خفگی پر شاعری

خفا ہونا اور ایک دوسرے سے ناراض ہونا زندگی میں ایک عام سا عمل ہے لیکن شاعری میں خفگی کی جتنی صورتیں ہیں وہ عاشق اور معشوق کے درمیان کی ہیں ۔ شاعری میں خفا ہونے ، ناراض ہونے اور پھر راضی ہوجانے کا جو ایک دلچسپ کھیل ہے اس کی چند تصویریں ہم اس انتخاب میں آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم

تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

احمد فراز

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے

تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے

جاں نثاراختر

یا وہ تھے خفا ہم سے یا ہم ہیں خفا ان سے

کل ان کا زمانہ تھا آج اپنا زمانا ہے

جگر مراد آبادی

مجھ سے بگڑ گئے تو رقیبوں کی بن گئی

غیروں میں بٹ رہا ہے مرا اعتبار آج

احمد حسین مائل

اتنا تو بتا جاؤ خفا ہونے سے پہلے

وہ کیا کریں جو تم سے خفا ہو نہیں سکتے

اسد بھوپالی

خفا ہیں پھر بھی آ کر چھیڑ جاتے ہیں تصور میں

ہمارے حال پر کچھ مہربانی اب بھی ہوتی ہے

اختر شیرانی

حسن یوں عشق سے ناراض ہے اب

پھول خوشبو سے خفا ہو جیسے

افتخار اعظمی

یہی حالات ابتدا سے رہے

لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے

جاوید اختر

عشق میں تہذیب کے ہیں اور ہی کچھ فلسفے

تجھ سے ہو کر ہم خفا خود سے خفا رہنے لگے

عالم خورشید

کسی معشوق کا عاشق سے خفا ہو جانا

روح کا جسم سے گویا ہے جدا ہو جانا

احسن مارہروی

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا

اے سنگ دل تجھے بھی خبر ہے کہ کیا ہوا

عرش صدیقی

وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیا

مجھے کیا امیدیں تھیں کیا ہو گیا

جگت موہن لال رواں

یہ جو راتوں کو مجھے خواب نہیں آتے عطاؔ

اس کا مطلب ہے مرا یار خفا ہے مجھ سے

احمد عطا

چھیڑ مت ہر دم نہ آئینہ دکھا

اپنی صورت سے خفا بیٹھے ہیں ہم

مصحفی غلام ہمدانی

جس کی ہوس کے واسطے دنیا ہوئی عزیز

واپس ہوئے تو اس کی محبت خفا ملی

ساقی فاروقی

میں اپنے آپ سے ہر دم خفا رہتا ہوں یوں آزرؔ

پرانی دشمنی ہو جس طرح دو خاندانوں میں

کفیل آزر امروہوی

لائی ہے کہاں مجھ کو طبیعت کی دو رنگی

دنیا کا طلب گار بھی دنیا سے خفا بھی

مدحت الاختر

میری بیتابیوں سے گھبرا کر

کوئی مجھ سے خفا نہ ہو جائے

علیم اختر

تجھ سے برہم ہوں کبھی خود سے خفا

کچھ عجب رفتار ہے تیرے بغیر

شکیل بدایونی

خفا دیکھا ہے اس کو خواب میں دل سخت مضطر ہے

کھلا دے دیکھیے کیا کیا گل تعبیر خواب اپنا

نظیر اکبرآبادی

یا خفا ہوتے تھے ہم تو منتیں کرتے تھے آپ

یا خفا ہیں ہم سے وہ اور ہم منا سکتے نہیں

مرزا محمد تقی ہوسؔ

خدا سے لوگ بھی خائف کبھی تھے

مگر لوگوں سے اب خائف خدا ہے

نریش کمار شاد

جانے کیوں ان سے ملتے رہتے ہیں

خوش وہ کیا ہوں گے جب خفا ہی نہیں

باقر مہدی

چھیڑا ہے دست شوق نے مجھ سے خفا ہیں وہ

گویا کہ اپنے دل پہ مجھے اختیار ہے

حسرتؔ موہانی

مل بھی جاؤ یوں ہی تم بہر خدا آپ سے آپ

جس طرح ہو گئے ہو ہم سے خفا آپ سے آپ

لالہ مادھو رام جوہر