آنکھ پر ۲۰ مقبول اشعار


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


آنکھ رہزن نہیں تو پھر کیا ہے


لوٹ لیتی ہے قافلہ دل کا

آنکھ سے آنکھ ملانا تو سخن مت کرنا


ٹوک دینے سے کہانی کا مزا جاتا ہے

آنکھیں نہ جینے دیں گی تری بے وفا مجھے


کیوں کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے

دلوں کا ذکر ہی کیا ہے ملیں ملیں نہ ملیں


نظر ملاؤ نظر سے نظر کی بات کرو

ہم محبت کا سبق بھول گئے


تیری آنکھوں نے پڑھایا کیا ہے

ہر ایک آنکھ میں ہوتی ہے منتظر کوئی آنکھ


ہر ایک دل میں کہیں کچھ جگہ نکلتی ہے

ادھر ادھر مری آنکھیں تجھے پکارتی ہیں


مری نگاہ نہیں ہے زبان ہے گویا

اک حسیں آنکھ کے اشارے پر


قافلے راہ بھول جاتے ہیں

جب ترے نین مسکراتے ہیں


زیست کے رنج بھول جاتے ہیں

جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے


وہ دھوکے آج تک میں کھا رہا ہوں

کہیں نہ ان کی نظر سے نظر کسی کی لڑے


وہ اس لحاظ سے آنکھیں جھکائے بیٹھے ہیں

کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سوداؔ


ساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو کہ چلا میں

لڑنے کو دل جو چاہے تو آنکھیں لڑائیے


ہو جنگ بھی اگر تو مزے دار جنگ ہو

پیمانہ کہے ہے کوئی مے خانہ کہے ہے


دنیا تری آنکھوں کو بھی کیا کیا نہ کہے ہے

تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں


ہاں مجھی کو خراب ہونا تھا

ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن


زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو


تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے


دو زہر کے پیالوں میں قضا کھیل رہی ہے

اس کی آنکھیں ہیں کہ اک ڈوبنے والا انساں


دوسرے ڈوبنے والے کو پکارے جیسے

اس کی آنکھوں کو غور سے دیکھو


مندروں میں چراغ جلتے ہیں


آنکھ انسانی جسم کا مرکزی حصہ ہے ۔ اس عضو کی افادیت صرف دیکھنے کی حد تک ہی نہیں بلکہ اس سے آگے بھی اس کے متنوع اور رنگا رنگ کردار ہیں ۔ عشق کے بیانیے میں یہ کردار اور زیادہ دلچسپ ہوجاتے ہیں ۔ شاعروں نے محبوب کی آنکھوں اور ان کی خوبصورتی کو نئے نئے ڈھنگ سے باندھا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور آنکھوں کی مخمور کر دینے والی کیفیتوں کو محسوس کیجئے ۔

comments powered by Disqus