جستجو پر شاعری

جستجوکوموضوع بنانےوالی شاعری بہت دلچسپ ہے۔ اس میں جستجو،اس کی متنوع صورتیں اورجستجومیں لگے ہوئے شخص کی کیفیتیں بھی ہیں اوراس کےنتیجےمیں حاصل ہونے والے تجربات بھی۔ یہ جستجوعشق کی بھی ہے اورمعشوق کی بھی خدا کی بھی ہے اورخود اپنی ذات کی بھی۔ اس شاعری کا وہ لمحہ سب سے زیادہ دلچسپ ہے جہاں صرف جستجو ہی بذات خود جستجوکا حاصل رہ جاتی ہے اس میں نہ کسی منزل کی تلاش ہوتی ہے نہ ہی کسی ہدف کا پیچھا ۔

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی

نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

فیض احمد فیض

اے شخص میں تیری جستجو سے

بے زار نہیں ہوں تھک گیا ہوں

جون ایلیا

سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں

کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا

ندا فاضلی

تری آرزو تری جستجو میں بھٹک رہا تھا گلی گلی

مری داستاں تری زلف ہے جو بکھر بکھر کے سنور گئی

بشیر بدر

جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے

اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے

شہریار

تیرے بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی

خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے

احمد فراز

پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو

جستجو آج بھی اسی کی ہے

حبیب جالب

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں

الطاف حسین حالی

جستجو کرنی ہر اک امر میں نادانی ہے

جو کہ پیشانی پہ لکھی ہے وہ پیش آنی ہے

امام بخش ناسخ

کھویا ہے کچھ ضرور جو اس کی تلاش میں

ہر چیز کو ادھر سے ادھر کر رہے ہیں ہم

احمد مشتاق

جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہے

چاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہے

پروین شاکر

تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے

جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا

تلوک چند محروم

ورنہ انسان مر گیا ہوتا

کوئی بے نام جستجو ہے ابھی

ادا جعفری

ہم کہ مایوس نہیں ہیں انہیں پا ہی لیں گے

لوگ کہتے ہیں کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے

عرش صدیقی

تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزری

تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے

ابو المجاہد زاہد

جسے تم ڈھونڈتی رہتی ہو مجھ میں

وہ لڑکا جانے کب کا مر چکا ہے

تری پراری

تری تلاش میں نکلے تو اتنی دور گئے

کہ ہم سے طے نہ ہوئے فاصلے جدائی کے

جنید حزیں لاری

تمہاری آرزو میں میں نے اپنی آرزو کی تھی

خود اپنی جستجو کا آپ حاصل ہو گیا ہوں میں

شہزاد احمد

نشان منزل جاناں ملے ملے نہ ملے

مزے کی چیز ہے یہ ذوق جستجو میرا

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

یہ خود فریبئ احساس آرزو تو نہیں

تری تلاش کہیں اپنی جستجو تو نہیں

امید فاضلی

جس حسن کی ہے چشم تمنا کو جستجو

وہ آفتاب میں ہے نہ ہے ماہتاب میں

اثر صہبائی

مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ

کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے

حیدر علی آتش

مجھ کو شوق جستجوئے کائنات

خاک سے عادلؔ خلا تک لے گیا

محفوظ الرحمان عادل

محبت ایک طرح کی نری سماجت ہے

میں چھوڑوں ہوں تری اب جستجو ہوا سو ہوا

حسرتؔ عظیم آبادی

در بہ در مارا پھرا میں جستجوئے یار میں

زاہد کعبہ ہوا رہبان بت خانہ ہوا

حاتم علی مہر