عشق پر 20 مشہور شعر

عشق شروع سے ہی اردو

شاعری کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ریختہ نے اس موضوع پر20 بہترین اشعار کا انتخاب کیا ہے۔انتخاب شعر کی مقبولیت اور معیار پر مبنی ہے۔ہمیں تسلیم ہے کہ اس انتخاب میں کئی بہترین اشعار شامل ہونے سے رہ گئے ہونگے ۔ کسی بہتر شعر کی تجویز کمنٹ سکشن کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ مناسب شعر کو 20 بہترین اشعار کی فہرست میں شامل کیا جا سکتاہے۔ ریختہ اس فہرست کی مزید بہتری میں آپ کے گراں قدرمشورے کا متمنی ہے۔

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

مرزا غالب

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

علامہ اقبال

عشق نازک مزاج ہے بے حد

عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

اکبر الہ آبادی

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

میر تقی میر

کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں

عشق توفیق ہے گناہ نہیں

فراق گورکھپوری

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

مرزا غالب

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا

اس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے

میر طاہر علی رضوی

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

میر تقی میر

عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

میر تقی میر

عشق جب تک نہ کر چکے رسوا

آدمی کام کا نہیں ہوتا

جگر مراد آبادی

عشق ہے عشق یہ مذاق نہیں

چند لمحوں میں فیصلہ نہ کرو

سدرشن فاکر

کچھ کھیل نہیں ہے عشق کرنا

یہ زندگی بھر کا رت جگا ہے

احمد ندیم قاسمی

جذبۂ عشق سلامت ہے تو انشا اللہ

کچے دھاگے سے چلے آئیں گے سرکار بندھے

انشا اللہ خاں انشا

جسے عشق کا تیر کاری لگے

اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

ولی محمد ولی

سخت کافر تھاجن نے پہلے میرؔ

مذہب عشق اختیار کیا

میر تقی میر

عشق میں بھی کوئی انجام ہوا کرتا ہے

عشق میں یاد ہے آغاز ہی آغاز مجھے

ضیا جالندھری

کوچۂ عشق میں نکل آیا

جس کو خانہ خراب ہونا تھا

جگر مراد آبادی