تصویر پر شعر

تصویر پر شاعری معانی

وموضوعات کے بہت سے علاقوں کو گھیرے ہوئے ہے ۔ تصویر کو اس کی خوبصورتی، خاموشی، تأثرات کی عدم تبدیلی اور بہت سی جہتوں کے حوالے سے شاعری میں استعمال کیا گیا ہے ۔ تصویر مہربان بھی ہے اور نامہربان بھی ۔ ایک طرف تو وہ کسی اصلی چہرے کا بدل ہے دوسری طرف اس میں دیکھنے والے کی تمام تر دلچسپی اور توجہ کے باوجود کسی قسم کا کوئی رد عمل نہیں ہے ۔ اس لئے تصویر دور ہونے اور قریب ہونے کے بیچ ایک عجیب کشمکش پیدا کرتی ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب پڑھئے۔

تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورت

ہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں

امام بخش ناسخ

آپ نے تصویر بھیجی میں نے دیکھی غور سے

ہر ادا اچھی خموشی کی ادا اچھی نہیں

جلیل مانک پوری

رنگ خوشبو اور موسم کا بہانا ہو گیا

اپنی ہی تصویر میں چہرہ پرانا ہو گیا

خالد غنی

زندگی بھر کے لیے روٹھ کے جانے والے

میں ابھی تک تری تصویر لیے بیٹھا ہوں

قیصر الجعفری

چپ چاپ سنتی رہتی ہے پہروں شب فراق

تصویر یار کو ہے مری گفتگو پسند

داغؔ دہلوی

اپنے جیسی کوئی تصویر بنانی تھی مجھے

مرے اندر سے سبھی رنگ تمہارے نکلے

سالم سلیم

مجھ کو اکثر اداس کرتی ہے

ایک تصویر مسکراتی ہوئی

وکاس شرما راز

بھیج دی تصویر اپنی ان کو یہ لکھ کر شکیلؔ

آپ کی مرضی ہے چاہے جس نظر سے دیکھیے

شکیل بدایونی

کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے

اس کی تصویر ہٹا دی جائے

محمد علوی

جو چپ چاپ رہتی تھی دیوار پر

وہ تصویر باتیں بنانے لگی

عادل منصوری

ایک کمی تھی تاج محل میں

میں نے تری تصویر لگا دی

کیف بھوپالی

میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں

دیکھا جو غور سے تری تصویر بن گئی

سلیم بیتاب

جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی

دیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھی

احمد فراز

اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا

سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی

تشریح

اس شعر میں وارداتِ عشق کو عقل اور جنوں کے پیمانوں میں تولنے کا پہلو بہت دلچسپ ہے۔ عشق کے معاملے میں عقل اور جنوں کی کشمکش ازلی ہے۔ جہاں عقل عشق کو انسانی حیات کے لئے ایک وجہِ زیاں مانتی ہے وہیں جنوں عشق کو انسانی حیات کا لبِ لباب مانتی ہے۔ اور اگر عشق میں جنوں پر عقل غالب آگئی تو عشق عشق نہیں رہتا ۔ کیونکہ عشق کی اولین شرط جنوں ہے۔ اور جنوں کی آماجگاہ دل ہے۔ اس لئے اگر عاشق دل کے بجائے عقل کی سنے تو وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔

شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں اپنے محبوب کے عشق میں اس قدر مجنوں ہوگیا ہوں کہ اسے بھلانے کے لئے عقل نے ایک بار ٹھان لی تھی مگر میرے جنونِ عشق نے مجھے سو بار اپنے محبوب کی تصویر دکھا دی۔ ’تصویر دکھا‘ بھی خوب ہے۔ کیونکہ جنوں کی کیفیت میں انسان ایک ایسی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے جب اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ چیزیں دکھائی دیتی ہیں جو اگر چہ وہاں موجود نہیں ہوتی ہیں مگر اس نوع کے جنوں میں مبتلا انسان انہیں حقیقت سمجھتا ہے۔ شعر اپنی کیفیت کے اعتبار سے بہت دلچسپ ہے۔

