Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Zeb Ghauri's Photo'

زیب غوری

1928 - 1985 | کانپور, انڈیا

ہندوستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں

ہندوستان کے ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں

زیب غوری کی ٹاپ ٢٠ شاعری

بڑے عذاب میں ہوں مجھ کو جان بھی ہے عزیز

ستم کو دیکھ کے چپ بھی رہا نہیں جاتا

زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا

میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا

دل ہے کہ تری یاد سے خالی نہیں رہتا

شاید ہی کبھی میں نے تجھے یاد کیا ہو

مری جگہ کوئی آئینہ رکھ لیا ہوتا

نہ جانے تیرے تماشے میں میرا کام ہے کیا

ادھوری چھوڑ کے تصویر مر گیا وہ زیبؔ

کوئی بھی رنگ میسر نہ تھا لہو کے سوا

دل کو سنبھالے ہنستا بولتا رہتا ہوں لیکن

سچ پوچھو تو زیبؔ طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی

گھسیٹتے ہوئے خود کو پھرو گے زیبؔ کہاں

چلو کہ خاک کو دے آئیں یہ بدن اس کا

جاگ کے میرے ساتھ سمندر راتیں کرتا ہے

جب سب لوگ چلے جائیں تو باتیں کرتا ہے

یہ کم ہے کیا کہ مرے پاس بیٹھا رہتا ہے

وہ جب تلک مرے دل کو دکھا نہیں جاتا

کچھ دور تک تو چمکی تھی میرے لہو کی دھار

پھر رات اپنے ساتھ بہا لے گئی مجھے

میں لاکھ اسے تازہ رکھوں دل کے لہو سے

لیکن تری تصویر خیالی ہی رہے گی

تلاش ایک بہانہ تھا خاک اڑانے کا

پتہ چلا کہ ہمیں جستجوئے یار نہ تھی

میں تو چاک پہ کوزہ گر کے ہاتھ کی مٹی ہوں

اب یہ مٹی دیکھ کھلونا کیسے بنتی ہے

ایک کرن بس روشنیوں میں شریک نہیں ہوتی

دل کے بجھنے سے دنیا تاریک نہیں ہوتی

یہ ڈوبتی ہوئی کیا شے ہے تیری آنکھوں میں

ترے لبوں پہ جو روشن ہے اس کا نام ہے کیا

کھلی چھتوں سے چاندنی راتیں کترا جائیں گی

کچھ ہم بھی تنہائی کے عادی ہو جائیں گے

الٹ رہی تھیں ہوائیں ورق ورق اس کا

لکھی گئی تھی جو مٹی پہ وہ کتاب تھا وہ

نہ جانے کیا ہے کہ جب بھی میں اس کو دیکھتا ہوں

تو کوئی اور مرے رو بہ رو نکلتا ہے

دھو کے تو میرا لہو اپنے ہنر کو نہ چھپا

کہ یہ سرخی تری شمشیر کا جوہر ہی تو ہے

ایک جھونکا ہوا کا آیا زیبؔ

اور پھر میں غبار بھی نہ رہا

دیکھ کبھی آ کر یہ لا محدود فضا

تو بھی میری تنہائی میں شامل ہو

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے