قاصد پر شاعری

قاصد کلاسیکی شاعری کا ایک مضبوط کردار ہے اور بہت سے نئے اورانوکھے مضامین اسے مرکز میں رکھ کر باندھے گئے ہیں ۔ وہ عاشق کا پیغام لے کر معشوق کے پاس جاتا ہے ۔ اس طور پر عاشق قاصد کو اپنے آپ سے زیادہ خوش نصیب تصور کرتا ہے کہ اس بہانے اسے محبوب کا دیدار اور اس سے ہم کلامی نصیب ہو جاتی ہے ۔ قاصد کبھی جلوہ یار کی شدت سے بچ نکلتا ہے اور کبھی خط کے جواب میں اس کی لاش آتی ہے ۔ یہ اور اس قسم کے بہت سے دلچسپ مضامین شاعروں نے باندھے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور لطف لیجئے ۔

کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میں

قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں

مومن خاں مومن

قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

مرزا غالب

کوئی نام و نشاں پوچھے تو اے قاصد بتا دینا

تخلص داغؔ ہے وہ عاشقوں کے دل میں رہتے ہیں

داغؔ دہلوی

آتی ہے بات بات مجھے بار بار یاد

کہتا ہوں دوڑ دوڑ کے قاصد سے راہ میں

داغؔ دہلوی

قاصد پیام شوق کو دینا بہت نہ طول

کہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں

جلیل مانک پوری

مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہا

یہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیں

امیر مینائی

نامہ بر تو ہی بتا تو نے تو دیکھے ہوں گے

کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں

قمر بدایونی

مضمون سوجھتے ہیں ہزاروں نئے نئے

قاصد یہ خط نہیں مرے غم کی کتاب ہے

نظام رامپوری

قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے

اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے

خواجہ میر درد

مزا جب تھا کہ میرے منہ سے سنتے داستاں میری

کہاں سے لائے گا قاصد دہن میرا زباں میری

نامعلوم

ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیام

اپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر

جلالؔ مانکپوری

آہ قاصد تو اب تلک نہ پھرا

دل دھڑکتا ہے کیا ہوا ہوگا

میر محمدی بیدار

اشکوں کے نشاں پرچۂ سادہ پہ ہیں قاصد

اب کچھ نہ بیاں کر یہ عبارت ہی بہت ہے

احسن علی خاں

آیا نہ پھر کے ایک بھی کوچے سے یار کے

قاصد گیا نسیم گئی نامہ بر گیا

جلیل مانک پوری

کسی کو بھیج کے خط ہائے یہ کیسا عذاب آیا

کہ ہر اک پوچھتا ہے نامہ بر آیا جواب آیا

احسن مارہروی

وہ اور وعدہ وصل کا قاصد نہیں نہیں

سچ سچ بتا یہ لفظ انہی کی زباں کے ہیں

مفتی صدرالدین آزردہ

زباں قاصد کی مضطرؔ کاٹ لی جب ان کو خط بھیجا

کہ آخر آدمی ہے تذکرہ شاید کہیں کر دے

مضطر خیرآبادی

پھاڑ کر خط اس نے قاصد سے کہا

کوئی پیغام زبانی اور ہے

سردار گینڈا سنگھ مشرقی

وہ کب سننے لگے قاصد مگر یوں ہی سنا دینا

ملا کر دوسروں کی داستاں میں داستاں میری

نامعلوم

یا اس سے جواب خط لانا یا قاصد اتنا کہہ دینا

بچنے کا نہیں بیمار ترا ارشاد اگر کچھ بھی نہ ہوا

حقیر

کیا بھول گئے ہیں وہ مجھے پوچھنا قاصد

نامہ کوئی مدت سے مرے کام نہ آیا

فنا بلند شہری

پھرتا ہے میرے دل میں کوئی حرف مدعا

قاصد سے کہہ دو اور نہ جائے ذرا سی دیر

داغؔ دہلوی

قیامت ہے یہ کہہ کر اس نے لوٹایا ہے قاصد کو

کہ ان کا تو ہر اک خط آخری پیغام ہوتا ہے

شعری بھوپالی

خط شوق کو پڑھ کے قاصد سے بولے

یہ ہے کون دیوانہ خط لکھنے والا

سائل دہلوی

کہنا قاصد کہ اس کے جینے کا

وعدۂ وصل پر مدار ہے آج

مردان علی خاں رانا

خط کے پرزے آئے ہیں قاصد کا سر تصویر غیر

یہ ہے بھیجا اس ستم گر نے مرے خط کا جواب

نامعلوم

قاصد پیام ان کا نہ کچھ دیر ابھی سنا

رہنے دے محو لذت ذوق خبر مجھے

اثر لکھنوی

جب اس نے مرا خط نہ چھوا ہاتھ سے اپنے

قاصد نے بھی چپکا دیا دیوار سے کاغذ

پیر شیر محمد عاجز

مرا خط پڑھ لیا اس نے مگر یہ تو بتا قاصد

نظر آئی جبیں پر بوند بھی کوئی پسینے کی

ہیرا لال فلک دہلوی

تو دیکھ رہا ہے جو مرا حال ہے قاصد

مجھ کو یہی کہنا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

کیف دہلوی

پتا ملتا نہیں اس بے نشاں کا

لیے پھرتا ہے قاصد جا بجا خط

بہرام جی

خط کا یہ جواب آیا کہ قاصد گیا جی سے

سر ایک طرف لوٹے ہے اور ایک طرف دھڑ

ولی اللہ محب

کیا مرے حال پہ سچ مچ انہیں غم تھا قاصد

تو نے دیکھا تھا ستارہ سر مژگاں کوئی

نامعلوم

خط دیکھ کر مرا مرے قاصد سے یوں کہا

کیا گل نہیں ہوا وہ چراغ سحر ہنوز

ماتم فضل محمد

پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوں

قاصد کو ادھر بھیج کے دھیان آئے ہے کیا کیا

جلالؔ لکھنوی

دیکھ قاصد کو مرے یار نے پوچھا تاباںؔ

کیا مرے ہجر میں جیتا ہے وہ غم ناک ہنوز

تاباں عبد الحی

قاصد جو گیا میرا لے نامہ تو ظالم نے

نامے کے کیے پرزے قاصد کو بٹھا رکھا

مصحفی غلام ہمدانی

جواب نامہ یا دیتا نہیں یا قید کرتا ہے

جو بھیجا ہم نے قاصد پھر نہ پائی کچھ خبر اس کی

شیخ ظہور الدین حاتم

نامہ بر ناامید آتا ہے

ہائے کیا سست پاؤں پڑتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر