مسکراہٹ پر ۲۰ مقبول اشعار

مسکراہٹ کو ہم انسانی چہرے کی ایک عام سی حرکت سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن ہمارے منتخب کردہ ان اشعار میں دیکھئے کہ چہرے کا یہ ذرا سا بناؤ کس قدر معنی خیزی لئے ہوئے ہے ۔ عشق وعاشقی کے بیانیے میں اس کی کتنی جہتیں ہیں اور کتنے رنگ ہیں ۔ معشوق مسکراتا ہے تو عاشق اس سے کن کن معنی تک پہنچتا ہے ۔ شاعری کا یہ انتخاب ایک حیرت کدے سے کم نہیں اس میں داخل ہویئے اور لطف لیجئے ۔

اس کی ہنسی تم کیا سمجھو

وہ جو پہروں رویا ہے

شوکت پردیسی
  • شیئر کیجیے

ایک بوسہ ہونٹ پر پھیلا تبسم بن گیا

جو حرارت تھی مری اس کے بدن میں آ گئی

کاوش بدری
  • شیئر کیجیے

بجھ گئی شمع کی لو تیرے دوپٹے سے تو کیا

اپنی مسکان سے محفل کو منور کر دے

صدا انبالوی
  • شیئر کیجیے

تجھے ہم دوپہر کی دھوپ میں دیکھیں گے اے غنچے

ابھی شبنم کے رونے پر ہنسی معلوم ہوتی ہے

شفیق جونپوری
  • شیئر کیجیے

تم ہنسو تو دن نکلے چپ رہو تو راتیں ہیں

کس کا غم کہاں کا غم سب فضول باتیں ہیں

نامعلوم
  • شیئر کیجیے

جیسے پو پھٹ رہی ہو جنگل میں

یوں کوئی مسکرائے جاتا ہے

احمد مشتاق
  • شیئر کیجیے

جینے مرنے کا ایک ہی سامان

اس کی مسکان ہو گئی ہوگی

حبیب کیفی
  • شیئر کیجیے

دل میں طوفان ہو گیا برپا

تم نے جب مسکرا کے دیکھ لیا

نامعلوم
  • شیئر کیجیے

دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں

رونے والوں سے ہنسی اچھی نہیں

ریاضؔ خیرآبادی
  • شیئر کیجیے

دھوپ نکلی ہے بارشوں کے بعد

وہ ابھی رو کے مسکرائے ہیں

انجم لدھیانوی
  • شیئر کیجیے

دیکھنے والو تبسم کو کرم مت سمجھو

انہیں تو دیکھنے والوں پہ ہنسی آتی ہے

do not deem her smile to be a sign of grace

she mocks those poor souls who've looked upon her face

do not deem her smile to be a sign of grace

she mocks those poor souls who've looked upon her face

سدرشن فاخر
  • شیئر کیجیے

ذرا اک تبسم کی تکلیف کرنا

کہ گلزار میں پھول مرجھا رہے ہیں

عبد الحمید عدم
  • شیئر کیجیے

مجھے زندگی کی دعا دینے والے

ہنسی آ رہی ہے تری سادگی پر

گوپال متل
  • شیئر کیجیے

مسکرانے کا یہی انداز تھا

جب کلی چٹکی تو وہ یاد آ گیا

نامعلوم
  • شیئر کیجیے

مسکراہٹ ہے حسن کا زیور

مسکرانا نہ بھول جایا کرو

عبد الحمید عدم
  • شیئر کیجیے

میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ ہے

گرچہ سینے میں داغ رکھتا ہوں

شبیر ناقد
  • شیئر کیجیے

ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا

دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے

آنس معین
  • شیئر کیجیے

ہنسی تھمی ہے ان آنکھوں میں یوں نمی کی طرح

چمک اٹھے ہیں اندھیرے بھی روشنی کی طرح

مینا کماری ناز
  • شیئر کیجیے

ہنسی ہے دل لگی ہے قہقہے ہیں

تمہاری انجمن کا پوچھنا کیا

مبارک عظیم آبادی
  • شیئر کیجیے

یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی

یوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا

اصغر گونڈوی
  • شیئر کیجیے

Added to your favorites

Removed from your favorites