Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جوانی پر اشعار

انسانی زندگی میں جو

دور سب سے زیادہ امنگوں ، آرزؤں ، تمناؤں اور رنگینیوں سے بھرا ہوتا ہے وہ جوانی ہی ہے ۔ جوانی کو موضوع بنانے والی شاعری جوانی کی ان رنگینیوں کو بھی قید کرتی ہے اور جوانی کے گزرنے اور اس کی یاد سے چھا جانے والے گہرے ملال کو بھی ۔

سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں

زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں

خواجہ میر درد

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

زمانے کی نگاہ میں اب حیا کی کوئی رمق باقی نہیں رہی۔

خدا کرے تمہاری جوانی داغ سے پاک اور صاف رہے۔

شعر میں شاعر زمانے کی گرتی ہوئی اخلاقی حالت پر افسوس کرتا ہے کہ لوگوں کی نظر میں حیا باقی نہیں رہی۔ ایسے ماحول میں وہ مخاطب کے لیے دعا کرتا ہے کہ اس کی جوانی بے داغ رہے اور برائی کے اثر سے بچی رہے۔ “آنکھ” معاشرتی شعور اور “داغ” کردار کی آلودگی کی علامت ہیں۔ جذبہ فکر مندی اور خیر خواہی کا ہے۔

علامہ اقبال

رات بھی نیند بھی کہانی بھی

ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی

جوانی میں رات بھی، نیند بھی اور کہانی جیسا خواب ناک احساس بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے۔

ہائے، جوانی بھی کیا عجیب اور دلکش چیز ہے۔

شاعر رات، نیند اور کہانی کو ایک ساتھ لا کر جوانی کی کیفیت کو خواب و خیال اور رومان سے بھرپور دکھاتا ہے۔ “ہائے” میں تحسین بھی ہے اور ہلکی سی کسک بھی، جیسے اس حسن کے ساتھ اس کی ناپائیداری کا احساس بھی جڑا ہو۔ مجموعی تاثر حیرت، سرشاری اور گزرتی عمر کی میٹھی تلخی کا ہے۔

فراق گورکھپوری

کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں

جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

عبد الحمید عدم

ادا آئی جفا آئی غرور آیا حجاب آیا

ہزاروں آفتیں لے کر حسینوں پر شباب آیا

نوح ناروی

کسی کا عہد جوانی میں پارسا ہونا

قسم خدا کی یہ توہین ہے جوانی کی

جوش ملیح آبادی

طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ

مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ

ساجد سجنی لکھنوی

ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا

بات پہنچی تری جوانی تک

فانی بدایونی

عذاب ہوتی ہیں اکثر شباب کی گھڑیاں

گلاب اپنی ہی خوشبو سے ڈرنے لگتے ہیں

بدر واسطی

سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا

میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر

ظفر اقبال

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ

حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

امیر مینائی

ہجر کو حوصلہ اور وصل کو فرصت درکار

اک محبت کے لیے ایک جوانی کم ہے

عباس تابش

اک ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئی

اف تری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی

تمہاری ایک مستانہ ادا سر سے پاؤں تک پھیلی ہوئی ہے۔

ہائے! تمہاری کافر جوانی پورے جوش میں آ گئی ہے۔

شاعر محبوب کی چال ڈھال اور انداز کی دلکشی پر حیران ہے جو پورے وجود پر چھائی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ “سر سے پاؤں تک” سے مراد مکمل حسن اور ہمہ گیر کشش ہے۔ “کافر جوانی” استعارہ ہے، یعنی ایسی جوانی جو عاشق کے ہوش و حواس اور ضبط کو لوٹ لے۔ جذبہ حیرت، چاہت اور بے بسی کا ہے۔

داغؔ دہلوی

بچ جائے جوانی میں جو دنیا کی ہوا سے

ہوتا ہے فرشتہ کوئی انساں نہیں ہوتا

ریاضؔ خیرآبادی

اف وہ طوفان شباب آہ وہ سینہ تیرا

جسے ہر سانس میں دب دب کے ابھرتا دیکھا

عندلیب شادانی

اب جو اک حسرت جوانی ہے

عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے

اب دل میں جو حسرت اٹھتی ہے، وہ جوانی کی خواہش ہے۔

یہ حسرت ہی اس بات کی علامت ہے کہ عمر کا اچھا حصّہ گزر چکا۔

میر تقی میر نے جوانی کی حسرت کو بڑھاپے کی دلیل بنا دیا ہے۔ جب جوانی ہاتھ سے نکل جائے تو اس کی کمی حسرت بن کر سامنے آتی ہے، اور یہی حسرت گزری ہوئی عمر کی نشانی ٹھہرتی ہے۔ شعر میں یادِ ماضی، افسوس اور وقت کے بےرحم گزرنے کا درد نہایت سادگی سے ابھرتا ہے۔

