ندا فاضلی

  • 1938-2016
  • ممبئی

ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل، مقبول عام شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار اور نثر نگار، اپنی غزل ’کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا۔۔۔۔‘ کے لئے مشہور

ممتاز ترین جدید شاعروں میں شامل، مقبول عام شاعر۔ ممتاز فلم نغمہ نگار اور نثر نگار، اپنی غزل ’کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا۔۔۔۔‘ کے لئے مشہور

info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

اب خوشی ہے نہ کوئی درد رلانے والا


ہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا

اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں


رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں

بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو


چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو


زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے


مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے

دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ


دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے

ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک


جس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا

گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں


کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی


جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا


بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا


کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا

کوشش بھی کر امید بھی رکھ راستہ بھی چن


پھر اس کے بعد تھوڑا مقدر تلاش کر

کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی


آؤ کہیں شراب پئیں رات ہو گئی

کچھ لوگ یوں ہی شہر میں ہم سے بھی خفا ہیں


ہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی

کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئی


جس کو چاہا اسے اپنا نہ سکے جو ملا اس سے محبت نہ ہوئی

نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیئے


اس شہر میں تو سب سے ملاقات ہو گئی

سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں


کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا

تم سے چھٹ کر بھی تمہیں بھولنا آسان نہ تھا


تم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لئے

اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا


وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا

یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا


مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو

comments powered by Disqus