شفق سوپوری

ماہر القادری

رفتہ رفتہ سب تصویریں دھندلی ہونے لگتی ہیں

کتنے چہرہ ایک پرانے البم میں مر جاتے ہیں

خوشبیر سنگھ شادؔ

سوچتا ہوں تری تصویر دکھا دوں اس کو

روشنی نے کبھی سایہ نہیں دیکھا اپنا

اقبال اشہر

دل کے آئینے میں ہے تصویر یار

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

لالہ موجی رام موجی

خامشی تیری مری جان لیے لیتی ہے

اپنی تصویر سے باہر تجھے آنا ہوگا

محمد علی ساحل

آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا

مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے والے

اختر سعید خان

اک محبت کی یہ تصویر ہے دو رنگوں میں

شوق سب میرا ہے اور ساری حیا اس کی ہے

جاوید اختر

چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنا

دیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا

بہادر شاہ ظفر

میں نے بھی دیکھنے کی حد کر دی

وہ بھی تصویر سے نکل آیا

شہپر رسول

ہم ہیں اس کے خیال کی تصویر

جس کی تصویر ہے خیال اپنا

فانی بدایونی

دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے

جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی

میر تقی میر

اپنی تصویر بناؤ گے تو ہوگا احساس

کتنا دشوار ہے خود کو کوئی چہرہ دینا

اظہر عنایتی

کہہ رہی ہے یہ تری تصویر بھی

میں کسی سے بولنے والی نہیں

نوح ناروی

کوئی تصویر مکمل نہیں ہونے پاتی

دھوپ دیتے ہیں تو سایا نہیں رہنے دیتے

احمد مشتاق

رنگ درکار تھے ہم کو تری خاموشی کے

ایک آواز کی تصویر بنانی تھی ہمیں

ناظر وحید

میں لاکھ اسے تازہ رکھوں دل کے لہو سے

لیکن تری تصویر خیالی ہی رہے گی

زیب غوری

لگتا ہے کئی راتوں کا جاگا تھا مصور

تصویر کی آنکھوں سے تھکن جھانک رہی ہے

نامعلوم

مدتوں بعد اٹھائے تھے پرانے کاغذ

ساتھ تیرے مری تصویر نکل آئی ہے

صابر دت

صورت چھپائیے کسی صورت پرست سے

ہم دل میں نقش آپ کی تصویر کر چکے

انور دہلوی

آتا تھا جس کو دیکھ کے تصویر کا خیال

اب تو وہ کیل بھی مری دیوار میں نہیں

غلام مرتضی راہی

تصویر کے دو رخ ہیں جاں اور غم جاناں

اک نقش چھپانا ہے اک نقش دکھانا ہے

جگر مراد آبادی

وہ عیادت کو تو آیا تھا مگر جاتے ہوئے

اپنی تصویریں بھی کمرے سے اٹھا کر لے گیا

عرش صدیقی

صورت وصل نکلتی کسی تدبیر کے ساتھ

میری تصویر ہی کھنچتی تری تصویر کے ساتھ

نامعلوم

کل تیری تصویر مکمل کی میں نے

فوراً اس پر تتلی آ کر بیٹھ گئی

ارشاد خان سکندر

مجھے یہ زعم کہ میں حسن کا مصور ہوں

انہیں یہ ناز کہ تصویر تو ہماری ہے

شبنم رومانی

پیار گیا تو کیسے ملتے رنگ سے رنگ اور خواب سے خواب

ایک مکمل گھر کے اندر ہر تصویر ادھوری تھی

غلام محمد قاصر

خوشبو گرفت عکس میں لایا اور اس کے بعد

میں دیکھتا رہا تری تصویر تھک گئی

غلام محمد قاصر

تری تصویر تو وعدے کے دن کھنچنے کے قابل ہے

کہ شرمائی ہوئی آنکھیں ہیں گھبرایا ہوا دل ہے

نظیر الہ بادی

تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں

اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے

مومن خاں مومن

الماری میں تصویریں رکھتا ہوں

اب بچپن اور بڑھاپا ایک ہوئے

اختر ہوشیارپوری

روز ہے درد محبت کا نرالا انداز

روز دل میں تری تصویر بدل جاتی ہے

فانی بدایونی

کہیں ایسا نہ ہو کم بخت میں جان آ جائے

اس لیے ہاتھ میں لیتے مری تصویر نہیں

مبارک عظیم آبادی

شہر ہو دشت تمنا ہو کہ دریا کا سفر

تیری تصویر کو سینے سے لگا رکھا ہے

عزیز الرحمن شہید فتح پوری

حرف کو لفظ نہ کر لفظ کو اظہار نہ دے

کوئی تصویر مکمل نہ بنا اس کے لیے

محمد احمد رمز

گرما سکیں نہ چاہتیں تیرا کٹھور جسم

ہر اک جل کے بجھ گئی تصویر سنگ میں

مصور سبزواری
بولیے