Anwar Shuoor's Photo'

انور شعور

1943 - | کراچی, پاکستان

پاکستان کے ممتاز ترین شاعروں میں سے ایک، ایک اخبار میں روزانہ حالات حاضرہ پر ایک قطعہ لکھتے ہیں

پاکستان کے ممتاز ترین شاعروں میں سے ایک، ایک اخبار میں روزانہ حالات حاضرہ پر ایک قطعہ لکھتے ہیں

آدمی بن کے مرا آدمیوں میں رہنا

ایک الگ وضع ہے درویشی و سلطانی سے

آدمی کے لیے رونا ہے بڑی بات شعورؔ

ہنس تو سکتے ہیں سب انسان ہنسی میں کیا ہے

اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں

اب میں اکثر میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں

اچھوں کو تو سب ہی چاہتے ہیں

ہے کوئی کہ میں بہت برا ہوں

بہروپ نہیں بھرا ہے میں نے

جیسا بھی ہوں سامنے کھڑا ہوں

بہت ارادہ کیا کوئی کام کرنے کا

مگر عمل نہ ہوا الجھنیں ہی ایسی تھیں

برا برے کے علاوہ بھلا بھی ہوتا ہے

ہر آدمی میں کوئی دوسرا بھی ہوتا ہے

چلے آیا کرو میری طرف بھی!

محبت کرنے والا آدمی ہوں

دوست کہتا ہوں تمہیں شاعر نہیں کہتا شعورؔ

دوستی اپنی جگہ ہے شاعری اپنی جگہ

فرشتوں سے بھی اچھا میں برا ہونے سے پہلے تھا

وہ مجھ سے انتہائی خوش خفا ہونے سے پہلے تھا

گو کٹھن ہے طے کرنا عمر کا سفر تنہا

لوٹ کر نہ دیکھوں گا چل پڑا اگر تنہا

گو مجھے احساس تنہائی رہا شدت کے ساتھ

کاٹ دی آدھی صدی ایک اجنبی عورت کے ساتھ

ہیں پتھروں کی زد پہ تمہاری گلی میں ہم

کیا آئے تھے یہاں اسی برسات کے لیے

ہم بلاتے وہ تشریف لاتے رہے

خواب میں یہ کرامات ہوتی رہی

ہمیشہ ہات میں رہتے ہیں پھول ان کے لیے

کسی کو بھیج کے منگوانے تھوڑی ہوتے ہیں

ہمیشہ ہاتھوں میں ہوتے ہیں پھول ان کے لئے

کسی کو بھیج کے منگوانے تھوڑی ہوتے ہیں

ہو گئے دن جنہیں بھلائے ہوئے

آج کل ہیں وہ یاد آئے ہوئے

اس تعلق میں نہیں ممکن طلاق

یہ محبت ہے کوئی شادی نہیں

عشق تو ہر شخص کرتا ہے شعورؔ

تم نے اپنا حال یہ کیا کر لیا

اتفاق اپنی جگہ خوش قسمتی اپنی جگہ

خود بناتا ہے جہاں میں آدمی اپنی جگہ

جناب کے رخ روشن کی دید ہو جاتی

تو ہم سیاہ نصیبوں کی عید ہو جاتی

کڑا ہے دن بڑی ہے رات جب سے تم نہیں آئے

دگرگوں ہیں مرے حالات جب سے تم نہیں آئے

کافی نہیں خطوط کسی بات کے لئے

تشریف لائیے گا ملاقات کے لئے

کبھی روتا تھا اس کو یاد کر کے

اب اکثر بے سبب رونے لگا ہوں

کہہ تو سکتا ہوں مگر مجبور کر سکتا نہیں

اختیار اپنی جگہ ہے بے بسی اپنی جگہ

کہاں ہے شیخ کو سدھ بدھ مزید پینے کی

نشہ اتار گئے تین چار جام اس کا

کس قدر بد نامیاں ہیں میرے ساتھ

کیا بتاؤں کس قدر تنہا ہوں میں

کسی غریب کو زخمی کریں کہ قتل کریں

نگاہ ناز پہ جرمانے تھوڑی ہوتے ہیں

کیا بادلوں میں سفر زندگی بھر

زمیں پر بنایا نہ گھر زندگی بھر

کوئی زنجیر نہیں تار نظر سے مضبوط

ہم نے اس چاند پہ ڈالی ہے کمند آنکھوں سے

لگی رہتی ہے اشکوں کی جھڑی گرمی ہو سردی ہو

نہیں رکتی کبھی برسات جب سے تم نہیں آئے

لوگ صدموں سے مر نہیں جاتے

سامنے کی مثال ہے میری

مرنے والا خود روٹھا تھا

یا ناراض حیات ہوئی تھی

میرے گھر کے تمام دروازے

تم سے کرتے ہیں پیار آ جاؤ

مری حیات ہے بس رات کے اندھیرے تک

مجھے ہوا سے بچائے رکھو سویرے تک

محبت رہی چار دن زندگی میں

رہا چار دن کا اثر زندگی بھر

مسکرا کر دیکھ لیتے ہو مجھے

اس طرح کیا حق ادا ہو جائے گا

مسکرائے بغیر بھی وہ ہونٹ

نظر آتے ہیں مسکرائے ہوئے

نظام زر میں کسی اور کام کا کیا ہو

بس آدمی ہے کمانے کا اور کھانے کا

رہے تذکرے امن کے آشتی کے

مگر بستیوں پر برستے رہے بم

سامنے آ کر وہ کیا رہنے لگا

گھر کا دروازہ کھلا رہنے لگا

سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں

نہ آیا ہمیں یہ ہنر زندگی بھر

سچ ہے عمر بھر کس کا کون ساتھ دیتا ہے

غم بھی ہو گیا رخصت دل کو چھوڑ کر تنہا

شعورؔ خود کو ذہین آدمی سمجھتے ہیں

یہ سادگی ہے تو واللہ انتہا کی ہے

شعورؔ صرف ارادے سے کچھ نہیں ہوتا

عمل ہے شرط ارادے سبھی کے ہوتے ہیں

شعورؔ تم نے خدا جانے کیا کیا ہوگا

ذرا سی بات کے افسانے تھوڑی ہوتے ہیں

صرف اس کے ہونٹ کاغذ پر بنا دیتا ہوں میں

خود بنا لیتی ہے ہونٹوں پر ہنسی اپنی جگہ

تیری آس پہ جیتا تھا میں وہ بھی ختم ہوئی

اب دنیا میں کون ہے میرا کوئی نہیں میرا

تھا وعدہ شام کا مگر آئے وہ رات کو

میں بھی کواڑ کھولنے فوراً نہیں گیا

ٹھہر سکتی ہے کہاں اس رخ تاباں پہ نظر

دیکھ سکتا ہے اسے آدمی بند آنکھوں سے

Added to your favorites

Removed from your favorites