ہوا پر شاعری

ہوا کا ذکر آپ کو شاعری میں بار بار ملے گا ۔ ہوا کا کردار ہی اتنا مختلف الجہات اور متنوع ہے کہ کسی نہ کسی سمت سے اس کا ذکر آ ہی جاتا ہے ۔ کبھی وہ چراغوں کو بجھاتی ہے تو کبھی جینے کا استعارہ بن جاتی ہے اور کبھی ذرا سی خنکی لئے ہوئے صبح کی سیر کا حاصل بن جاتی ہے ۔ ہوا کو موضوع بنانے والے اشعار کا یہ انتخاب آپ کے لئے حاضر ہے ۔

چراغ گھر کا ہو محفل کا ہو کہ مندر کا

ہوا کے پاس کوئی مصلحت نہیں ہوتی

وسیم بریلوی

ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا

کیوں گلہ پھر ہمیں ہوا سے رہے

جاوید اختر

اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے

مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے

احمد فراز

ہوا خفا تھی مگر اتنی سنگ دل بھی نہ تھی

ہمیں کو شمع جلانے کا حوصلہ نہ ہوا

قیصر الجعفری

نہیں ہے میرے مقدر میں روشنی نہ سہی

یہ کھڑکی کھولو ذرا صبح کی ہوا ہی لگے

بشیر بدر

کوئی چراغ جلاتا نہیں سلیقے سے

مگر سبھی کو شکایت ہوا سے ہوتی ہے

خورشید طلب

کون طاقوں پہ رہا کون سر راہ گزر

شہر کے سارے چراغوں کو ہوا جانتی ہے

احمد فراز

چھیڑ کر جیسے گزر جاتی ہے دوشیزہ ہوا

دیر سے خاموش ہے گہرا سمندر اور میں

زیب غوری

ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبالؔ

اڑا کے مجھ کو غبار رہ حجاز کرے

علامہ اقبال

خوشبو کو پھیلنے کا بہت شوق ہے مگر

ممکن نہیں ہواؤں سے رشتہ کئے بغیر

tho fragrance is very fond, to spread around, increase

this is nigh impossible, till it befriends the breeze

tho fragrance is very fond, to spread around, increase

this is nigh impossible, till it befriends the breeze

بسمل سعیدی

مرے سورج آ! مرے جسم پہ اپنا سایہ کر

بڑی تیز ہوا ہے سردی آج غضب کی ہے

شہریار

فلک پر اڑتے جاتے بادلوں کو دیکھتا ہوں میں

ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تماشا کیسا لگتا ہے

عبد الحمید

ہوا تو ہے ہی مخالف مجھے ڈراتا ہے کیا

ہوا سے پوچھ کے کوئی دیئے جلاتا ہے کیا

خورشید طلب

ایک جھونکا ہوا کا آیا زیبؔ

اور پھر میں غبار بھی نہ رہا

زیب غوری

ہوا درختوں سے کہتی ہے دکھ کے لہجے میں

ابھی مجھے کئی صحراؤں سے گزرنا ہے

اسعد بدایونی

الٹ رہی تھیں ہوائیں ورق ورق اس کا

لکھی گئی تھی جو مٹی پہ وہ کتاب تھا وہ

زیب غوری

یہ ہوا یوں ہی خاک چھانتی ہے

یا کوئی چیز کھو گئی ہے یہاں

کاشف حسین غائر

گھٹن تو دل کی رہی قصر مرمریں میں بھی

نہ روشنی سے ہوا کچھ نہ کچھ ہوا سے ہوا

خالد حسن قادری

ہوا چلی تو کوئی نقش معتبر نہ بچا

کوئی دیا کوئی بادل کوئی شجر نہ بچا

کیفی سنبھلی

کیوں نہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ اتراتی ہوا

پھول جیسے اک بدن کو چھو کر آئی تھی ہوا

عابد مناوری

اندیشہ ہے کہ دے نہ ادھر کی ادھر لگا

مجھ کو تو ناپسند وطیرے صبا کے ہیں

اسماعیلؔ میرٹھی

ذرا ہٹے تو وہ محور سے ٹوٹ کر ہی رہے

ہوا نے نوچا انہیں یوں کہ بس بکھر ہی رہے

علی اکبر عباس

میں جانتا ہوں ہوا دشمنوں نے باندھی ہے

ادھر جو تیری گلی کی ہوا نہیں آتی

جلیل مانک پوری

ہوا کے دوش پہ اڑتی ہوئی خبر تو سنو

ہوا کی بات بہت دور جانے والی ہے

حسن اختر جلیل

شجر سے بچھڑا ہوا برگ خشک ہوں فیصلؔ

ہوا نے اپنے گھرانے میں رکھ لیا ہے مجھے

فیصل عجمی

ہوا سہلا رہی ہے اس کے تن کو

وہ شعلہ اب شرارے دے رہا ہے

اکبر حمیدی

ہوا کے اپنے علاقے ہوس کے اپنے مقام

یہ کب کسی کو ظفر یاب دیکھ سکتے ہیں

اسعد بدایونی