محفل شاعری

یہ شاعری محفل کی رنگینیوں ، چہل پہل اور ساتھ ہی محفل کے اندیکھے دکھوں کا بیان ہے ۔ اس شعری انتخاب کو پڑھ کر آپ ایک لمحے کے لئے خود کو محفل کی انہیں صورتوں میں گھرا ہوا پائیں گے ۔

ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک

جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا

ندا فاضلی

شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو

خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا

داغؔ دہلوی

سنا ہے تیری محفل میں سکون دل بھی ملتا ہے

مگر ہم جب تری محفل سے آئے بے قرار آئے

نامعلوم

فریب ساقئ محفل نہ پوچھئے مجروحؔ

شراب ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے

مجروح سلطانپوری

جلوہ گر بزم حسیناں میں ہیں وہ اس شان سے

چاند جیسے اے قمرؔ تاروں بھری محفل میں ہے

قمر جلالوی

ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال

ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

مرزا غالب

کوئی نالاں کوئی گریاں کوئی بسمل ہو گیا

اس کے اٹھتے ہی دگرگوں رنگ محفل ہو گیا

ابو الکلام آزاد

مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے

عمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے

فانی بدایونی

جانے کیا محفل پروانہ میں دیکھا اس نے

پھر زباں کھل نہ سکی شمع جو خاموش ہوئی

علیم مسرور

تمہاری بزم سے نکلے تو ہم نے یہ سوچا

زمیں سے چاند تلک کتنا فاصلہ ہوگا

کفیل آزر امروہوی

اٹھ کے اس بزم سے آ جانا کچھ آسان نہ تھا

ایک دیوار سے نکلا ہوں جو در سے نکلا

علیم مسرور

Added to your favorites

Removed from your favorites