فریب پر شاعری

معشوق کی ایک صفت اس کا فریبی ہونا بھی ہے ۔ وہ ہر معاملے میں دھوکے باز ثابت ہوتا ہے ۔ وصل کا وعدہ کرتا ہے لیکن کبھی وفا نہیں کرتا ہے ۔ یہاں معشوق کے فریب کی مختلف شکلوں کو موضوع بنانے والے کچھ شعروں کا انتخاب ہم پیش کر رہے ہیں انہیں پڑھئے اور معشوق کی ان چالاکیوں سے لطف اٹھائیے ۔

وہ زہر دیتا تو سب کی نگہ میں آ جاتا

سو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں

اختر نظمی

تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں

ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں

افضل خان

عاشقی میں بہت ضروری ہے

بے وفائی کبھی کبھی کرنا

بشیر بدر

آدمی جان کے کھاتا ہے محبت میں فریب

خود فریبی ہی محبت کا صلہ ہو جیسے

اقبال عظیم

فاصلہ نظروں کا دھوکہ بھی تو ہو سکتا ہے

وہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو

ندا فاضلی

جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے

وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں

فراق گورکھپوری

ہم اسے یاد بہت آئیں گے

جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

قتیل شفائی

عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہے

دل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے

ماہر القادری

مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ دیا تھا

اس واسطے اپنوں سے محبت نہیں کرتے

ساقی فاروقی

میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا

گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

قتیل شفائی

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

ثاقب لکھنوی

اے مجھ کو فریب دینے والے

میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں

اطہر نفیس

احباب کو دے رہا ہوں دھوکا

چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

قتیل شفائی

اک سفر میں کوئی دو بار نہیں لٹ سکتا

اب دوبارہ تری چاہت نہیں کی جا سکتی

جمال احسانی

ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائے

کوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے

فنا نظامی کانپوری

کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھر بھی

یہ حسن و عشق تو دھوکا ہے سب مگر پھر بھی

فراق گورکھپوری

ہر چند اعتبار میں دھوکے بھی ہیں مگر

یہ تو نہیں کسی پہ بھروسا کیا نہ جائے

جاں نثاراختر

وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں

میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں

حفیظ جالندھری

دھوکا تھا نگاہوں کا مگر خوب تھا دھوکا

مجھ کو تری نظروں میں محبت نظر آئی

شوکت تھانوی

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے

آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

حبیب جالب

زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا

میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا

زیب غوری

سمجھا لیا فریب سے مجھ کو تو آپ نے

دل سے تو پوچھ لیجیے کیوں بے قرار ہے

لالہ مادھو رام جوہر

اک برس بھی ابھی نہیں گزرا

کتنی جلدی بدل گئے چہرے

کیف احمد صدیقی

ہاتھ چھڑا کر جانے والے

میں تجھ کو اپنا سمجھا تھا

خالد معین

ایسے ملا ہے ہم سے شناسا کبھی نہ تھا

وہ یوں بدل ہی جائے گا سوچا کبھی نہ تھا

خمار فاروقی

کس نے وفا کے نام پہ دھوکا دیا مجھے

کس سے کہوں کہ میرا گنہ گار کون ہے

نجیب احمد

یار میں اتنا بھوکا ہوں

دھوکا بھی کھا لیتا ہوں

عکس سمستی پوری

جو بات دل میں تھی اس سے نہیں کہی ہم نے

وفا کے نام سے وہ بھی فریب کھا جاتا

عزیز حامد مدنی

خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان

وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا

خالد شریف

اکثر ایسا بھی محبت میں ہوا کرتا ہے

کہ سمجھ بوجھ کے کھا جاتا ہے دھوکا کوئی

مظہر امام

گن رہا ہوں حرف ان کے عہد کے

مجھ کو دھوکا دے رہی ہے یاد کیا

عزیز حیدرآبادی

مجھی کو پردۂ ہستی میں دے رہا ہے فریب

وہ حسن جس کو کیا جلوہ آفریں میں نے

اختر علی اختر

چمن کے رنگ و بو نے اس قدر دھوکا دیا مجھ کو

کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

اختر ہوشیارپوری

دکھائی دیتا ہے جو کچھ کہیں وہ خواب نہ ہو

جو سن رہی ہوں وہ دھوکا نہ ہو سماعت کا

فاطمہ حسن

مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا

فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں

ہادی مچھلی شہری

مجھے اب آپ نے چھوڑا کہ میں نے

ادھر تو دیکھیے کس نے دغا کی

لالہ مادھو رام جوہر

یہ بھی اک دھوکا تھا نیرنگ طلسم عقل کا

اپنی ہستی پر بھی ہستی کا ہوا دھوکا مجھے

حفیظ جالندھری

Added to your favorites

Removed from your favorites