جوانی پر اشعار

انسانی زندگی میں جو دور سب سے زیادہ امنگوں ، آرزؤں ، تمناؤں اور رنگینیوں سے بھرا ہوتا ہے وہ جوانی ہی ہے ۔ جوانی کو موضوع بنانے والی شاعری جوانی کی ان رنگینیوں کو بھی قید کرتی ہے اور جوانی کے گزرنے اور اس کی یاد سے چھا جانے والے گہرے ملال کو بھی ۔

سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں

زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں

خواجہ میر درد

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی

خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

علامہ اقبال

ادا آئی جفا آئی غرور آیا حجاب آیا

ہزاروں آفتیں لے کر حسینوں پر شباب آیا

نوح ناروی

کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں

جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

tis said this fleeting life once gone never returns

go to the tavern and bring back my youth again

tis said this fleeting life once gone never returns

go to the tavern and bring back my youth again

عبد الحمید عدم

رات بھی نیند بھی کہانی بھی

ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی

فراق گورکھپوری

ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا

بات پہنچی تری جوانی تک

فانی بدایونی

اب جو اک حسرت جوانی ہے

عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے

میر تقی میر

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ

حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

as she came of age she started to be veiled from me

shyness came to her at once, beauty then slowly

as she came of age she started to be veiled from me

shyness came to her at once, beauty then slowly

امیر مینائی

لوگ کہتے ہیں کہ بد نامی سے بچنا چاہیئے

کہہ دو بے اس کے جوانی کا مزا ملتا نہیں

اکبر الہ آبادی

اک ادا مستانہ سر سے پاؤں تک چھائی ہوئی

اف تری کافر جوانی جوش پر آئی ہوئی

داغؔ دہلوی

جوانی کی دعا لڑکوں کو نا حق لوگ دیتے ہیں

یہی لڑکے مٹاتے ہیں جوانی کو جواں ہو کر

اکبر الہ آبادی

طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ

مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ

ساجد سجنی

گداز عشق نہیں کم جو میں جواں نہ رہا

وہی ہے آگ مگر آگ میں دھواں نہ رہا

no longer am I young, love's passion still remains

the fire as yet burns, no smoke tho it contains

no longer am I young, love's passion still remains

the fire as yet burns, no smoke tho it contains

جگر مراد آبادی

وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا

جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا

بیخود دہلوی

بچ جائے جوانی میں جو دنیا کی ہوا سے

ہوتا ہے فرشتہ کوئی انساں نہیں ہوتا

ریاضؔ خیرآبادی

سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا

میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر

ظفر اقبال

جوانی کو بچا سکتے تو ہیں ہر داغ سے واعظ

مگر ایسی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

فانی بدایونی

ہجر کو حوصلہ اور وصل کو فرصت درکار

اک محبت کے لیے ایک جوانی کم ہے

عباس تابش

یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو

میری اور اپنی جوانی کو نہ برباد کرو

اختر شیرانی

آئنہ دیکھ کے فرماتے ہیں

کس غضب کی ہے جوانی میری

امداد امام اثرؔ

ہے جوانی خود جوانی کا سنگار

سادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے

youthfullness is itself an ornament forsooth

innocence is the only jewel needed in ones youth

youthfullness is itself an ornament forsooth

innocence is the only jewel needed in ones youth

امیر مینائی

کیوں جوانی کی مجھے یاد آئی

میں نے اک خواب سا دیکھا کیا تھا

اسرار الحق مجاز

