نقاب شاعری

نقاب کو کلاسیکی شاعری میں بہت دلچسپ طریقوں سے موضوع بنایا گیا ہے ۔ محبوب ہے کہ اپنے حسن کو نقاب سے چھائے رہتا ہے اور عاشق دیدار کو ترستا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نقاب بھی محبوب کے حسن کو چھپا نہیں پاتا اوراسے چھپائے رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں ۔ ایسے اور بھی مزےدار گوشے نقاب پر کی جانے والی شاعری کے اس انتخاب میں ہیں ۔ آپ پڑھئے اور لطف لیجئے ۔

اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کا

کیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم

جگر مراد آبادی

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

داغؔ دہلوی

آنکھیں خدا نے دی ہیں تو دیکھیں گے حسن یار

کب تک نقاب رخ سے اٹھائی نہ جائے گی

جلیل مانک پوری

سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ

نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

the veil slips from her visage at such a gentle pace

as though the sun emerges from a cloud's embrace

the veil slips from her visage at such a gentle pace

as though the sun emerges from a cloud's embrace

امیر مینائی

ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب

یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا

شہزاد احمد

ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی

ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے

as yet the night does linger on do not remove your veil

lest your besotten follower re-gains stability

as yet the night does linger on do not remove your veil

lest your besotten follower re-gains stability

انور مرزاپوری

دیکھ کر ہم کو نہ پردے میں تو چھپ جایا کر

ہم تو اپنے ہیں میاں غیر سے شرمایا کر

مصحفی غلام ہمدانی

خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو

گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں

بیدل حیدری

چراغ طور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

ذرا نقاب اٹھاؤ بڑا اندھیرا ہے

ساغر صدیقی

اس دور میں انسان کا چہرہ نہیں ملتا

کب سے میں نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں

مغیث الدین فریدی

جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں

قیامت وہی تو اٹھائے ہوئے ہیں

حفیظ بنارسی

اسی امید پر تو جی رہے ہیں ہجر کے مارے

کبھی تو رخ سے اٹھے گی نقاب آہستہ آہستہ

ہاشم علی خاں دلازاک

تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک

قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا

حفیظ جالندھری

تم جو پردے میں سنورتے ہو نتیجہ کیا ہے

لطف جب تھا کہ کوئی دیکھنے والا ہوتا

جلیل مانک پوری

الٹی اک ہاتھ سے نقاب ان کی

ایک سے اپنے دل کو تھام لیا

جلیل مانک پوری

نقاب رخ اٹھایا جا رہا ہے

وہ نکلی دھوپ سایہ جا رہا ہے

from the confines of the veil your face is now being freed

lo sunshine now emerges, the shadows now recede

from the confines of the veil your face is now being freed

lo sunshine now emerges, the shadows now recede

ماہر القادری

ذرا نقاب حسیں رخ سے تم الٹ دینا

ہم اپنے دیدہ و دل کا غرور دیکھیں گے

شکیل بدایونی

نقاب کہتی ہے میں پردۂ قیامت ہوں

اگر یقین نہ ہو دیکھ لو اٹھا کے مجھے

جلیل مانک پوری

کب تک چھپاؤگے رخ زیبا نقاب میں

برق جمال رہ نہیں سکتا حجاب میں

نامعلوم

تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھول

صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار

قمر جلالوی

اگرچہ وہ بے پردہ آئے ہوئے ہیں

چھپانے کی چیزیں چھپائے ہوئے ہیں

احمد حسین مائل

ہے دیکھنے والوں کو سنبھلنے کا اشارا

تھوڑی سی نقاب آج وہ سرکائے ہوئے ہیں

عرش ملسیانی

کسی میں تاب کہاں تھی کہ دیکھتا ان کو

اٹھی نقاب تو حیرت نقاب ہو کے رہی

جلیل مانک پوری

دیدار سے پہلے ہی کیا حال ہوا دل کا

کیا ہوگا جو الٹیں گے وہ رخ سے نقاب آخر

واصف دہلوی

گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی

وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی

آغا حشر کاشمیری

اٹھ اے نقاب یار کہ بیٹھے ہیں دیر سے

کتنے غریب دیدۂ پر نم لیے ہوئے

جلیل مانک پوری

آنکھوں کو دیکھنے کا سلیقہ جب آ گیا

کتنے نقاب چہرۂ اسرار سے اٹھے

اکبر حیدرآبادی

دیکھتا میں اسے کیوں کر کہ نقاب اٹھتے ہی

بن کے دیوار کھڑی ہو گئی حیرت میری

جلیل مانک پوری

مبہم تھے سب نقوش نقابوں کی دھند میں

چہرہ اک اور بھی پس چہرہ ضرور تھا

اکبر حیدرآبادی

ذرا پردہ ہٹا دو سامنے سے بجلیاں چمکیں

مرا دل جلوہ گاہ طور بن جائے تو اچھا ہو

علی ظہیر رضوی لکھنوی

نقاب اٹھاؤ تو ہر شے کو پاؤ گے سالم

یہ کائنات بطور حجاب ٹوٹتی ہے

مشکور حسین یاد