Firaq Gorakhpuri's Photo'

فراق گورکھپوری

1896 - 1982 | الہٰ آباد, ہندوستان

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

فراق گورکھپوری کی ٹاپ ٢٠ شاعری

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں

اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں

عشق توفیق ہے گناہ نہیں

تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو

تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں

اس شعر میں ایک نوع کی دلچسپ الجھن بھی ہے اور اس الجھن میں لذت بھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ شاعر کا محبوب اس سے بات بھی کرتا ہے اور اس کے پاس بھی بیٹھا ہے۔ یعنی وصل کی کیفیت ہے۔ مگر الجھن اس بات کی ہے کہ شاعر اپنے محبوب سے بات کرے کہ اس کو دیکھتا رہے۔ یعنی وہ بیک وقت تینوں باتوں کا لطف اٹھانا چاہتا ہے۔ وہ اپنے محبوب کے قربت بھی چاہتا ہے۔ اس کی باتیں سن کے حظ بھی اٹھانا چاہتا ہے اور جب یہ کہا کہ تم سے بات کریں تو ظاہر یہ ہوا کہ وہ اپنے محبوب سے اپنے دل کی بات بھی کہنا چاہتا ہے۔ مگر اسے اصلی حظ محبوب کو دیکھنے میں ملتا ہے۔

اس شعر میں ایک نوع کی دلچسپ الجھن بھی ہے اور اس الجھن میں لذت بھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ شاعر کا محبوب اس سے بات بھی کرتا ہے اور اس کے پاس بھی بیٹھا ہے۔ یعنی وصل کی کیفیت ہے۔ مگر الجھن اس بات کی ہے کہ شاعر اپنے محبوب سے بات کرے کہ اس کو دیکھتا رہے۔ یعنی وہ بیک وقت تینوں باتوں کا لطف اٹھانا چاہتا ہے۔ وہ اپنے محبوب کے قربت بھی چاہتا ہے۔ اس کی باتیں سن کے حظ بھی اٹھانا چاہتا ہے اور جب یہ کہا کہ تم سے بات کریں تو ظاہر یہ ہوا کہ وہ اپنے محبوب سے اپنے دل کی بات بھی کہنا چاہتا ہے۔ مگر اسے اصلی حظ محبوب کو دیکھنے میں ملتا ہے۔

ہم سے کیا ہو سکا محبت میں

خیر تم نے تو بے وفائی کی

غرض کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوست

وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ

جب پی چکے شراب تو سنجیدہ ہو گئے

اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیں

کتنی تنہا ہو گئیں تنہائیاں

ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوست

ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

رات بھی نیند بھی کہانی بھی

ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی

اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں

ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات

سنتے ہیں عشق نام کے گزرے ہیں اک بزرگ

ہم لوگ بھی فقیر اسی سلسلے کے ہیں

کون یہ لے رہا ہے انگڑائی

آسمانوں کو نیند آتی ہے

اسی کھنڈر میں کہیں کچھ دیے ہیں ٹوٹے ہوئے

انہیں سے کام چلاؤ بڑی اداس ہے رات

ضبط کیجے تو دل ہے انگارا

اور اگر روئیے تو پانی ہے

لائی نہ ایسوں ویسوں کو خاطر میں آج تک

اونچی ہے کس قدر تری نیچی نگاہ بھی

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں

جنوں کا نام اچھلتا رہا زمانے میں