آنسو پر20 منتخب اشعار
آنسوؤں کا یہ شعری
بیانیہ بہت متنوع ،وسیع اور رنگا رنگ ہے ۔ آنسو صرف آنکھ سے بہنے والا پانی ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے کبھی دکھ اور کبھی خوشی کی جو زبردست کیفیت ہے وہ بظاہر پانی کے ان قطروں کو انتہائی مقدس بنا دیتی ہے ۔ شاعری میں آنسو کا سیاق اپنی اکثر صورتوں میں عشق اور اس میں بھوگے جانے والے دکھ سےوا بستہ ہے ۔ عاشق کس طور پر آنسوؤں کو ضبط کرتا ہے اور کس طرح بالآخر یہ آنسو بہہ کر اس کو رسوا کرتے ہیں یہ ایک دلچسپ کہانی ہے ۔
ٹاپ ٢٠ سیریز
- 20 منتخب ترغیبی اشعار
- اخبارپر 20 منتخب اشعار
- ادا پر منتخب اشعار
- اداسی شاعری
- آدمی/انسان شاعری
- استقبال شاعری
- الوداعیہ شاعری
- انتظار شاعری
- آنسو پر20 منتخب اشعار
- آنکھ پر 20 منتخب اشعار
- انگڑائ پر 20 منتخب اشعار
- آئینہ پر 20 منتخب اشعار
- بارش پر 20 منتخب اشعار
- بوسے پر 20 منتخب اشعار
- پھول شاعری
- تصویر پر 20 منتخب اشعار
- تنہائی کے موضوع پر اشعار
- ٹوٹے ہوئے دلوں کے لئے 20منتخب اشعار
- جدائی پر 20 منتخب اشعار
- چاند پر 20 منتخب اشعار
- حسن شاعری
- خاموشی پر شاعری
- درد شاعری
- دعا پر 20 منتخب اشعار
- دل شاعری
- دنیا شاعری
- دھوکہ پر شاعری
- دوست/دوستی شاعری
- دیدار پر شاعری
- ریل گاڑی پر 20منتخب اشعار
- زلف شاعری
- زندگی شاعری
- سب سے زیادہ مقتبس 20منتخب اشعار
- سفر شاعری
- شراب شاعری
- عشق پر 20 منتخب اشعار
- کتاب شاعری
- لب پر شاعری
- مسکراہٹ شاعری
- ملاقات شاعری
- موت شاعری
- نشور واحدی کے 20 منتخب اشعار
- نئے سال پر منتخب شعر
- وصال شاعری
- وفا شاعری
- وقت شاعری
- یاد شاعری
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کا ماننا ہے کہ عشق اور غم کی شدت کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ اگر انسان کا درد اتنا شدید نہیں کہ وہ خون کے آنسو روئے، تو رگوں میں بہنے والا لہو بے معنی ہے۔ غالب یہاں محض زندہ رہنے کو زندگی نہیں مانتے بلکہ درد کی انتہا کو زندگی کا جوہر سمجھتے ہیں۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کا ماننا ہے کہ عشق اور غم کی شدت کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ اگر انسان کا درد اتنا شدید نہیں کہ وہ خون کے آنسو روئے، تو رگوں میں بہنے والا لہو بے معنی ہے۔ غالب یہاں محض زندہ رہنے کو زندگی نہیں مانتے بلکہ درد کی انتہا کو زندگی کا جوہر سمجھتے ہیں۔
وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
-
موضوعات: آنسواور 1 مزید
ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں
بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی محفل میں ضبط کا یارا نہ رہا اور آنکھ سے ٹپکنے والے ایک آنسو نے مجھے سب کے سامنے شرمسار کر دیا۔ یہاں 'پانی' کی رعایت سے خوبصورت مضمون باندھا گیا ہے کہ آنسو (پانی) کی ایک بوند نے عزت کو بھی پانی (ضائع) کر دیا اور شاعر ندامت سے پانی پانی ہو گیا۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ محبوب کی محفل میں ضبط کا یارا نہ رہا اور آنکھ سے ٹپکنے والے ایک آنسو نے مجھے سب کے سامنے شرمسار کر دیا۔ یہاں 'پانی' کی رعایت سے خوبصورت مضمون باندھا گیا ہے کہ آنسو (پانی) کی ایک بوند نے عزت کو بھی پانی (ضائع) کر دیا اور شاعر ندامت سے پانی پانی ہو گیا۔
جو آگ لگائی تھی تم نے اس کو تو بجھایا اشکوں نے
جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے
-
موضوع: آنسو
پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات
یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات
-
موضوعات: آنسواور 1 مزید
تھمے آنسو تو پھر تم شوق سے گھر کو چلے جانا
کہاں جاتے ہو اس طوفان میں پانی ذرا ٹھہرے