نشور واحدی کے 20 منتخب شعر

ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لئے معروف

دیا خاموش ہے لیکن کسی کا دل تو جلتا ہے

چلے آؤ جہاں تک روشنی معلوم ہوتی ہے

the lamp's extinguised but someone's heart

the lamp's extinguised but someone's heart

نشور واحدی

انجام وفا یہ ہے جس نے بھی محبت کی

مرنے کی دعا مانگی جینے کی سزا پائی

نشور واحدی

ہزار شمع فروزاں ہو روشنی کے لیے

نظر نہیں تو اندھیرا ہے آدمی کے لیے

نشور واحدی

قدم مے خانہ میں رکھنا بھی کار پختہ کاراں ہے

جو پیمانہ اٹھاتے ہیں وہ تھرایا نہیں کرتے

نشور واحدی

میں ابھی سے کس طرح ان کو بے وفا کہوں

منزلوں کی بات ہے راستے میں کیا کہوں

نشور واحدی

اک نظر کا فسانہ ہے دنیا

سو کہانی ہے اک کہانی سے

نشور واحدی

میری آنکھوں میں ہیں آنسو تیرے دامن میں بہار

گل بنا سکتا ہے تو شبنم بنا سکتا ہوں میں

نشور واحدی

ایک رشتہ بھی محبت کا اگر ٹوٹ گیا

دیکھتے دیکھتے شیرازہ بکھر جاتا ہے

نشور واحدی

زندگی پرچھائیاں اپنی لیے

آئنوں کے درمیاں سے آئی ہے

نشور واحدی

حقیقت جس جگہ ہوتی ہے تابانی بتاتی ہے

کوئی پردے میں ہوتا ہے تو چلمن جگمگاتی ہے

نشور واحدی

یہی کانٹے تو کچھ خوددار ہیں صحن گلستاں میں

کہ شبنم کے لیے دامن تو پھیلایا نہیں کرتے

نشور واحدی

زمانہ یاد کرے یا صبا کرے خاموش

ہم اک چراغ محبت جلائے جاتے ہیں

نشور واحدی

خاک اور خون سے اک شمع جلائی ہے نشورؔ

موت سے ہم نے بھی سیکھی ہے حیات آرائی

نشور واحدی

ہستی کا نظارہ کیا کہئے مرتا ہے کوئی جیتا ہے کوئی

جیسے کہ دوالی ہو کہ دیا جلتا جائے بجھتا جائے

نشور واحدی

ہم روایات کو پگھلا کے نشورؔ

اک نئے فن کے قریب آ پہنچے

نشور واحدی

ہے شام ابھی کیا ہے بہکی ہوئی باتیں ہیں

کچھ رات ڈھلے ساقی مے خانہ سنبھلتا ہے

نشور واحدی

وعدے اور اعتبار میں ہے ربط باہمی

اس ربط باہمی کا مگر اعتبار کیا

نشور واحدی

اغیار کو گل پیرہنی ہم نے عطا کی

اپنے لیے پھولوں کا کفن ہم نے بنایا

نشور واحدی

اسی کو زندگی کا ساز دے کے مطمئن ہوں میں

وہ حسن جس کو حسن بے ثبات کہتے آئے ہیں

نشور واحدی

نشورؔ آلودۂ عصیاں سہی پر کون باقی ہے

یہ باتیں راز کی ہیں قبلۂ عالم بھی پیتے ہیں

نشور واحدی