میر تقی میر

لوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہیئے

کہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں

اکبر الہ آبادی

جوانی کو بچا سکتے تو ہیں ہر داغ سے واعظ

مگر ایسی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

فانی بدایونی

وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا

جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا

بیخود دہلوی

تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک

قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا

حفیظ جالندھری

بلا ہے قہر ہے آفت ہے فتنہ ہے قیامت ہے

حسینوں کی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

عرش ملسیانی

جوانی کی دعا لڑکوں کو نا حق لوگ دیتے ہیں

یہی لڑکے مٹاتے ہیں جوانی کو جواں ہو کر

اکبر الہ آبادی

ہائے سیمابؔ اس کی مجبوری

جس نے کی ہو شباب میں توبہ

سیماب اکبرآبادی

گداز عشق نہیں کم جو میں جواں نہ رہا

وہی ہے آگ مگر آگ میں دھواں نہ رہا

جگر مراد آبادی

ہے جوانی خود جوانی کا سنگار

سادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے

امیر مینائی

وقت پیری شباب کی باتیں

ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں

بڑھاپے کے عالم میں جوانی کے دنوں کا ذکر کرنا،

بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی خواب کی باتیں کر رہا ہو۔

شاعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے تو اسے اپنی جوانی کا زمانہ ایک واہمہ سا لگتا ہے۔ جوانی کی رنگینیاں اور طاقت بڑھاپے کی کمزوری کے سامنے اتنی ناقابلِ یقین لگتی ہیں کہ انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ حقیقت نہیں بلکہ کوئی دیکھا ہوا خواب تھا۔

شیخ ابراہیم ذوقؔ

مزا ہے عہد جوانی میں سر پٹکنے کا

لہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہے

چکبست برج نرائن

پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے

اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے

منشی خوش وقت علی خورشید

سنبھالا ہوش تو مرنے لگے حسینوں پر

ہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے

سخن دہلوی

آئنہ دیکھ کے فرماتے ہیں

کس غضب کی ہے جوانی میری

امداد امام اثر

قیامت ہے تری اٹھتی جوانی

غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں

بیخود دہلوی

کیوں جوانی کی مجھے یاد آئی

میں نے اک خواب سا دیکھا کیا تھا

اسرار الحق مجاز

یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو

میری اور اپنی جوانی کو نہ برباد کرو

اختر شیرانی

اپنی اجڑی ہوئی دنیا کی کہانی ہوں میں

ایک بگڑی ہوئی تصویر جوانی ہوں میں

اختر انصاری

جھوٹ ہے سب تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے

اچھا میرا خواب جوانی تھوڑا سا دہرائے تو

عندلیب شادانی

تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے

جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا

تلوک چند محروم

یہ حسن دل فریب یہ عالم شباب کا

گویا چھلک رہا ہے پیالہ شراب کا

اثر صہبائی

اے ہم نفس نہ پوچھ جوانی کا ماجرا

موج نسیم تھی ادھر آئی ادھر گئی

تلوک چند محروم

جواں ہوتے ہی لے اڑا حسن تم کو

پری ہو گئے تم تو انسان ہو کر

جلیل مانک پوری

شباب نام ہے اس جاں نواز لمحے کا

جب آدمی کو یہ محسوس ہو جواں ہوں میں

اختر انصاری

ترا شباب رہے ہم رہیں شراب رہے

یہ دور عیش کا تا دور آفتاب رہے

جلیل مانک پوری

نوجوانی میں پارسا ہونا

کیسا کار زبون ہے پیارے

عبد الحمید عدم

مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے

عمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے

فانی بدایونی

کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا

کچھ بھی نہ تھا ہوا تھی کہانی تھی خواب تھا

لالہ مادھو رام جوہر

کس طرح جوانی میں چلوں راہ پہ ناصح

یہ عمر ہی ایسی ہے سجھائی نہیں دیتا

آغا شاعر قزلباش

جلالؔ عہد جوانی ہے دو گے دل سو بار

ابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابل

جلالؔ لکھنوی

توبہ توبہ یہ بلا خیز جوانی توبہ

دیکھ کر اس بت کافر کو خدا یاد آیا

عرش ملسیانی

وہ عہد جوانی وہ خرابات کا عالم

نغمات میں ڈوبی ہوئی برسات کا عالم

عبد الحمید عدم

خاموش ہو گئیں جو امنگیں شباب کی

پھر جرأت گناہ نہ کی ہم بھی چپ رہے

حفیظ جالندھری

تیرے شباب نے کیا مجھ کو جنوں سے آشنا

میرے جنوں نے بھر دیے رنگ تری شباب میں

اثر صہبائی
بولیے