محفل پر اشعار
یہ شاعری محفل کی رنگینیوں
، چہل پہل اور ساتھ ہی محفل کے اندیکھے دکھوں کا بیان ہے ۔ اس شعری انتخاب کو پڑھ کر آپ ایک لمحے کے لئے خود کو محفل کی انہیں صورتوں میں گھرا ہوا پائیں گے ۔
شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو
خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا
شبِ وصال یعنی محبوب سے ملاقات کی رات۔ گل کرنا یعنی بجھا دینا۔ اس شعر میں شبِ وصال کی مناسبت سے چراغ اور چراغ کی مناسبت سے گل کرنا۔ اور ’خوشی کی بزم میں‘ کی رعایت سے جلنے والے داغ دہلوی کی مضمون آفرینی کی عمدہ مثال ہے۔ شعر میں کئی کردار ہیں۔ ایک شعری کردار، دوسرا وہ( ایک یا بہت سے) جن سے شعری کردار مخاطب ہے۔ شعر میں جو طنز یہ لہجہ ہے اس نے مجموعی صورت حال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔اور جب ’ان چراغوں کو‘ کہا تو گویا کچھ مخصوص چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔
شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ عاشق و معشوق کے ملن کی رات ہے، اس لئے چراغوں کو بجھا دو کیونکہ ایسی راتوں میں جلنے والوں کا کام نہیں۔ چراغ بجھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ملن کی رات میں جو بھی ہو وہ پردے میں رہے مگر جب یہ کہا کہ جلنے والوں کا کیا کام ہے تو شعر کا مفہوم ہی بدل دیا۔ دراصل جلنے والے استعارہ ہیں ان لوگوں کا جو شعری کردار اور اس کے محبوب کے ملن پر جلتے ہیں اور حسد کرتے ہیں۔ اسی لئے کہا ہے کہ ان حسد کرنے والوں کو اس بزم سے اٹھا دو۔
EXPLANATION #1
یہ وصال کی رات ہے، ان چراغوں کو بجھا دو۔
خوشی کی محفل میں تڑپتے اور جلتے لوگوں کی کیا جگہ ہے؟
شاعر وصال کی رات میں چراغ بجھانے کو کہتا ہے کہ اس ساعتِ قرب میں روشنی نہیں، خلوت درکار ہے۔ یہاں “جلنے والے” اُن عاشقوں کا استعارہ ہیں جو ہجر کی آگ میں جلتے ہیں۔ خوشی کی بزم میں اُن کا سوز ناگوار ٹھہرتا ہے، اس لیے شعر میں لطیف طنز اور محرومی کا احساس ابھرتا ہے۔
شفق سوپوری
ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال
ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ انسان کا ذہن خیالات کی کثرت اور شور کی وجہ سے محشر (قیامت) کا منظر پیش کرتا ہے۔ انسان کے اندر اتنی رونق اور ہنگامہ ہے کہ اسے باہر کی محفل کی ضرورت نہیں؛ وہ اپنی تنہائی (خلوت) میں بھی اپنے خیالات کے ہجوم کی وجہ سے خود کو انجمن میں محسوس کرتا ہے۔
-
موضوع : تنہائی
سنا ہے تیری محفل میں سکون دل بھی ملتا ہے
مگر ہم جب تری محفل سے آئے بے قرار آئے
فریب ساقئ محفل نہ پوچھئے مجروحؔ
شراب ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے
-
موضوعات : ساقیاور 1 مزید
مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے
عمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے
-
موضوعات : جوانیاور 1 مزید
تمہاری بزم سے نکلے تو ہم نے یہ سوچا
زمیں سے چاند تلک کتنا فاصلہ ہوگا
کوئی نالاں کوئی گریاں کوئی بسمل ہو گیا
اس کے اٹھتے ہی دگرگوں رنگ محفل ہو گیا
جلوہ گر بزم حسیناں میں ہیں وہ اس شان سے
چاند جیسے اے قمرؔ تاروں بھری محفل میں ہے
جانے کیا محفل پروانہ میں دیکھا اس نے
پھر زباں کھل نہ سکی شمع جو خاموش ہوئی
-
موضوعات : پروانہاور 1 مزید
اٹھ کے اس بزم سے آ جانا کچھ آسان نہ تھا
ایک دیوار سے نکلا ہوں جو در سے نکلا
بہت روئے گی دنیا اس بشر کی بد نصیبی پر
جو داغ آرزو لے کر تری محفل سے نکلے گا
-
موضوعات : آرزواور 2 مزید
کچھ نظر آ رہے ہیں محفل میں
دیکھ لو ماہتاب سچ مچ کے
وہی اکیلا ہے انجمن میں
وہی ہے تنہا مکان میں بھی
-
موضوع : تنہائی
غزل لطف و اثر پا کر بہ طرز میرؔ رقصاں ہے
چلو برپا کریں محفل چلو دیکھیں شرر لٹتا
-
موضوع : میر تقی میر