موت پر ۲۰ بہترین اشعار


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی


اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

چھوڑ کے مال و دولت ساری دنیا میں اپنی


خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

گھسیٹتے ہوئے خود کو پھرو گے زیبؔ کہاں


چلو کہ خاک کو دے آئیں یہ بدن اس کا

جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں


خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے

کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی


کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

کیسے آ سکتی ہے ایسی دل نشیں دنیا کو موت


کون کہتا ہے کہ یہ سب کچھ فنا ہو جائے گا

کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیں


زندگی تو نے تو دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا


میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں


اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی


موت آتی ہے پر نہیں آتی

موت کا بھی علاج ہو شاید


زندگی کا کوئی علاج نہیں

موت سے کس کو رستگاری ہے


آج وہ کل ہماری باری ہے

مری نماز جنازہ پڑھی ہے غیروں نے


مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے

مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے


مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں


موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں

رات خواب میں میں نے اپنی موت دیکھی تھی


اتنے رونے والوں میں تم نظر نہیں آئے

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا


ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

زندگی ہے اپنے قبضے میں نہ اپنے بس میں موت


آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے

زندگی اک حادثہ ہے اور کیسا حادثہ


موت سے بھی ختم جس کا سلسلہ ہوتا نہیں

زندگی اک سوال ہے جس کا جواب موت ہے


موت بھی اک سوال ہے جس کا جواب کچھ نہیں


موت ایک ایسا معمہ ہے جو نہ سمجھنے کا ہے اور نہ سمجھانے کا۔ شاعروں اور تخلیق کاروں نے موت اور اس کے ارد گرد پھیلے ہوئے غبار میں سب سے زیادہ ہاتھ پیر مارے ہیں لیکن حاصل ایک بےاننت اداسی اور مایوسی ہے ۔ یہاں ہم موت پر اردو شاعری سے کچھ بہترین اشعار پیش کر رہے ہیں۔

comments powered by Disqus