الوداع پر ۲۰ بہترین اشعار


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا


جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

اب کے جاتے ہوئے اس طرح کیا اس نے سلام


ڈوبنے والا کوئی ہاتھ اٹھائے جیسے

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ


پھر ملیں گے اگر خدا لایا

عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل


کہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا گھر نہ تھا کوئی

چھوڑنے میں نہیں جاتا اسے دروازے تک


لوٹ آتا ہوں کہ اب کون اسے جاتا دیکھے

دکھ کے سفر پہ دل کو روانہ تو کر دیا


اب ساری عمر ہاتھ ہلاتے رہیں گے ہم

ایک دن کہنا ہی تھا اک دوسرے کو الوداع


آخرش سالمؔ جدا اک بار تو ہونا ہی تھا

گھر میں رہا تھا کون کہ رخصت کرے ہمیں


چوکھٹ کو الوداع کہا اور چل پڑے

گونجتے رہتے ہیں الفاظ مرے کانوں میں


تو تو آرام سے کہہ دیتا ہے اللہ حافظ

جانے والے کو کہاں روک سکا ہے کوئی


تم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں

جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے


جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا

کلیجہ رہ گیا اس وقت پھٹ کر


کہا جب الوداع اس نے پلٹ کر

میں جانتا ہوں مرے بعد خوب روئے گا


روانہ کر تو رہا ہے وہ ہنستے ہنستے مجھے

تم اسی موڑ پر ہمیں ملنا


لوٹ کر ہم ضرور آئیں گے

تم سنو یا نہ سنو ہاتھ بڑھاؤ نہ بڑھاؤ


ڈوبتے ڈوبتے اک بار پکاریں گے تمہیں

اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا


سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا

اس سے ملنے کی خوشی بعد میں دکھ دیتی ہے


جشن کے بعد کا سناٹا بہت کھلتا ہے

وہ الوداع کا منظر وہ بھیگتی پلکیں


پس غبار بھی کیا کیا دکھائی دیتا ہے

یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے


تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل

یہ ایک پیڑ ہے آ اس سے مل کے رو لیں ہم


یہاں سے تیرے مرے راستے بدلتے ہیں


کسی کو رخصت کرتے ہوئے ہم جن کیفیتوں سے گزرتے ہیں انہیں محسوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن ان کا اظہار اور انہیں زبان دینا ایک مشکل امر ہے، صرف ایک تخلیقی اظہار ہی ان کیفیتوں کی لفظی تجسیم کا متحمل ہوسکتا ہے ۔ ’’الوداع‘‘ کے لفظ کے تحت ہم نے جو اشعار جمع کئے ہیں وہ الوداعی کیفیات کے انہیں نامعلوم علاقوں کی سیر ہیں۔ آپ وداعی جذبات کو ان کے ذریعے بیان کر سکتے ہیں۔

comments powered by Disqus