تنہائی پر شاعری

کلاسیکی شاعری میں تنہائی روایتی عشق کی پیدا کردہ تھی ۔ محبوب وصل سے انکار کردیتا تھا تو عاشق تنہا ہو جاتا تھا ۔ اس تنہائی میں محبوب کی یاد اس کا سہارا بنتی لیکن تنہائی کو جدید شاعروں نے جس وسیع سیاق میں برتا ہےاور اسے جدید دور کے جس بڑے عذاب کے طور دیکھا ہے اس سے شعری موضوعات میں اور اضافہ ہوا ہے ۔ تنہائی کو موضوع بنانے والے شعروں کا ہمارا یہ انتخاب ایک سطح پر جدید غزل کو سمجھنے میں بھی معاون ہوگا ۔


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

اپنے سائے سے چونک جاتے ہیں


عمر گزری ہے اس قدر تنہا

بھیڑ کے خوف سے پھر گھر کی طرف لوٹ آیا


گھر سے جب شہر میں تنہائی کے ڈر سے نکلا

دن کو دفتر میں اکیلا شب بھرے گھر میں اکیلا


میں کہ عکس منتشر ایک ایک منظر میں اکیلا

ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک


جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا

عید کا دن ہے سو کمرے میں پڑا ہوں اسلمؔ


اپنے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے

اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی


جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا

خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں


یہ کیسے لوگ ہیں جن کو گھروں سے ڈر نہیں لگتا

میں ہوں دل ہے تنہائی ہے


تم بھی ہوتے اچھا ہوتا

میں تو تنہا تھا مگر تجھ کو بھی تنہا دیکھا


اپنی تصویر کے پیچھے ترا چہرا دیکھا

مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا


میں اک حصار تھا تنہائیوں نے توڑ دیا

ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے


کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا

سر بلندی مری تنہائی تک آ پہنچی ہے


میں وہاں ہوں کہ جہاں کوئی نہیں میرے سوا

صبح تک کون جئے گا شب تنہائی میں


دل ناداں تجھے امید سحر ہے بھی تو کیا

تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سے


لیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا

ان کی حسرت بھی نہیں میں بھی نہیں دل بھی نہیں


اب تو بیخودؔ ہے یہ عالم مری تنہائی کا

زندگی یوں ہوئی بسر تنہا


قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

موضوع