وہی چنا ہوا ہے۔ پھر عاشق نازک سا مطالبہ رکھتا ہے کہ اگر محبوب اس کی درخواست پوری کر دے تو وہ بالکل لاجواب، یعنی بے مثال ٹھہرے گا۔ تعریف میں شوق اور ہلکی سی شوخی شامل ہے۔ اصل جذبہ چاہت ہے جو تعریف کے انداز میں اظہار پاتی ہے۔

فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں

جہاں بجتے ہیں نقارے وہاں ماتم بھی ہوتے ہے

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی اس شعر میں زندگی کی حقیقت بتاتے ہیں کہ خوشی کے ساتھ غم کا آنا بھی لازمی ہے۔ “فلک” سے مراد تقدیر ہے جو نعمت دے تو آزمائش بھی دیتی ہے۔ “نقارے” اور “ماتم” کا تقابل یہ دکھاتا ہے کہ جشن کے بیچ بھی دکھ کی آہٹ موجود رہتی ہے۔ لہجہ نصیحت آمیز اور حقیقت پسندانہ ہے۔

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی اس شعر میں زندگی کی حقیقت بتاتے ہیں کہ خوشی کے ساتھ غم کا آنا بھی لازمی ہے۔ “فلک” سے مراد تقدیر ہے جو نعمت دے تو آزمائش بھی دیتی ہے۔ “نقارے” اور “ماتم” کا تقابل یہ دکھاتا ہے کہ جشن کے بیچ بھی دکھ کی آہٹ موجود رہتی ہے۔ لہجہ نصیحت آمیز اور حقیقت پسندانہ ہے۔

Recitation

بولیے