امیر مینائی

  • 1829-1900

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب


وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکن


مرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہے

ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لو


نہ چھوڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لو

باغباں کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی


بھیجنی ہیں ایک کم سن کے لیے

باقی نہ دل میں کوئی بھی یا رب ہوس رہے


چودہ برس کے سن میں وہ لاکھوں برس رہے

فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا


کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا

گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ


قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا

ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری


کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ


حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں


شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ


سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

مانی ہیں میں نے سیکڑوں باتیں تمام عمر


آج آپ ایک بات میری مان جائیے

پتلیاں تک بھی تو پھر جاتی ہیں دیکھو دم نزع


وقت پڑتا ہے تو سب آنکھ چرا جاتے ہیں

شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو


کبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ

شب وصال بہت کم ہے آسماں سے کہو


کہ جوڑ دے کوئی ٹکڑا شب جدائی کا

تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر


سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر

تیر پر تیر لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے


سینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے

تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے


سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

وصل ہو جائے یہیں حشر میں کیا رکھا ہے


آج کی بات کو کیوں کل پہ اٹھا رکھا ہے

وصل کا دن اور اتنا مختصر


دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

comments powered by Disqus