دیدار پر شاعری

ہمارا یہ انتخاب عاشق کی معشوق کے دیدار کی خواہش کا بیان ہے ۔ یہ خواہش جس گہری بے چینی کو جنم دیتی ہے اس سے ہم سب گزرے بھی ہیں لیکن اس تجربے کو ایک بڑی سطح پر جاننے اور محسوس کرنے کیلئے اس شعری متن سے گزرنا ضروری ہے ۔

دیکھنے کے لیے سارا عالم بھی کم

چاہنے کے لیے ایک چہرا بہت

اسعد بدایونی

اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات

جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے

ظفر اقبال

کچھ نظر آتا نہیں اس کے تصور کے سوا

حسرت دیدار نے آنکھوں کو اندھا کر دیا

save visions of her, nothing comes to mind

the longing for her sight surely turned me blind

save visions of her, nothing comes to mind

the longing for her sight surely turned me blind

حیدر علی آتش

جناب کے رخ روشن کی دید ہو جاتی

تو ہم سیاہ نصیبوں کی عید ہو جاتی

انور شعور

دیکھا نہیں وہ چاند سا چہرا کئی دن سے

تاریک نظر آتی ہے دنیا کئی دن سے

جنید حزیں لاری

میری آنکھیں اور دیدار آپ کا

یا قیامت آ گئی یا خواب ہے

آسی غازی پوری

تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا

یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

احمد فراز

تم اپنے چاند تارے کہکشاں چاہے جسے دینا

مری آنکھوں پہ اپنی دید کی اک شام لکھ دینا

زبیر رضوی

اب اور دیر نہ کر حشر برپا کرنے میں

مری نظر ترے دیدار کو ترستی ہے

غلام مرتضی راہی

سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی

مجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے

جگر مراد آبادی

کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر

جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر

why didn't I turn to ashes seeing her face so glowing, bright

by envy now I am inflamed, at strength of my own sight

why didn't I turn to ashes seeing her face so glowing, bright

by envy now I am inflamed, at strength of my own sight

مرزا غالب

ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں

تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

امیر مینائی

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

علامہ اقبال

وہ دشمنی سے دیکھتے ہیں دیکھتے تو ہیں

میں شاد ہوں کہ ہوں تو کسی کی نگاہ میں

امیر مینائی

نہ وہ صورت دکھاتے ہیں نہ ملتے ہیں گلے آ کر

نہ آنکھیں شاد ہوتیں ہیں نہ دل مسرور ہوتا ہے

لالہ مادھو رام جوہر

دیدار کی طلب کے طریقوں سے بے خبر

دیدار کی طلب ہے تو پہلے نگاہ مانگ

ignorant of mores when seeking visions bright

if you want the vision, you first need the sight

ignorant of mores when seeking visions bright

if you want the vision, you first need the sight

آزاد انصاری

ترا دیدار ہو حسرت بہت ہے

چلو کہ نیند بھی آنے لگی ہے

ساجد پریمی

کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی

ہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتی

غلام بھیک نیرنگ

آپ ادھر آئے ادھر دین اور ایمان گئے

عید کا چاند نظر آیا تو رمضان گئے

شجاع خاور

مرا جی تو آنکھوں میں آیا یہ سنتے

کہ دیدار بھی ایک دن عام ہوگا

میر تقی میر

جو اور کچھ ہو تری دید کے سوا منظور

تو مجھ پہ خواہش جنت حرام ہو جائے

حسرتؔ موہانی

اس کو دیکھا تو یہ محسوس ہوا

ہم بہت دور تھے خود سے پہلے

محمود شام

کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس

ہم نے دیدار کی گدائی کی

میر تقی میر

اس قمر کو کبھی تو دیکھیں گے

تیس دن ہوتے ہیں مہینے کے

لالہ مادھو رام جوہر

حاصل اس مہ لقا کی دید نہیں

عید ہے اور ہم کو عید نہیں

بیخود بدایونی

جیسے جیسے در دل دار قریب آتا ہے

دل یہ کہتا ہے کہ پہنچوں میں نظر سے پہلے

جلیل مانک پوری

آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووے

گر خاک کے ساتھ اس کو سروکار نہ ہووے

عشق اورنگ آبادی

اٹھ اے نقاب یار کہ بیٹھے ہیں دیر سے

کتنے غریب دیدۂ پر نم لیے ہوئے

جلیل مانک پوری

دردؔ کے ملنے سے اے یار برا کیوں مانا

اس کو کچھ اور سوا دید کے منظور نہ تھا

خواجہ میر درد

الٰہی کیا کھلے دیدار کی راہ

ادھر دروازے بند آنکھیں ادھر بند

لالہ مادھو رام جوہر

آنکھ اٹھا کر اسے دیکھوں ہوں تو نظروں میں مجھے

یوں جتاتا ہے کہ کیا تجھ کو نہیں ڈر میرا

جرأت قلندر بخش

آفریں تجھ کو حسرت دیدار

چشم تر سے زباں کا کام لیا

جلیل مانک پوری

دیکھنا حسرت دیدار اسے کہتے ہیں

پھر گیا منہ تری جانب دم مردن اپنا

خواجہ محمد وزیر

ٹوٹیں وہ سر جس میں تیری زلف کا سودا نہیں

پھوٹیں وہ آنکھیں کہ جن کو دید کا لپکا نہیں

حقیر

تری پہلی دید کے ساتھ ہی وہ فسوں بھی تھا

تجھے دیکھ کر تجھے دیکھنا مجھے آ گیا

اقبال کوثر

میں کامیاب دید بھی محروم دید بھی

جلووں کے اژدحام نے حیراں بنا دیا

اصغر گونڈوی