ہائے سیمابؔ اس کی مجبوری

جس نے کی ہو شباب میں توبہ

سیماب اکبرآبادی

وقت پیری شباب کی باتیں

ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں

in old age talk of youth now seems

to be just like the stuff of dreams

in old age talk of youth now seems

to be just like the stuff of dreams

شیخ ابراہیم ذوقؔ

تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے

جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا

تلوک چند محروم

سنبھالا ہوش تو مرنے لگے حسینوں پر

ہمیں تو موت ہی آئی شباب کے بدلے

سخن دہلوی

بلا ہے قہر ہے آفت ہے فتنہ ہے قیامت ہے

حسینوں کی جوانی کو جوانی کون کہتا ہے

عرش ملسیانی

شرکت گناہ میں بھی رہے کچھ ثواب کی

توبہ کے ساتھ توڑیئے بوتل شراب کی

ظہیرؔ دہلوی

اف وہ طوفان شباب آہ وہ سینہ تیرا

جسے ہر سانس میں دب دب کے ابھرتا دیکھا

عندلیب شادانی

قیامت ہے تری اٹھتی جوانی

غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں

بیخود دہلوی

کسی کا عہد جوانی میں پارسا ہونا

قسم خدا کی یہ توہین ہے جوانی کی

جوشؔ ملیح آبادی

پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے

اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے

منشی خوش وقت علی خورشید

تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تک

قیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا

حفیظ جالندھری

اپنی اجڑی ہوئی دنیا کی کہانی ہوں میں

ایک بگڑی ہوئی تصویر جوانی ہوں میں

اختر انصاری

شباب نام ہے اس جاں نواز لمحے کا

جب آدمی کو یہ محسوس ہو جواں ہوں میں

اختر انصاری

ترا شباب رہے ہم رہیں شراب رہے

یہ دور عیش کا تا دور آفتاب رہے

جلیل مانک پوری

مزا ہے عہد جوانی میں سر پٹکنے کا

لہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہے

چکبست برج نرائن

وہ عہد جوانی وہ خرابات کا عالم

نغمات میں ڈوبی ہوئی برسات کا عالم

عبد الحمید عدم

جواں ہوتے ہی لے اڑا حسن تم کو

پری ہو گئے تم تو انسان ہو کر

جلیل مانک پوری

نوجوانی میں پارسا ہونا

کیسا کار زبون ہے پیارے

عبد الحمید عدم

یہ حسن دل فریب یہ عالم شباب کا

گویا چھلک رہا ہے پیالہ شراب کا

اثر صہبائی

خاموش ہو گئیں جو امنگیں شباب کی

پھر جرأت گناہ نہ کی ہم بھی چپ رہے

حفیظ جالندھری

جلالؔ عہد جوانی ہے دو گے دل سو بار

ابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابل

جلالؔ لکھنوی

عجیب حال تھا عہد شباب میں دل کا

مجھے گناہ بھی کار ثواب لگتا تھا

strange was the condition of my heart in youth

when even sinful deeds seemed piety forsooth

strange was the condition of my heart in youth

when even sinful deeds seemed piety forsooth

ہیرا نند سوزؔ

اے ہم نفس نہ پوچھ جوانی کا ماجرا

موج نسیم تھی ادھر آئی ادھر گئی

تلوک چند محروم

مجھ تک اس محفل میں پھر جام شراب آنے کو ہے

عمر رفتہ پلٹی آتی ہے شباب آنے کو ہے

فانی بدایونی

جھوٹ ہے سب تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے

اچھا میرا خواب جوانی تھوڑا سا دہرائے تو

that history doth repeat itself has no shred of truth

if it does so let it then return to me my youth

that history doth repeat itself has no shred of truth

if it does so let it then return to me my youth

عندلیب شادانی

جوانی سے زیادہ وقت پیری جوش ہوتا ہے

بھڑکتا ہے چراغ صبح جب خاموش ہوتا ہے

passion runneth stronger in dotage than in youth

the flame flickers burning brighter ere it dies forsooth

passion runneth stronger in dotage than in youth

the flame flickers burning brighter ere it dies forsooth

شاد لکھنوی

کس طرح جوانی میں چلوں راہ پہ ناصح

یہ عمر ہی ایسی ہے سجھائی نہیں دیتا

آغا شاعر قزلباش

کیا یاد کر کے روؤں کہ کیسا شباب تھا

کچھ بھی نہ تھا ہوا تھی کہانی تھی خواب تھا

لالہ مادھو رام جوہر