آنسو پر20 بہترین شاعری


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا


ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر

آنکھوں تک آ سکی نہ کبھی آنسوؤں کی لہر


یہ قافلہ بھی نقل مکانی میں کھو گیا

آنسو ہمارے گر گئے ان کی نگاہ سے


ان موتیوں کی اب کوئی قیمت نہیں رہی

اشک غم دیدۂ پر نم سے سنبھالے نہ گئے


یہ وہ بچے ہیں جو ماں باپ سے پالے نہ گئے

ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں


بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی

گھاس میں جذب ہوئے ہوں گے زمیں کے آنسو


پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے

ہوتی ہے شام آنکھ سے آنسو رواں ہوئے


یہ وقت قیدیوں کی رہائی کا وقت ہے

اتنے آنسو تو نہ تھے دیدۂ تر کے آگے


اب تو پانی ہی بھرا رہتا ہے گھر کے آگے

جو آگ لگائی تھی تم نے اس کو تو بجھایا اشکوں نے


جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے

کیا کہوں دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے


سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے

کیا کہوں کس طرح سے جیتا ہوں


غم کو کھاتا ہوں آنسو پیتا ہوں

مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو


مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات


یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل


جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

روز اچھے نہیں لگتے آنسو


خاص موقعوں پہ مزا دیتے ہیں

تھمے آنسو تو پھر تم شوق سے گھر کو چلے جانا


کہاں جاتے ہو اس طوفان میں پانی ذرا ٹھہرے

ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہ


میں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھا

اس نے چھو کر مجھے پتھر سے پھر انسان کیا


مدتوں بعد مری آنکھوں میں آنسو آئے

وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے


عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے


مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے


آنسوؤں کا یہ شعری بیانیہ بہت متنوع ،وسیع اور رنگا رنگ ہے ۔ آنسو صرف آنکھ سے بہنے والا پانی ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے کبھی دکھ اور کبھی خوشی کی جو زبردست کیفیت ہے وہ بظاہر پانی کے ان قطروں کو انتہائی مقدس بنا دیتی ہے ۔ شاعری میں آنسو کا سیاق اپنی اکثر صورتوں میں عشق اور اس میں بھوگے جانے والے دکھ سےوا بستہ ہے ۔ عاشق کس طور پر آنسوؤں کو ضبط کرتا ہے اور کس طرح بالآخر یہ آنسو بہہ کر اس کو رسوا کرتے ہیں یہ ایک دلچسپ کہانی ہے ۔

comments powered by Disqus